عملية (حزب الشعوب الديمقراطي) (مترجم)
عملية (حزب الشعوب الديمقراطي) (مترجم)

الخبر: بعد رفع البرلمان لحصانتهم طُلب من أعضاء (حزب الشعوب الديمقراطي) الإدلاء بشهادتهم في التحقيقات التي قدمت ضدهم ولكنهم لم يذهبوا ليشهدوا. في الليلة الماضية (2016/11/04) وقعت عملية، حيث ألقي القبض على رئيسي الحزب المشاركين صلاح الدين ديمرطاش وفيغان يوكسك داغ، وسبعة من نواب البرلمان من الذين وضعوا تحت الوصاية. اثنان من النواب في الخارج وواحد ما زال مفقودا. تم السماح لثلاثة نواب بالذهاب بمن فيهم سري سوريا أوندر. http://www.hurriyet.com.tr/tutuklu-yargilama-40268956  

0:00 0:00
Speed:
November 09, 2016

عملية (حزب الشعوب الديمقراطي) (مترجم)


عملية (حزب الشعوب الديمقراطي)

(مترجم)

الخبر:

بعد رفع البرلمان لحصانتهم طُلب من أعضاء (حزب الشعوب الديمقراطي) الإدلاء بشهادتهم في التحقيقات التي قدمت ضدهم ولكنهم لم يذهبوا ليشهدوا. في الليلة الماضية (2016/11/04) وقعت عملية، حيث ألقي القبض على رئيسي الحزب المشاركين صلاح الدين ديمرطاش وفيغان يوكسك داغ، وسبعة من نواب البرلمان من الذين وضعوا تحت الوصاية. اثنان من النواب في الخارج وواحد ما زال مفقودا. تم السماح لثلاثة نواب بالذهاب بمن فيهم سري سوريا أوندر.

http://www.hurriyet.com.tr/tutuklu-yargilama-40268956

التعليق:

في 20 أيار/مايو تم إقرار رفع مشروع قانون الحصانة وتغيير الدستور من قبل الجمعية العامة للبرلمان بـ 376 صوتا. الرئيس أردوغان صادق على تغيير قانون الدستور رقم 6718 بخصوص حصانة الممثلين البرلمانيين في 7 حزيران/يونيو 2016. وهناك 667 قضية قانونية رفعت ضد 138 نائبا. 405 قضية منها تخص ممثلي حزب الشعوب الديمقراطي. ذهب بعض ممثلي حزب الشعوب الديمقراطي وحزب الشعب الجمهوري إلى المحكمة الدستورية لإلغاء مشروع القانون ولكن المحكمة الدستورية لم تقبل طلبهم. ممثلو حزب الشعوب الديمقراطي الذين تم استدعاؤهم للإدلاء بشهاداتهم ولم يحضروا، تم وضعهم تحت الوصاية وبعد ذلك تم القبض على 7 من النواب وعلى الرئيسين المشاركين صلاح الدين ديمرطاش وفيغان يوكسك داغ. تم السماح لثلاثة منهم بالذهاب مع حالة من الرقابة القضائية. اثنان من النواب في الخارج وواحد ما زال مفقودا.

تركيا تتعامل مع المشكلة الكردية خطوة واحدة إلى الأمام وخطوة إلى الوراء وفقا للظرف. مطالبات حزب العدالة والتنمية اليوم على العكس تمامًا منها في عام 2005 وحتى عام 2013. وأيضا هم اليوم أعداء مع من كانوا أصدقاء في تلك السنوات. في السنوات الثلاث الأخيرة. "حوادث جيزي Gezi"، "عمليات 17-25 كانون الأول/ديسمبر"، "6-7 تشرين الأول/أكتوبر احتجاجات كوباني"، محاولة انقلاب 15 تموز/يوليو "والعشرات من "الهجمات الإرهابية الدموية" حدثت في تركيا. كسر هذا الوضع التوازن السياسي وتغيرت تماما الاتفاقيات في تركيا.

معارك المدن التي بدأها حزب العمال الكردستاني في تموز/يوليو من عام 2015؛ وإعلانات الاستقلال، ومعارك الخنادق ومع انتخابات الأول من تشرين الثاني/نوفمبر، أصبحت الحروب أكثر وأكثر عنفا. المهمة التي أُنيطت بحزب العمال الكردستاني في سوريا والدعم الذي يحصل عليه من القوى الدولية، حولت جنوب شرق تركيا إلى ساحة حرب. أدركت الدولة بأن هذه حرب وجود وردّت على ذلك عن طريق اتخاذ احتياطات أمنية قاسية.

من جهة أخرى رفع الحصانات، وممارسة الوصاية، والاستجابة الحكومية والقانونية لإعلان الأكاديميين، والمراسيم بعد محاولة انقلاب 15 تموز/يوليو، وإغلاق الصحف والمجلات وإجراء التحقيقات مع المفكرين الذين ساندوهم، يبين لنا أن الدولة قد عادت إلى السياسة الأمنية مع "المشكلة الكردية".

بسبب مثل هذه التطورات، فإن "عملية الحل" لم تحقق الغاية وتركت مكانها الاحتياطات والتدابير الأمنية. ودفعت محاولة حزب الشعوب الديمقراطي تحويل التطورات التي تحدث في شمال سوريا إلى السياسة المحلية، وكذلك القلق الذي ولّده تقدم حزب الاتحاد الديمقراطي، والخوف من الانفصال وحساسية حدود تركيا الوطنية التاريخية تركيا لزيادة الاحتياطات.

في النهاية، أعطت هذه الاعتقالات الفرصة وسهلت للحكومة التي عملت مع المراسيم بعد 15 تموز/يوليو في محاربة حزب العمال الكردستاني وامتداده. يصبح أكثر وأكثر وضوحًا بأن أمريكا سوف تستخدم حزب الاتحاد الديمقراطي في عمليتها في الرقة. وبالنظر إلى الوضع، الدولة تحافظ على تضييق مساحة عمل حزب العمال الكردستاني في تركيا. سوف نرى كيف أن هذا الوضع سيؤثر على حزب الشعوب الديمقراطي وأصواته في المنطقة. ومما لا شك فيه ان الحكومة تستغل هذا الوضع لصالح النظام الرئاسي. في الماضي عندما يتم إغلاق حزب، يفتح حزب جديد دائما. الآن، في هذه الحوادث، "الأشخاص" يحاكمون دون إغلاق الأحزاب. عقل الدولة يعطي عقوبات مثل هذه من أجل تغيير حزب الشعوب الديمقراطي ويتخذ الاحتياطات اللازمة.

إن كادر تأسيس الجمهورية استبدل القومية التركية العلمانية بالرابطة الإسلامية بين جميع المسلمين والخلافة. وبذلك هدفوا إلى تشكيل أمة من الأمة. وعندما أسّسوا الجمهورية فهم قد أوجدوا عدوين لها. كان أولاً وقبل كل شيء الإسلام، وثانيًا الشعب الكردي المسلم. يتوقع حزب العدالة والتنمية "حل" "المشكلة الكردية" مثلما "حلّوا" مشكلة الإسلام من خلال الاعتدال. وهذا هو الأمر الذي بسببه أعطيت المنطقة بكاملها تقريبًا إلى المنظمة الإرهابية. ولكن الوضع الحالي في سوريا حصلت فيه جميع الخطط، وترك الناس بين الدولة والمنظمة. تمامًا مثل كيفية كسر الاتفاق بين حركة غولن وحزب العدالة والتنمية، مع مشكلة سوريا لقد تم كسر "عملية الحل" بين حزب الشعوب الديمقراطي وحزب العمال الكردستاني والآن أصبح الجانبان أعداء. هؤلاء الأعداء يهاجمون بعضهم بعضاً مع ما يعتبرونه مناسبا لهم كعدوين. والضحية كما هي الحال دائما، هو شعبنا والأطفال الأكراد الأبرياء.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عثمان يلديز

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست