اليوم العالمي للمرأة  رثاءٌ سنوي لفشل النظام الديمقراطي في حلّ مشاكل المرأة
اليوم العالمي للمرأة  رثاءٌ سنوي لفشل النظام الديمقراطي في حلّ مشاكل المرأة

الخبر: في الثامن من آذار/مارس، نزلت النساء إلى شوارع المدن في مختلف أنحاء العالم، بما في ذلك البلدان الإسلامية، للاحتفال باليوم العالمي للمرأة، مطالبات بإنهاء العنف ضدّ المرأة وإنهاء عدم المساواة بين الجنسين. تمّ الاحتفال باليوم العالمي للمرأة لأول مرة قبل أكثر من قرن، بالتحديد في عام 1911، واعترفت به الأمم المتحدة رسمياً عام 1977. استوحي هذا اليوم من نضال آلاف المطالبات بحقّ المرأة في التصويت اللاتي طالبن بمزيد من الحقوق للمرأة، بما في ذلك الحقّ في التصويت والسيطرة على أموالهن وممتلكاتهن.

0:00 0:00
Speed:
March 12, 2025

اليوم العالمي للمرأة رثاءٌ سنوي لفشل النظام الديمقراطي في حلّ مشاكل المرأة

اليوم العالمي للمرأة

رثاءٌ سنوي لفشل النظام الديمقراطي في حلّ مشاكل المرأة

(مترجم)

الخبر:

في الثامن من آذار/مارس، نزلت النساء إلى شوارع المدن في مختلف أنحاء العالم، بما في ذلك البلدان الإسلامية، للاحتفال باليوم العالمي للمرأة، مطالبات بإنهاء العنف ضدّ المرأة وإنهاء عدم المساواة بين الجنسين. تمّ الاحتفال باليوم العالمي للمرأة لأول مرة قبل أكثر من قرن، بالتحديد في عام 1911، واعترفت به الأمم المتحدة رسمياً عام 1977. استوحي هذا اليوم من نضال آلاف المطالبات بحقّ المرأة في التصويت اللاتي طالبن بمزيد من الحقوق للمرأة، بما في ذلك الحقّ في التصويت والسيطرة على أموالهن وممتلكاتهن.

التعليق:

اليوم العالمي للمرأة ما هو إلا تذكير سنوي بحقيقة مفادها أنّ النساء اضطررن إلى محاربة الأنظمة الديمقراطية في دولهن من أجل تأمين حقوقهن الأساسية مثل الحقوق السياسية والاقتصادية والتعليمية التي يتمتع بها الرجال، والحماية من العنف، ولم تكن هذه الحقوق منصوصاً عليها بشكل افتراضي. والواقع أن النساء في ظلّ هذه الأنظمة كنّ يُنظر إليهنّ على أنهنّ أدنى من الرجال روحياً وفكرياً وعقلانياً. بل حتى المفكرين الغربيين مثل فولتير وروسو وديدرو ومونتسكيو، الذين كانوا من الشخصيات الرئيسية في "عصر التنوير" الغربي الذي دعا إلى فصل الكنيسة عن الدولة ــ الأساس الذي قامت عليه العلمانية ــ وصفوا النساء بأنهنّ عاجزات بطبيعتهنّ عن تطوير كامل قدراتهن على التفكير، ووصفوهن بأنهنّ مخلوقات عاطفية وبالتالي غير مناسبات للمجال العام. وما اليوم العالمي للمرأة إلا تذكير سنوي بحقيقة مفادها أنّ النظام الديمقراطي، بل وجميع الأنظمة التي صنعها الإنسان، ما زالت تفشل فشلاً ذريعاً في حماية النساء من العنف والفقر المدقع والاستغلال الاقتصادي والجنسي، وكل أشكال القمع والظلم الأخرى. اليوم، في البلدان التي نشأت فيها حركة المطالبة بحقّ المرأة في التصويت والمنظمات النسوية، يتفشّى العنف القائم على النّوع الجنسي، والفقر المدقع، وإضفاء الصفة الجنسية على المرأة، والاتجار الجنسي والاقتصادي بالنساء. في أمريكا، تعرضت 81٪ من النساء للتحرش الجنسي أو الاعتداء في حياتهن، وتُقتل ما يقرب من 3 نساء أمريكيات كل يوم على يد شركائهن الحميمين. تعرضت واحدة من كل ثلاث نساء في الاتحاد الأوروبي للعنف في مرحلة البلوغ، وهو ما يعادل حوالي 50 مليون امرأة. وفي المملكة المتحدة، وجد تحقيق أجرته هيئة الأمم المتحدة للمرأة أن 97٪ من النساء في سن 18-24 تعرضن للتحرش الجنسي؛ وتُقتل حوالي امرأتين كل أسبوع في إنجلترا وويلز على يد شريك حالي أو سابق. وعلاوةً على ذلك، فإن أكثر من 30% من الأسر في أمريكا التي تعولها نساء عازبات لديهن أطفال كانت فقيرة، بينما وفقاً للبرلمان الأوروبي، فإن خطر الفقر أو الإقصاء المجتمعي في الاتحاد الأوروبي بالنسبة للنساء بلغ نحو 23% وهو مستوى أعلى من ذلك بالنسبة للرجال.

واليوم العالمي للمرأة ما هو إلا تذكير سنوي بأنّ حقوق المرأة وكرامتها وحمايتها تطبقها المنظمات النسوية والحكومات الليبرالية بشكل انتقائي بناءً على أجنداتها ومصالحها السياسية. ومن الواضح أن جميع اتفاقيات حقوق المرأة والمواثيق ضدّ العنف القائم على النوع الجنسي لاغية وباطلة عندما يتعلق الأمر بحماية وحقوق النساء المسلمات في فلسطين وميانمار واليمن وكشمير وأماكن أخرى، حيث يتمّ قتلهن واغتصابهن وتجويعهن وطردهن من منازلهن وحرمانهن من الوصول إلى التعليم والرعاية الصحية. في حين تفشل مثل هذه الحكومات العلمانية ومنظمات الأمم المتحدة النسائية والجماعات النسوية في تحريك إصبع لوقف معاناتهن. والواقع أنّ اليوم العالمي للمرأة يجب أن يكون بمثابة تذكير صارخ بأن النظام الديمقراطي لا يحمل أي حلّ واضح للمشاكل التي تواجهها النساء، بل إنه المصدر الأساسي لقمعهن، بعد أن أوجد بيئات بقيمه الليبرالية، مثل الحريات الجنسية، ناضجة للعنف واستغلال النساء. إن هذا إلى جانب تطبيق النظام الاقتصادي الرأسمالي خلق التفاوت في الثروة والفقر بين النساء، ونظر إلى النساء على أنهن مجرد أدوات إنتاج لزيادة عائدات الشركات والدول، ما أجبرهن على التنازل عن دورهن الحيوي كزوجات وأمهات من أجل دخول سوق العمل لتوفير احتياجات أنفسهن وأسرهن. لذلك، لا ينبغي أن يكون يوم المرأة العالمي يوماً للاحتفال بل يوماً للتفكير في الحاجة إلى نظام بديل لحماية النساء وحقوقهن.

وباعتبارنا مسلمين، لماذا نريد البحث عن حلول في مكان آخر للمشاكل التي تعاني منها النساء في البلاد الإسلامية، بينما وضع الله سبحانه وتعالى منهجاً كاملاً لكيفية حلّ هذه القضايا بنجاح، ووصف نظاماً قاد العالم في ضمان الاحترام والمعاملة الجيدة والحماية من العنف والاستغلال، وضمان الحقوق السياسية والتعليمية والاقتصادية للمرأة؟! هذا النظام هو نظام الخلافة. فالإسلام هو الذي أعلن للعالم أن المرأة لها نفس المكانة الروحية والعقلية والذهنية التي يتمتع بها الرجل، وألزم الرجال بالنظر إليها ومعاملتها باحترام، قال النبي ﷺ: «أكرموا النساء، فوالله ما أكرمهن إلا كريم، وما أهانهن إلا لئيم». والإسلام هو الذي أعطى المرأة الحق في انتخاب حاكمها ومحاسبته؛ وقاد العالم في حقوق الميراث للمرأة وأعطاها السيطرة الكاملة على ثروتها وممتلكاتها. والإسلام هو الذي حرم أي شكل من أشكال العنف ضد المرأة ومنحها الحق في طلب الطلاق في حالة الزواج التعيس. والإسلام هو الذي شجع النساء على الدراسة وأنتج آلاف العالمات. والإسلام هو الذي يقدّر حقاً الدور الحيوي للمرأة كزوجة وأم، ويرفع عنها عبء إعالة نفسها مالياً بوضع هذا كواجب على أقاربها الذكور أو الدولة.

لذا، بصفتنا نساء مسلمات، لسنا بحاجة إلى يوم المرأة العالمي. ما نحتاج إليه هو إقامة نظام الله سبحانه وتعالى، الخلافة الذي سيعيد للمرأة حقوقها التي أعطاها الله لها، ويضمن لها الكرامة والحماية والرخاء والأمن، ويكون نموذجاً للعالم في حسن معاملتها.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسماء صديق

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست