أما آن لجيوش المسلمين أن تتحرك لنصرة الشام وأهله؟!
أما آن لجيوش المسلمين أن تتحرك لنصرة الشام وأهله؟!

الخبر:   يقوم الطيران الروسي منذ فترة باستعمال الفوسفور الأبيض والقنابل العنقودية في الشام، والفوسفور الأبيض هو سلاح يتمتع بقدرة بالغة على الحرق ويولد درجة حرارة كبيرة تؤدي إلى تفحم الأجسام والكائنات الحية المعرضة لها، ووفق خبراء فإن هذا السلاح شديد التدمير والمحرم دوليا يدمر كما أسلحة الدمار الشامل من غير إصدار إشعاعات، وأن بوسع القنابل الفوسفورية تدمير مساحات شائعة يحتاج تدميرها إلى عدد كبير من المدافع والصواريخ العادية.

0:00 0:00
Speed:
June 30, 2016

أما آن لجيوش المسلمين أن تتحرك لنصرة الشام وأهله؟!

أما آن لجيوش المسلمين أن تتحرك لنصرة الشام وأهله؟!

الخبر:

يقوم الطيران الروسي منذ فترة باستعمال الفوسفور الأبيض والقنابل العنقودية في الشام، والفوسفور الأبيض هو سلاح يتمتع بقدرة بالغة على الحرق ويولد درجة حرارة كبيرة تؤدي إلى تفحم الأجسام والكائنات الحية المعرضة لها، ووفق خبراء فإن هذا السلاح شديد التدمير والمحرم دوليا يدمر كما أسلحة الدمار الشامل من غير إصدار إشعاعات، وأن بوسع القنابل الفوسفورية تدمير مساحات شائعة يحتاج تدميرها إلى عدد كبير من المدافع والصواريخ العادية.

التعليق:

لا يخفى على أحد حجم الانتصارات التي حققها المسلمون الأوائل في شهر رمضان المبارك يوم كان للمسلمين دولة همها الأوحد تطبيق الإسلام وحمله للعالم. ففي رمضان كان النصر المؤزر في غزوة بدر الكبرى، وفي رمضان كان الفتح المبين، فتح مكة، وفي رمضان كان النصر في معركة القادسية وحطين وعين جالوت وغيرها، وقد خَلَفَ من بعد ذلك حكام رويبضات عملاء لم ترَ الأمة في سنيّ حكمهم العجاف إلا الهزائم والمصائب. ففي رمضان تآمروا مع أمريكا يوم شنت حربا صليبية على العراق ودمرته، وفي رمضان تآمروا مع يهود في حربهم على غزة فدمروها، واليوم في رمضان يتآمرون مع أمريكا وروسيا في تدمير الشام، فتصول طائرات المجرم بوتين في سماء الشام وتمرح وتحرق الأخضر واليابس وجيوش المسلمين نائمة تعيش في عالم الواق الواق، مكتفية بحماية العروش وملء الكروش!!

أما الأعجب من ذلك فهو موقف المسلمين عامة في بلاد المسلمين القريبة من الشام مما يجري في الشام، فإخوانهم من أهل الشام محاصرون من قبل أعداء الأمة القريب منهم والبعيد ويُقتلون ويذبحون وتُفعل بهم الأفاعيل والمسلمون في الأردن وتركيا ودول الخليج يعيشون حياة طبيعية، وكأن ما يجري في الشام أصبح أمرا مألوفا عاديا! بتنا لا نرى أي موقف رجولي يشفي الصدور، وكأن الأمة أصابها الشلل، بل حتى الشجب والتنديد لم نعد نسمع به، فهل هذه هي أخوة الإسلام يا مسلمين؟!

أما الأغرب من كل ذلك فهو ما روته لنا كتب السيرة أنه عندما ضاقت قريش بالنبي e ذرعا، بعد أن رأت أن المؤمنين به يتزايدون يوما بعد يوم، عزمت على مقاطعة النبي وبني هاشم وبني عبد المطلب، وكتبت في ذلك صحيفة تتضمن ألا يزوجوهم ولا يتزوجوا منهم، ولا يبيعوهم شيئا، ولا يبتاعوا منهم شيئا، ولا يكلموهم، ولا يجالسوهم حتى يسلموا إليهم رسول الله، وعلقت هذه الصحيفة في جوف الكعبة، واستمرت المقاطعة مدة ثلاث سنين، عانى المسلمون خلالها معاناة شديدة، حتى إنهم أكلوا أوراق الشجر، إلا أن النخوة تحركت في خمسة رجال مشركين من أهل مكة، فكان الواحد منهم يسأل نفسه: كيف نأكل ونشرب وهؤلاء المُحاصَرون لا يأكلون ولا يشربون؟ كيف ينام أطفالنا شبعى وينام أطفال هؤلاء عطشى وجوعى؟ وكان بعضهم يحمل الطعام بنفسه سرا إلى حيث يُحاصَر النبي في شعب أبي طالب، وقرروا أخيرا نقض الصحيفة، وواجهوا أبا جهل مواجهة شديدة حتى قال: إن هذا أمر دبر بليل، وانتهى الحصار الظالم بعدما أعلمهم النبي أن الأرضة قد أكلت الصحيفة ولم تُبق إلا اسم الله عز وجل.

واليوم يُحاصَر الشام وأهله لأكثر من خمس سنين من قبل أتباع أبي جهل، ومن قبل دول الكفر، أُغلقوا الحدود دونهم، ومنعوا عنهم الطعام والشراب، وطائرات الروس والنظام تقصفهم دون رحمة، ولم تتحرك جيوش المسلمين بعدُ لنصرتهم، لم تخرج ولا حتى طائرة واحدة لمواجهة طائرات مَن يقصفون أهل الشام، أيُعقل هذا؟! أيُعقل أن تكون في قلوب أهل الشرك نخوة تجاه المسلمين وقلوبكم يا جيوش المسلمين خالية من أية نخوة؟! أيُعقل أن نكون في زمان يتمنى فيه المرء أن تكون أخلاقكم يا جيوش المسلمين كبعض أخلاق بعض الكافرين؟َ أولستم مسلمين؟! أوليس أهل الشام أيضا مسلمين؟! ألا تحرك الدماء التي تُسفك منذ سنين مشاعركم؟! ألا يحرك ذلك الدمار شيئا في نفوسكم؟! ألا يغلي الدم في عروقكم وأنتم ترون أجساد الشيوخ والنساء والأطفال مقطعة إلى أشلاء؟! إن لم تتحركوا الآن فمتى ستتحركون؟!

ألا فاحزموا أمركم يا جيوش المسلمين، واجعلوا من العشر الأواخر من شهر رمضان شهر الانتصارات بداية توبتكم إلى الله، واقلبوا الطاولة في وجوه حكامكم العملاء الذين ما ورَّثونا وورثوكم إلا الذل والهوان، وقِفوا مع إخوانكم في الشام وأسقطوا الطاغية، وشردوا به مَن خلفه، وأعلنوها خلافة راشدة على منهاج النبوة يرضَ عنكم ربكم ويَتُبْ عليكم، وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أبو هشام

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست