أليست بلاد الإسلام أولى بإعلان الخلافة الراشدة بدلا من إعلان الحروب الحاقدة على المسلمين!!
أليست بلاد الإسلام أولى بإعلان الخلافة الراشدة بدلا من إعلان الحروب الحاقدة على المسلمين!!

 الخبر:   استبعد وزير الخارجية الروسي لافروف توقف الغارات الروسية في سوريا قبل إلحاق الهزيمة بتنظيمي «الدولة» و«النصرة»، جاء ذلك عقب المحادثات التي أجراها في مسقط، وقال لافروف: «إنني لا أرى أي سبب لإيقاف عملية القوات الجوية والفضائية الروسية في سوريا، طالما لم يتم إلحاق الهزيمة بالإرهابيين».

0:00 0:00
Speed:
February 06, 2016

أليست بلاد الإسلام أولى بإعلان الخلافة الراشدة بدلا من إعلان الحروب الحاقدة على المسلمين!!

أليست بلاد الإسلام أولى بإعلان الخلافة الراشدة

بدلا من إعلان الحروب الحاقدة على المسلمين!!

الخبر:

استبعد وزير الخارجية الروسي لافروف توقف الغارات الروسية في سوريا قبل إلحاق الهزيمة بتنظيمي «الدولة» و«النصرة»، جاء ذلك عقب المحادثات التي أجراها في مسقط، وقال لافروف: «إنني لا أرى أي سبب لإيقاف عملية القوات الجوية والفضائية الروسية في سوريا، طالما لم يتم إلحاق الهزيمة بالإرهابيين».

وأوضح وزير الخارجية الروسي خلال زيارة للسلطنة استغرقت يومين التقى خلالها بعدد من المسؤولين بالدولة، أن العلاقات بين السلطنة وروسيا غير خاضعة لأي مؤثرات زائفة فهي لديها قيمتها الخاصة. وقال: نحن راضون عن هذه المحادثات التي تساهم في تطوير علاقاتنا الثنائية والتي ساعدتنا في تفهم عدد من القضايا الإقليمية. كما أشار إلى أنه سيكون هناك خط جوي قريباً بين البلدين وتدفق للسياح الروس ومشاريع في الطاقة والنفط.

من جهته أكد يوسف بن علوي بن عبد الله الوزير المسؤول عن الشؤون الخارجية، أن مسقط وموسكو لديهما آراء مشتركة حول ملفات المنطقة خاصة في سوريا واليمن وليبيا (المصدر: مسقط وعواصم ـــ عمان ـــ وكالات)

التعليق:

رغم إجرامها البَواح في حق المسلمين، إلا أن روسيا ما زالت تسرح وتمرح وتحظى بالترحيب من حكومات متواطئة معها عسكريا أو سياسيا في حربها الشنيعة على بلاد الشام. من الإمارات إلى سلطنة عُمان، تتسارع الحكومات في استقبال مجرم الحرب على العلن وبدون استحياء من شعوبها ومن إخوتنا وأخواتنا في سوريا الذين سالت دماؤهم، وانتهكت حرماتهم. وإنه من المؤلم والمخزي أن تُفتح الأبواب أمام أعداء الله ورسوله والمسلمين، وتؤصد أمام مئات الأطفال والثكالى والعجّز المسلمين الذين يقتّلون بأيدي ضيوف بلادنا!

والسؤال المطروح في هذا المقام: لماذا تأتي هذه التصريحات من بلاد إسلامية؟ ومن الذي منح لافروف هذه الجرأة حتى يهدد ويتوعد بمزيد من سفك دماء المسلمين، وهو ضيف رخيص على أرض المسلمين؟؟

تتكرر سياسة إعلان الحروب على المسلمين من بلادهم وبدعم من حكوماتهم، إمعاناً في إذلالهم وإشعارهم بالعجز، وترسيخاً منهم لعقلية الانهزامية أمام الغرب الكافر. فقد سبق لوزيرة خارجية يهود أن أعلنت الحرب على غزة من أرض الكنانة، وسبق لهولاند أن شن الحرب على مالي من الإمارات، وها هو اليوم قرينهم السفاح لافروف يؤكد من عُمان استمرار الحرب على المسلمين. هذه العداوة والبغضاء التي بدت من أفواههم ما كانت لتكون لولا وجود حكام خونة، ومباركة علماء السلاطين الذين يضفون الصبغة الشرعية على هذه المواقف المخزية ويجعلون منها تُكأة في محاربة الإرهاب. وكما تتشابه مواقف الأعداء من الغرب الحاقد المستعمر في تبني سياسة الإذلال، تتشابه مواقف الحكام في بلادنا في تبني سياسة الاستسلام والتبعية لأسيادهم.. فأن تستقبل بلد مثل عُمان مجرم حرب وتمنحه المنابر الإعلامية والسياسية فهذا يبين تصريحا لا تلميحا مقاومتها لثورة الشام المباركة ودعمها للسفاح بشار. فعدم مشاركتها في التحالف المحارب في سوريا كما شقيقاتها في منطقة الخليج، لا يعني عدم انحيازها واصطفافها مع أعداء الثورة.. وهذا ما يفسر موقف وزير الشؤون الخارجية في مسقط بقوله "إن مسقط وموسكو لديهما آراء مشتركة حول ملفات المنطقة خاصة في سوريا واليمن وليبيا"..

ويأتي الوجود الروسي "الحديث" في عُمان والإمارات ليبين احتدام الصراع البريطاني الأمريكي على منطقة الخليج، خصوصا أن عُمان "مستعمرة" بريطانية بامتياز. فأمريكا تقحم روسيا في المنطقة لتخدم بها مصالحها الإستعمارية ولتزاحم النفوذ البريطاني من خلال دعم مشاريع الطاقة والنفط التي كانت تتفرد بها شركات بريطانية، مثل شركة امتيازات النفط المحدودة وشركة بي بي، ومن خلال تدفق السياح والمستثمرين الروس..

 فأن ترجع روسيا حاضرة في الشأن الدولي، وبالذات في منطقة الشرق الأوسط ومنها الخليج، فهذا لا يعني بسط نفوذها من جديد بعد تقلصه منذ تفكك الاتحاد السوفياتي، حتى أصبحت روسيا في طريقها للاندثار.. فعودتها الجديدة هذه ليست صحوة للدب الروسي، وإنما هي محاولة للزج بها وجعلها الواجهة القبيحة لسياسة أمريكا في المنطقة.

وتبقى ثورة الشام المباركة هي الكاشفة الفاضحة لمواقف الخيانة الجماعية، وهي كذلك القاضية على سياسات الغرب الحاقد من روسيا وأمريكا وبريطانيا، وهي الصامدة الأبية أمام مخططاتهم المرتجفة والقاصرة. فاللهم نسألك أن تبارك لنا في هذه الثورة وتكللها بدحر كيانات الاستعمار وإعلانها خلافة راشدة على منهاج النبوة.

﴿لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ * مَتاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْواهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهادُ * لكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهمْ جَنَّات تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ خالِدِينَ فِيها نُزُلاً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَما عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرارِ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فاطمة بنت محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست