أما لجشع نظام السيسي وأدواته من حدود؟!
أما لجشع نظام السيسي وأدواته من حدود؟!

الخبر:ذكر موقع مصراوي الاثنين 15/7/2019م، أن مصادر أمنية أعلنت ارتفاع أسعار رسوم الأوراق المدنية الجديدة، بعد أن تم التصديق عليها واعتمادها، بدءا من أمس الأحد. ويشمل ذلك شهادات الميلاد، وشهادات القيد، والوفاة، وزادت أسعار استمارات البطاقة الشخصية ليكون سعر الاستمارة العادية 45 جنيها، واستمارة البطاقة المستعجلة إلى 120 جنيها، والـVIP إلى 170، وطالت زيادة أسعار شهادات الميلاد أيضا ليشمل سعر شهادة الميلاد لأول مرة إلى 36 جنيها، للمرة الثانية بـ19 جنيها، كما زادت أسعار قسيمة الزواج والطلاق أيضا ليشمل سعر القسيمة إلى 34 جنيها، أما القيد العائلي بـ29 جنيها.

0:00 0:00
Speed:
July 18, 2019

أما لجشع نظام السيسي وأدواته من حدود؟!

أما لجشع نظام السيسي وأدواته من حدود؟!


الخبر:


ذكر موقع مصراوي الاثنين 15/7/2019م، أن مصادر أمنية أعلنت ارتفاع أسعار رسوم الأوراق المدنية الجديدة، بعد أن تم التصديق عليها واعتمادها، بدءا من أمس الأحد. ويشمل ذلك شهادات الميلاد، وشهادات القيد، والوفاة، وزادت أسعار استمارات البطاقة الشخصية ليكون سعر الاستمارة العادية 45 جنيها، واستمارة البطاقة المستعجلة إلى 120 جنيها، والـVIP إلى 170، وطالت زيادة أسعار شهادات الميلاد أيضا ليشمل سعر شهادة الميلاد لأول مرة إلى 36 جنيها، للمرة الثانية بـ19 جنيها، كما زادت أسعار قسيمة الزواج والطلاق أيضا ليشمل سعر القسيمة إلى 34 جنيها، أما القيد العائلي بـ29 جنيها.

التعليق:


قبل أيام أعلنت الدولة زيادة أسعار المحروقات وترتب عليها زيادة أسعار وسائل النقل وصاحبها تلقائيا زيادة أسعار كافة السلع والخدمات، ولم يكتف النظام بل رفع أسعار تذاكر مواصلات النقل العام بمعدل جنيه واحد لكل فئة لتصل بعض المسافات لستة جنيهات بحسب ما نشرته مصراوي أيضا في 5/7/2019م، ولم يكتف النظام وأدواته بذلك بل أتى إلى الأوراق المدنية التي يحتاجها كل الناس لتوقف كل المصالح والأعمال عليها فزاد من ثمنها ورسوم استخراجها بشكل مبالغ فيه وسيدفع الناس مضطرين لحاجتهم لتلك الخدمات جبرا من ناحية النظام الذي يلجئهم لها قهرا.


واقع هذه الخدمات كلها وجوب تقديمها للناس بالمجان وإيصالها لهم دون أن يتكبدوا في ذلك أي عناء لا أن تجبرهم الدولة على دفع ثمنها وبشكل مضاعف، هذا يحدث فقط لو كنا نعيش في دولة رعاية وليس دولة جباية، إلا أننا في ظل رأسمالية نفعية لا يعنيها مصالح الناس ولا رعاية شؤونهم بل تحكمها النفعية التي تضع القوانين التي تجبر الناس على استخراج تلك الأوراق وفي أوقات معينة حتى يتزاحموا على أماكن استخراجها ثم يزيدون رسومها لتستخرج ما تبقى في جيوب الفقراء البسطاء، والناس لا حول لهم ولا قوة، إذا لم يفعلوا تتوقف مصالحهم بل ربما يتوقف عنهم بعض الفتات الذي يلقى لهم ليطعموا به صغارهم، يسوقهم النظام كما يسوق القطيع ولا يراهم إلا عبيدا لا حقوق لهم بل عليهم خدمته وخدمة سادته في البيت الأبيض، غرّه حلمهم وصبرهم على أذاه وإمهال الله له إلى أجل.


إن النظام سيبقى هكذا يزيد من ضغطه على أهل مصر متحسبا ومتوقعا ردات فعلهم فكلما مرت ضربة عاجلهم بالتي تليها حتى لا يبقى لهم فكاك ولا مخرج، وهنا سيكون الناس بين خيارين لا ثالث لهما؛ إما الخضوع لهذا النظام، وإما ثورة تقتلعه من جذوره وهو ما يتوقعه النظام وسادته من خلفه، ولهذا فالنظام يعد العدة ويحشد زبانيته لقمع الناس عند أي قرار جديد من قراراته الكارثية ويخلي الساحة من كل منافسيه في العمالة، أما سادته فرغم مجاراتهم لسياسته على احتمال نجاحها إلا أنهم يرتبون أوراقهم لاحتمال فشلها واحتمال نجاح ثورة عليه وعليهم فيعملون على الحيلولة دون رؤية الناس للبديل الحقيقي الذي ينجيهم وعلى تعميتهم عن أسباب مشكلاتهم وحلولها ومعالجاتها الجذرية والتعتيم والتشويش على من يحملونها، وفوق هذا إبقاء القوة المتمثلة في قادة الجيوش في يدهم خاضعة لهم.


يا أهل مصر الكنانة! إن هذا النظام وأدواته لن يتوقفوا عن نهب ثرواتكم وخيراتكم بل وامتصاص دمائكم إلا إذا جفت الدماء من عروقكم أو انتفضت تلك الدماء ملتهبة في وجهه كنار حارقة تطيح به وبمن خلفه، ثورة تسقط النظام حقا وتقتلع كل أدواته من جذورها إلا أنها ستكون معرضة للسرقة حتما من سارقي الثورات ما لم يتخذ الشعب الثائر من الإسلام وعقيدته قيادة فكرية حقيقية سعيا لتطبيقه كاملا شاملا في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وهذا وحده لا يكفي بل يحتاج نصرة صادقة من المخلصين في جيش الكنانة بانحيازهم لدينهم وأمتهم وخلعهم كل ولاء للغرب وأدواته وتنظيف صفوفهم من الخونة المرتزقة وربط حبالهم بالله وتسليم الحكم للمخلصين القادرين على تطبيق الإسلام ومن يحملون مشروعه كاملا جاهزا للتطبيق إخوانكم في حزب التحرير.


أيها المخلصون في جيش الكنانة! إن ما يحيق بالناس يقع تحت سمعكم وبصركم واعلموا أنكم شركاء للنظام في جرمه بصمتكم عليه وحمايتكم له وقمعكم لكل من يرفع صوته مطالبا بالتغيير ولو لم يكن على هدى، ويوشك اليوم الموعود أن يأتي ونقف جميعا أمام الله عز وجل ولن ينفعكم النظام ولا رأسه ولا سادته في البيت الأبيض ولن تنجيكم أمواله وذهبه وكنوزه التي أعطاكم إياها على سبيل الرشوة لتغضوا الطرف عن جرمه وتشاركوه فيه فينادي الله ملائكته قفوهم إنهم مسؤولون! ما لكم لا تناصرون؟ فأي سماء تظلكم وأي أرض تقلكم؟ حينها جهزوا حالكم وشدوا رحالكم وتجهزوا للقاء الله واعلموا أنها صحائفكم بين أيديكم اليوم فاملؤوها بما شئتم، وهي حسناتكم فأهدوها لمن شئتم، ومن شاركتم في ظلمه سيتعلق في رقابكم أمام الله، يوم لا دينار ولا درهم.


أيها المخلصون في جيش الكنانة! إن خطابنا لكم، ولن نمل خطابكم حتى يخرج من بينكم رجل رشيد ينصر الله ورسوله ودينه ويقف موقف الأنصار فيقتلع بجند الكنانة هذا النظام وكل أدواته من جذوره وينهي عقود التبعية للغرب الكافر بكل أشكالها وصورها، ويوقف سيل نهبه لثروات البلاد والعباد بكل أشكالها ويقيم مع المخلصين من أبناء الأمة دولة تطبق الإسلام كاملا غير منقوص في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، دولة تنسي الغرب وساوس الشيطان وتعيده لعقر داره إن بقي له عقر دار... اللهم عجل بها واجعلنا من جنودها وشهودها.


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سعيد فضل
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست