عملية درع الفرات الخاصة بتركيا
عملية درع الفرات الخاصة بتركيا

الخبر: دخلت عملية درع الفرات للقوات المسلّحة التركية يومها الحادي عشر، إذ دخلت الدبابات وحاملات الجند التركية إلى قرية الراعي السورية من منطقة إلبيلي التابعة لمدينة كيليس ضمن إطار هذه العملية التي بدأت بهدف ضمان أمن الحدود وتنظيف المنطقة من تنظيم الدولة. (المصدر: وكالة الأناضول، 2016/09/03)

0:00 0:00
Speed:
September 05, 2016

عملية درع الفرات الخاصة بتركيا

عملية درع الفرات الخاصة بتركيا

الخبر:

دخلت عملية درع الفرات للقوات المسلّحة التركية يومها الحادي عشر، إذ دخلت الدبابات وحاملات الجند التركية إلى قرية الراعي السورية من منطقة إلبيلي التابعة لمدينة كيليس ضمن إطار هذه العملية التي بدأت بهدف ضمان أمن الحدود وتنظيف المنطقة من تنظيم الدولة. (المصدر: وكالة الأناضول، 2016/09/03)

التعليق:

إن عملية درع الفرات التي بدأت من أجل تطهير مفترض لمدينة جرابلس التابعة لمحافظة حلب السورية من عناصر تنظيم الدولة هي عملية عسكرية تشمل أيضا قوات من المعارضة السورية التي تنفذ أوامر القوات المسلحة التركية.

وقال مولود جاويش أوغلو وزير الخارجية: "إن هدف العملية هو أن نطرد داعش من حدودنا، وعلى قوات وحدات حماية الشعب الكردي (YPG) أن تنسحب إلى شرق الفرات...". (صحيفة تركيا، 2016/08/24) وقال إبراهيم كالين المتحدث باسم الرئاسة التركية أيضاً: "إن هدف العملية هو تنظيف حدودنا من جميع العناصر الإرهابية، بما فيها داعش ووحدات حماية الشعب الكردي (YPG)". (a haber، 2016/08/24)

على الرغم من أن تصريحات المسؤولين جاءت في هذا السياق، إلا أن الحقيقة هي عكس ذلك تماما. إن هدف عملية تركيا في سوريا ليس تطهير منطقة الحدود من تنظيم الدولة، لأنه حتى الآن لم يحدث أي صدام ساخن مع التنظيم. أجل، لقد خسرت تركيا دبابة واحدة وقُتل لها جندي واحد، ولكن هذا لا يدخل ضمن نطاق الصراع الساخن. وعلى العكس من ذلك، قُتل جندي واحد وجُرح ثلاثة آخرون نتيجة استهداف دبابتين بصواريخ تم إطلاقها من قبل مليشيات وحدات حماية الشعب الكردي (YPG). ووفقا للمصادر فقد تم ضرب الدبابات التركية بصواريخ كورنيت روسية الصنع. إذاً مكافحة تنظيم الدولة ليست سبباً لهذه العملية، وإنما هي مجرد ذريعة.

عندما ارتبط الأمر بموضوع حماية وحدة أراضي سوريا ودحر قوات وحدات حماية الشعب الكردي (YPG) إلى شرق الفرات، وعندما تم تجميد العلاقات التركية الروسية بسبب أزمة الطائرة، قامت روسيا بدعم قوات وحدات حماية الشعب الكردي (YPG) من أجل الضغط على تركيا. أما الآن فقد رجعت العلاقات إلى سابق عهدها، لذلك في هذه المرحلة روسيا لم تعد تدعم وحدات حماية الشعب الكردي (YPG). من ناحية أخرى، قدمت الولايات المتحدة الأمريكية التي تدعم وحدات حماية الشعب الكردي (YPG) سياسياً وعسكرياً ضماناتٍ ببقاء وحدات حماية الشعب الكردي (YPG) شرق الفرات.

وتحدث الجنرال فوتيل قائد القوات الأمريكية في الشرق الأوسط وآسيا الوسطى في مؤتمر صحفي له تم عقده في البنتاغون قائلا: "إن قسماً كبيراً من الأكراد والقوات الكردية التي تمثل قوات سوريا الديمقراطية جزءٌ كبيرٌ منها موجود الآن شرق الفرات. والتزموا بالتعهدات التي قدموها لنا." (وكالة الأناضول، 2016/08/30)

وفي هذه الحالة فإن وحدات حماية الشعب الكردي (YPG) ليست هي سببا للعملية، وإنما هي ذريعة أيضا. إن العملية المزعومة "درع الفرات" هي موجهة لخداع الرأي العام. في الواقع، إن كلا الذريعتين هما فقط خدعة من أجل الحصول على الدعم الموجه للعملية من الرأي العام الداخلي والرأي العام العالمي كذلك. فبعد هجوم غازي عنتاب الإرهابي، وبعد الأخبار التي انتشرت في الصحافة الخارجية وخاصة في الصحافة الأوروبية حول دعم تركيا لتنظيم الدولة، جاءت هذه العملية للقوات المسلحة التركية ضد التنظيم من أجل الحصول على دعم كل من الرأي العام الداخلي والخارجي ومن أجل تجنب الانتقادات اللاذعة.

إذن، ما هو الهدف الحقيقي للعملية وفتح جبهة ثانية؟ هل هو لقتال تنظيم الدولة ووحدات حماية الشعب الكردي (YPG)، أم شيء آخر؟

بعد قمة إردوغان وبوتين في التاسع من شهر آب/أغسطس، ومع تزامن العملية مع زيارة بايدن نائب الرئيس الأمريكي لتركيا، يتبين أن تنظيم الدولة ووحدات حماية الشعب الكردي (YPG) ليستا هما سبب العملية وأن العملية غير متعلقة بهما. لأن روسيا تقاتل المجاهدين في سوريا، وليس التنظيم أو وحدات حماية الشعب الكردي (YPG)، ولم تقاتل وحدات الشعب الكردي (YPG) وأمريكا أيضا أثناء قتالها للمجاهدين. أما تنظيم الدولة فهو مجرد ذريعة، تماما كما هي الحال الآن في العملية التي تقوم بها تركيا.

في هذه الحالة، يكون الهدف الحقيقي للعملية هو تجنب حصار حلب، وانتزاع حلب من سيطرة المجاهدين وتسليمها لمجموعات معتدلة والذهاب إلى المفاوضات في جنيف. أي الهدف هو حلب والمجاهدون الصادقون. وفقاً للأخبار الواردة في الصحافة العربية، سيتم أخذ حلب من المجاهدين وتسليمها للنظام السوري. وفي هذا الصدد ذُكر أن هناك اتفاقاً بين تركيا والنظام السوري. وفي هذا السياق أشير إلى أنه تم في أنقرة عقد عدد من الاجتماعات بين المخابرات التركية ومخابرات كل من دمشق وبغداد والجزائر.

إن قصف النظام السوري للأكراد قبل بدء العملية، وإبلاغ تركيا للنظام السوري بالعملية، وبقاء النظام السوري صامتاً حيال العملية على الرغم من انتهاك الحدود، ورغبة تركيا بتأسيس قاعدة لها في جرابلس على غرار قاعدة بعشيقة، وسكوت النظام السوري حيال هذا الأمر، كل ذلك يؤكد أن هناك مثل هذا الاتفاق والتفاهم.

من المحتمل أن تبقى تركيا في سوريا حتى تقرر أمريكا التوصل إلى سلام في سوريا ومن أجل أن تساعد تركيا في ذلك. كلمات مثل: منطقة عازلة، ومنطقة آمنة، وتأسيس قاعدة في جرابلس، هي من أجل خدمة الحلّ الأمريكي.

خلاصة الكلام، يمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين. ﴿وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ﴾ [يوسف: 21]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إرجان تيكنباش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست