اليوم العالمي للديمقراطية: وصاية استعمارية لترسيخ ثقافة غربية
اليوم العالمي للديمقراطية: وصاية استعمارية لترسيخ ثقافة غربية

نظمت المنظمة الأمريكية (IFES) والهيئة العليا المستقلة للانتخابات يوم الجمعة 2019/09/13 منتدى احتفاليا تحت عنوان "الإدماج في خدمة الديمقراطية" بمناسبة اليوم الدّوليّ للدّيمقراطيّة بفضاء (ARENA) للمؤتمرات بمنطقة بالبحيرة، قام بتدشينه محمد الطرابلسي وزير الشؤون الاجتماعية بحضور رؤساء كل الهيئات المستقلة كالهيئة الوطنية المستقلة لمكافحة الفساد والهيئة الوطنية لمكافحة الاتجار بالبشر... وذلك بإشراف الصحفي السابق بقناة البي بي سي مكي هلال وحضور منظمات المجتمع المدني وممثلي السفارات كان أبرزهم سفيرة بريطانيا.

0:00 0:00
Speed:
October 04, 2019

اليوم العالمي للديمقراطية: وصاية استعمارية لترسيخ ثقافة غربية

اليوم العالمي للديمقراطية: وصاية استعمارية لترسيخ ثقافة غربية


الخبر:


نظمت المنظمة الأمريكية (IFES) والهيئة العليا المستقلة للانتخابات يوم الجمعة 2019/09/13 منتدى احتفاليا تحت عنوان "الإدماج في خدمة الديمقراطية" بمناسبة اليوم الدّوليّ للدّيمقراطيّة بفضاء (ARENA) للمؤتمرات بمنطقة بالبحيرة، قام بتدشينه محمد الطرابلسي وزير الشؤون الاجتماعية بحضور رؤساء كل الهيئات المستقلة كالهيئة الوطنية المستقلة لمكافحة الفساد والهيئة الوطنية لمكافحة الاتجار بالبشر... وذلك بإشراف الصحفي السابق بقناة البي بي سي مكي هلال وحضور منظمات المجتمع المدني وممثلي السفارات كان أبرزهم سفيرة بريطانيا.

التّعليق:


بداية وقبل الحديث عن تفاصيل المنتدى لنسترجع تاريخيّة هذه المناسبة الّتي هي من تأسيس الجمعيّة العامّة للأمم المتّحدة سنة 2007، بغرض تعزيز مبادئ الدّيمقراطيّة وأسسها، وفيها تدعو جميع الدّول والأعضاء والمنظّمات إلى الاحتفال بطريقة تستميل بها الرّأي العام، وإنّ هذا المشروع الغربي العقيم حقيقة لا يستهدف استهدافا منتجا غير دول العالم الإسلاميّ، إذ ابتدأ العمل عليه منذ سنة 1988 لتتلقّفه الدّولة القطريّة بنهم الجائع ليصل إلى تونس سنة 2016.


حقيقة منظّمة (IFES):


هي "المؤسّسة الدّوليّة للنّظُم الانتخابية"، تعمل على تلقين الدّول ثقافة الانتخابات من وجهة نظر ديمُقراطيّة رأسماليّة وتركّز خاصّة على مشروع "إدماج الفئات في العمليّة الدّيمُقراطيّة حيث تستغلّ الطّبقات الهشّة من المجتمع بما فيها من نساء عاملات في القطاع الصّناعي والفلاحي، وشباب معطّل عن العمل وبصفة خاصّة الأشخاص ذوي الاحتياجات الخصوصيّة كما تستغلّ بصفة أشدّ، عجز الأحزاب السّياسيّة والدّول على تأطير هذه الفئة ليكونوا في الأخير مجرّد خزّانات انتخابية لعملاء الاستعمار فيضافوا إلى رصيدهم الانتخابي بطبيعة أنّ أمريكا من أسّست لهذا الفخ الحداثيّ وهي التي علاقاتها بالدول تقوم ضرورة على المصلحة والنّفعية.


إنّ الغرب عموما والأمم المتّحدة خاصّة من تشرف على تمويل هذا المشروع وهي ليست أهلا للتصدق على شباب المسلمين أو لرعاية شؤونهم، وشعوبهم غرقى في الفساد والانحراف والفشل على مستوى الإنسان، ومن بعدهم بريطانيا الغائبة الحاضرة بإملاءاتها والحاضرة حضورا ذهنيا وماديّا باشتراك جنودها في هذا المشروع الديمقراطي.


نعم، إنّ هؤلاء لم يغدقوا أموالهم ووقتهم الثّمين على شباب مهمّش عانى سنوات من التّغريب والسّلب والإقصاء المجتمعي والسّياسي، وهؤلاء لم يتكلّفوا التّأطير والإحاطة إلاّ طمعا في تمرير ثقافتهم وإرضاعها في جسد الأمّة الهزيل بقوّة المال والمصالح بالسيطرة على عملائهم في بلاد المُسلمين حتّى يضغطوا على عقول النّاس وذلك بعد أن نجحوا في إسقاط دولة الخلافة عام 1924م، الدّولة الّتي من شأنها رعاية شؤون النّاس والسّهر على أداء متطلّباتهم وهي من تسدّ عنهم أيّ تطفّل استعماري يدّمر الفرد والمجتمع ويجعله منصهرا في ثقافات لا رابطة بينها وبين العقيدة الإسلاميّة.


إننّا كمسلمين وأصحاب مبدأ سويّ لا اعوجاج فيه نرفض هذه الثّقافة الغربيّة المُخالفة كل الخلاف لعقيدتنا الإسلاميّة حيث يكون الحُكم في الإسلام للّه وبشرع اللّه، أي بأحكام يشرّعها ربُّ العقل، لأنّه خالق ومدبّر وبذلك فهو عالم تمام العلم والكمال بتركيبتنا البيولوجيّة والنّفسيّة وبما يحويه محيطنا من مادّة وما يربطنا به من علاقات فيهبنا نظاما يتماشى مع هذا الظّرف فيحصل به المراد وهو صلاح في الدّنيا والآخرة، وأمّا إن تأتّى النّظام من العقل أي من بشريّ خلقه الله عزّ وجلّ فإنه يكون نظاما ناقصا وإن شددنا الأمر فهو فاسد لا يصلح أن يرعى شأن الإنسان لأن العقل الإنسانيّ، أي من شرّع، يخضع للزيادة والنقصان والتفاوت والتفويت والعلل وإن سما، ولهذا فإنّ الدّيمقراطيّة هذه الفكرة الواهية إنّما هي تعويذة غربيّة أسّس لها الطّفلة حتّى يزرعوا في الأمة جهلا متكلّسا فيفسح الطّريق لخدمة مصالحه السّياسيّة فالذّاتيّة رغبة في البقاء وإشباعا لجوعة التمدّد على الأرض، لا غير!


رغم الهدف الخبيث الّذي لأجله نُظّم المنتدى إلاّ أنّ فشلهم المدقع في إدارته واضح رأي الأعين، وخوفهم من إمكانيّة إجهاض مشروعهم الّذي عملوا عليه لمدى طويل أوضح وألمع، حيث إنّ شباب الأمّة قد تفطّن لكمينهم الحداثيّ وعرف خططهم وحقدهم الدّفين في صرفهم عن قضيّتهم العادلة غير إلهائهم، ولكن هيهات هيهات فإنّهم فقط يقدمون على ترويض أسد جائع للنّصر بعشب رخيص وعرض من الدّنيا قليل.


قٓالٓ اللّهُ عٓزّٓ وٓجٓلّٓ: ﴿مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِن تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ﴾ {آل عمران: 179}

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
رحاب عُمري – ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست