عملية إنقاذ جديدة لأردوغان في منبج
عملية إنقاذ جديدة لأردوغان في منبج

الخبر: قالت تركيا وأمريكا في بيان: "إن مجموعات عمل تركية وأمريكية اجتمعت في أنقرة يوم الجمعة (25/5/2018) ووضعت خارطة طريق للتعاون لضمان الأمن والاستقرار في منبج بشمال سوريا. وإن وزيري خارجية البلدين سيجتمعان في الرابع من حزيران لبحث توصيات مجموعة العمل". (رويترز)

0:00 0:00
Speed:
May 28, 2018

عملية إنقاذ جديدة لأردوغان في منبج

عملية إنقاذ أمريكية لأردوغان في منبج

الخبر:

قالت تركيا وأمريكا في بيان: "إن مجموعات عمل تركية وأمريكية اجتمعت في أنقرة يوم الجمعة (25/5/2018) ووضعت خارطة طريق للتعاون لضمان الأمن والاستقرار في منبج بشمال سوريا. وإن وزيري خارجية البلدين سيجتمعان في الرابع من حزيران لبحث توصيات مجموعة العمل". (رويترز)

التعليق:

يظهر أن هذا الأمر قد وقت وخطط له؛ إذ إن تركيا ستشهد انتخابات مبكرة في 24 حزيران القادم، وقد اشتدت الأزمة الاقتصادية فيها، فهوت الليرة ولا أحد يستطيع إنقاذها ولها عواقب وخيمة، لا أردوغان ولا حليفته وصديقته أمريكا كما يصفها دائما! وقد ارتفعت الأسعار وشحت الأموال بأيدي الناس وبدأ تذمرهم يزداد. لأن أزمة الاقتصاد التركي عميقة جدا، فمديونية تركيا هائلة جدا بلغت 438 مليار دولار في أيلول 2017، وما يجب أن تسدده خدمة لهذا الدين في عام 2018 يبلغ 43,1 مليار دولار، ولا يتوفر لديها إلا 10,92 مليار دولار، والعجز بين الصادرات والواردات قد ازداد إلى 37,5% ليصل إلى 77,06 مليار دولار. فلا يتوفر لدى تركيا رصيد من العملات الصعبة لسداد الديون. ويوجد لديها رصيد حوالي 110 مليار دولار تضعه في الخزينة لتوثيق الدائنين والمستثمرين، وإلا سيطالب الدائنون بديونهم ويفر المستثمرون من تركيا وخاصة من بورصة إسطنبول، فتنهار هذه البورصة وتتوقف كافة الاستثمارات فتتوقف حركة النمو الاقتصادي التي تقاس بحركة البيع والشراء وبانخفاض البطالة. فيحصل الزلزال الاقتصادي الذي يتخوف منه أردوغان، وقد صرح أنه قدم الانتخابات سنة ونصف تقريبا لمنع حدوثه. ولكن الهزات والارتجاجات المقدمة له بدأت بالحدوث.

ومن هنا فلا بد من عملية إنقاذ من قبل أمريكا لحليفها وخادمها أردوغان، ولا تكون إلا بعمل سياسي يدغدغ مشاعر الناس، ينسيهم مؤقتا أوجاعهم الاقتصادية ويؤمن نجاح أردوغان في الانتخابات، إذ بدأت شعبيته تتهاوى رغم الضجيج الإعلامي والترويج له، ولكن على الأرض، فالكثير من عشاقه السابقين بدأ عشقهم يتبخر وبدأت الثقة بعشيقهم تتضعضع، وبدأت وسائل الاستطلاع تظهر نتائج متدنية له تنخفض إلى 48% ومنها من خفضها إلى 43% أو أقل. وهذه أقل من نتيجة الاستفتاء على تعديله الدستور التي مهدت لهذه الانتخابات والتي جرت يوم 16/4/2016، وكانت النتيجة بنسبة 51,4%، ولم يكن يتوقعها، إلا أن الرئيس الأمريكي ترامب كان قلقا عليه فأعلن يومها أنه تابع عملية الاستفتاء عن كثب، وبعد نجاح أردوغان بهذه النسبة بارك له، وقال له إنه سيحقق معه أشياء مهمة. فكان منها تسليم أردوغان حلب لروسيا وللنظام السوري، ومن ثم جنوب إدلب وتلتها الغوطة، فخدع الجماعات المسلحة التي ارتبطت به أكبر خديعة هو والنظام السعودي الموالي لأمريكا والقطري الموالي لبريطانيا ولكنه يخاف أمريكا ويخضع لها.

إن "خارطة الطريق للتعاون لضمان الأمن والاستقرار في منبج" بين أمريكا وتركيا هي جزء من عملية الإنقاذ الأمريكية لحليفهم وخادمهم أردوغان. فإذا ضحت أمريكا بعملائها "قوات سوريا الديمقراطية" في سبيل إنقاذ أردوغان وهو الأهم من هذه القوات حاليا بالنسبة لها، فإن ذلك سيعيد له جزءا من شعبيته التي فقدها، وهو أي أردوغان الذي طالما تغنى بدخول منبج بعد عفرين، ولكنه وقف عند عفرين ولم تسمح له أمريكا بالتقدم، لأن مهمته الحالية حتى عفرين ليخدع الثوار ويسحبهم للقتال بجانبه لتمكين النظام السوري الإجرامي وداعمته روسيا التي يصف أردوغان رئيسها المجرم بوتين بأنه الصديق العزيز لتمكينهما من التقدم في مناطق مهمة من شأنها أن تقصم ظهر الثورة كما حدث بالفعل.

ولهذا ربما تُخرج أمريكا عملاءها في قوات سوريا الديمقراطية من منبج وتشرك معها تركيا لحين انسحابها من هناك. فإذا حدث مثل ذلك فإن المشاعر القومية لدى كثير من الناس في تركيا ستزداد فيعتبرون أردوغان بطلا قوميا، إذ تمكن من القضاء على الانفصاليين الأكراد وأمن الجبهة الجنوبية لتركيا من خطرهم وخطر نشوء كيان كردي يؤثر في داخل تركيا.

ولكن عمليات الإنقاذ للعملاء والحلفاء والموالين لأمريكا ولغيرها من الدول الاستعمارية كلها مؤقتة، وسيلاقون مصيرهم الأسود في الدنيا والآخرة. فإذا عاجلهم الموت قبل ذلك سيكون مصيرهم أسودا في الآخرة، وإذا امتد عمرهم ليشهدوا خزيهم في الدنيا كما حصل لابن علي ولحسني مبارك ومن ثم مصرعهم كالقذافي وعلي صالح فلن ينجوا من خزي الآخرة. والذي سينتصر في الدنيا والآخرة هم المؤمنون حقا الذين ينصرون الله بالعمل على إعلاء كلمته والحكم بما أنزل، فوعدهم بنصره. ﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَنْصُرُهٗ إِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست