اليوم العالمي للطفل، احتفال بقتل الأطفال وتجويعهم حتى الموت!
اليوم العالمي للطفل، احتفال بقتل الأطفال وتجويعهم حتى الموت!

الخبر:    يصادف العشرين من تشرين الثاني/نوفمبر كل عام اليوم العالمي للطفل، وتحتفل الأمم المتحدة هذا العام به تحت شعار: #الأطفال_يتولون_المهمة. حيث دعت وكالة اليونيسيف الأطفال "من جميع أنحاء العالم إلى تولي الأدوار الرئيسية في وسائل الإعلام والسياسة والأعمال والرياضة والترفيه للتعبير عن دعمهم لملايين أقرانهم الذين هم غير متعلمين وغير محميين واقتلعوا في 20 تشرين الثاني/نوفمبر." [الصفحة الرئيسية للأمم المتحدة 2017/11/20]

0:00 0:00
Speed:
November 22, 2017

اليوم العالمي للطفل، احتفال بقتل الأطفال وتجويعهم حتى الموت!

اليوم العالمي للطفل، احتفال بقتل الأطفال وتجويعهم حتى الموت!

الخبر:

 يصادف العشرين من تشرين الثاني/نوفمبر كل عام اليوم العالمي للطفل، وتحتفل الأمم المتحدة هذا العام به تحت شعار: #الأطفال_يتولون_المهمة. حيث دعت وكالة اليونيسيف الأطفال "من جميع أنحاء العالم إلى تولي الأدوار الرئيسية في وسائل الإعلام والسياسة والأعمال والرياضة والترفيه للتعبير عن دعمهم لملايين أقرانهم الذين هم غير متعلمين وغير محميين واقتلعوا في 20 تشرين الثاني/نوفمبر." [الصفحة الرئيسية للأمم المتحدة 2017/11/20]

التعليق:

عام 2017، #إنه_عام_الأطفال كما أطلقت عليه اليونيسيف حسب موقع الأمم المتحدة سابق الذكر، في بيانها! تدعو الأمم المتحدة أطفال العالم لأخذ مكانهم في الإعلام والسياسة والرياضة والأعمال وغيرها، لأجل دعم أقرانهم. فعن أي أطفال يتحدثون وعن أي أقران؟ ومن سيدعم من بالضبط؟ فإن المستطلع لأحوال المسلمين - على نطاق ضيق، دون التطرق لباقي البشر - سيحار في أمره وهو يسمع مثل هذه الدعوات التي تنِّم إمَّا عن جهل مطبق بالواقع الذي يعيشه الأطفال، أو استخفاف كبير بما يصيبهم من مآسٍ ينشغلون بها عن مؤازرة غيرهم.

عام الأطفال يأتي وهم منشغلون بالأعمال المجحفة بحقهم لأجل توفير لقمة العيش كما يحدث للاجئي سوريا في لبنان والأردن وغيرهما، ومنشغلون بالبحث عمَّا يسكت جوعهم في اليمن والصومال حيث المجاعات الأكثر فتكاً في تاريخ البشرية، ومنشغلون بالبكاء على أقرانهم وصحبهم وأهليهم في الشام وبورما حيث الجحيم على الأرض، وكل ذلك تحت سمع الأمم المتحدة وبصرها وبرضاها ودعمها، ولا يغرنَّ أحداً ثرثراتُها عن قلقها عليهم بين الفينة والأخرى.

فحسب إحصائية نشرتها اليونيسيف في أيلول/سبتمبر الماضي ذُكر أن قرابة 8.5 مليون طفل سوري تأثروا بما يجري من صراع في بلادهم. وفقًا لتقرير صادر عن الجمعية الدولية لحقوق اللاجئين، فإن الأطفال في سوريا يدفعون الثمن الأكبر. [أورينت 2017/11/21]. أما في العراق فقد نشر موقع الرأي اليوم "عن مسؤول عراقي في المفوضية المستقلة لحقوق الإنسان اليوم الاثنين 11/20، قوله إن واقع الطفولة في البلاد "مأساوي" وعزا السبب إلى إهمال الحكومة."

نتعجب بعد هذه الأرقام الفاضحة للنظام الدولي، وهي ليست إلا غيضاً من فيض، أن تتحدث الأمم المتحدة بمثل المنطق الذي تتحدث به عن ضرورة مشاركة الأطفال وتوليهم للمسؤولية. إذا كان "الكبار" غير قادرين على رعاية شؤون البشرية، فإن الدعوة لتولية المهام للصغار هي استخفاف بشؤون البشر، وسخرية من أطفالٍ لم يروا من هذا العالم إلا القتل والتشريد ولم يعايشوا سوى الفقر والحرمان.

دعوات الأمم المتحدة عبر جمعياتها ومنظماتها المختلفة، بمختلف المناسبات، ليست إلا محاولة بائسة للنظام الدولي لتغطية عواره، وستر فشله عن الأعين. هذا النظام الذي يستطيع صرف مليارات الدولارات على الحروب، ولكنَّه عاجز عن صرف عُشر العُشر على إطعام الأطفال أو تعليمهم، وهي الحقوق التي يتغنى النظام الدولي بوجوب توفيرها للأطفال بشكل متساوٍ للجميع. نظام يصرف الملايين على مؤتمرات كمؤتمر الكويت الذي عقد في 14 الشهر الجاري لمناقشة أوضاع الطفل الفلسطيني وخرج بنتيجة مفادها أن هناك 95 ألف طفل تحت خط الفقر، ينتهك الاحتلال حقوقهم التي أقرتها اتفاقية حقوق الطفل، ودعا للالتزام باتفاقية جنيف. ولكنَّه لا يستطيع صرف دولار واحد في اتجاه الحل الجذري الذي ينهي مأساة هؤلاء الأطفال وينقذهم من الاحتلال والفقر. فجميع هؤلاء لا يستطيعون الخروج عن الخط المرسوم!

تُعقد المؤتمرات، وتوقَّع العهود والمواثيق الدولية، لكنَّها كلُّها حبر على ورق. ولا يعنيهم في شيءٍ موت طفل مسلم في الشام برصاصة قناص أو موت أخيه جوعاً في اليمن. قال نائب مدير رابطة جمعية حقوق اللاجئين، المحامي عبد الله رسول دمير، للأناضول، إن "الأطفال هي الفئة الأكثر تضرراً من الحرب في سوريا، لأنهم ربما الأكثر احتياجاً للحماية". وأضاف دمير، أن "القانون الدولي وضع تعريفاً لحقوق الطفل، ولكن رأينا خلال السنوات الست الماضية، أن كافة القوانين الدولية فشلت في الامتحان عندما أصبح الموضوع متعلقاً بأطفالنا في سوريا". [موقع أورينت 11/21]

هذا الحال مستمر، وحسب الأمم المتحدة ذاتها "يعيش 180 مليون طفل في 37 بلداً، حيث من المُرجّح أن يعيشوا في فقر مُدقِع، أو أن يَتركوا المدرسة، أو أن يُقتَلوا بسبب العنف مقارنةً بالأطفال الذين عاشوا في تلك البلدان منذ 20 عاما." [موقع المصري اليوم 2017/11/20] فالمأساة لن تتوقف، والأنظمة تعلن عجزها عن التغيير، وليس الحديث عن مستقبل أفضل في ظل هذه الأنظمة إلا تنظيراً ليس إلا. فقد اتسع الرتق على الراقع، وبات من المحال التعايش مع الأنظمة المطبقة في بلاد المسلمين والتي تجرُّ الأمة من سيئ لأسوأ: أطفالها وشبابها وشيوخها، الجميع في المصيبة سواء.

ولن ينهي هذا الحال، إلا دولة صاحبة سيادة، تطبق شريعة الله عزّ وجلَّ فتكون الرئاسة فيها مسؤولية عن أرواح البشر وكراماتهم وأعراضهم، يخاف فيها الخليفة أن يُمسَّ فرد بأذى فيُحاسب عنه في الدنيا قبل الآخرة. دولة تطبق نظاماً اقتصادياً ناجعاً كفيلاً بأن يضمن الحاجات الأساسية للجميع على السواء فعلاً لا تنظيراً، تُوزَّع فيه الثروات على الأمة ويكون للطفل فيها نصيب مفروض منذ ولادته، ويكون فيها الخليفة أبا العيال إن غاب أبوهم. دولة تطبق نظاماً هو من عند الله اللطيف الخبير، قوانينه هي أحكام شرعية واجبة التنفيذ، تُقطع فيها يد الحاكم إن كان السارق جائعاً، ويردُّ من مال الأغنياء للفقراء، وتوزَّع الصدقات فلا تجد جائعاً يأخذها ولا مريضاً محتاجاً. هي دولة الخلافة الراشدة.

فلأجلها فليعمل كلُّ غيور على أطفال المسلمين. فبها تُستأصل شأفة الأعداء ناهبي الثروات سارقي السعادة من على وجوه أطفالنا. ولمثل هذا فليعمل العاملون.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أختكم: بيان جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست