عمليةٌ أخرى ضدّ (الإرهاب)!
عمليةٌ أخرى ضدّ (الإرهاب)!

وافقت القيادة العليا في باكستان على إطلاق عملية عسكرية جديدة تُسمى عزم الاستحكام. ومن المتوقّع أن تركّز الخطة العسكرية الجديدة على التهديدات الأمنية الداخلية والمقاتلين المسلّحين العابرين من أفغانستان، وسط تصاعد التوترات بين إسلام آباد وحكام طالبان في كابول. وتتضمن الخطط "تكثيف" الجهود للحدّ من "الإرهابيين" من خلال التعاون الإقليمي مع جيران باكستان. (الجزيرة دوت كوم)

0:00 0:00
Speed:
June 27, 2024

عمليةٌ أخرى ضدّ (الإرهاب)!

عمليةٌ أخرى ضدّ (الإرهاب)!

(مترجم)

الخبر:

وافقت القيادة العليا في باكستان على إطلاق عملية عسكرية جديدة تُسمى عزم الاستحكام. ومن المتوقّع أن تركّز الخطة العسكرية الجديدة على التهديدات الأمنية الداخلية والمقاتلين المسلّحين العابرين من أفغانستان، وسط تصاعد التوترات بين إسلام آباد وحكام طالبان في كابول. وتتضمن الخطط "تكثيف" الجهود للحدّ من "الإرهابيين" من خلال التعاون الإقليمي مع جيران باكستان. (الجزيرة دوت كوم)

التعليق:

لقد نشأت بين باكستان والولايات المتحدة علاقة رومانسية ملتوية، تحوّلت إلى علاقة مسيئة بعد أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر، حيث كان لكل منهما مصالحه العميقة الخاصة بشكل منفصل. وقد أدّى هذا إلى قيام باكستان بشنّ العديد من العمليات العسكرية منذ عام 2000 بما في ذلك عملية ردّ الفساد وعملية ضرب العضب. وإذا نظرنا إلى الوراء في أوائل الثمانينات، فسوف نرى أن (الإرهابي) اليوم كان يصور على أنه مجاهد يخوض حرباً، والتي تمّ تصويرها على أنها حرب بين الإسلام والشيوعية، ولهذا كان من السهل الحصول على دعم من شعب باكستان. كما أنّ المسلمين في قلوبهم يحبون بعضهم بعضا وكانوا يشهدون الإساءة والإذلال الذي كان المسلمون في جميع أنحاء العالم يمرّون بهما منذ هدم الخلافة. في هذه الحالة، منحهم دعم الجيش الباكستاني للمقاومة الأفغانية مكانة مشرفة في نظر الناس. لقد دعم الناس بسعادة دور باكستان في هذا النّضال. ومن التدريب إلى المساعدة المادية والأسلحة، تمّ توفير كل شيء من قبل الجيش الباكستاني بدعم كامل من أمريكا حيث كانت المهمة آنذاك هي هزيمة الاتحاد السوفييتي. وبحلول عام 1988، شهدنا بدء انسحاب القوات السوفييتية، ما مثّل بداية النهاية للاحتلال السوفييتي الطويل والدموي وغير المثمر لأفغانستان. ولم تعد رغبة أمريكا بأن تصبح القوة العظمى الوحيدة حلماً، وظنّ الخونة الذين يسيطرون على القوات أن هذا أصبح أمراً لا مفرّ منه لبقاء القوة العظمى الوحيدة في العالم. وفي هذه الرحلة، حكم باكستان وأفغانستان أناسٌ كانوا يهتمون لمصالحهم الشخصية وإسعاد أمريكا أكثر من اهتمامهم بشعبهم الذي كان ضحية للتدهور في كل مناحي الحياة. وفي الفترة من 1989 إلى 2000، واجهت أفغانستان صراعاً على السلطة حيث لم تكن جماعات المقاومة مستعدة للاستسلام للحكام الدمى. كان هذا هو الوقت الذي ظهر فيه الملا عمر كمنقذ للشعب المحافظ ذي العقلية الإسلامية وبدأ صراع جديد وأعلن عن عدوّ جديد ودخلت أمريكا أفغانستان رسمياً بعد أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر، واحتضنت قيادة باكستان بسعادة لعب دور موطئ القدم لأمريكا.

منذ عام 2001، نُفّذت خمس عشرة عملية (كما وردت) في إقليم خيبر بختونخوا ضدّ (الإرهابيين). وكانت أغلب هذه العمليات مخططة لاستهداف منطقة كانت تعتبر مصدراً للمتاعب. على سبيل المثال، كانت عملية "راح راست" و"راح الحق" في منطقة سوات، وكانت عملية "شيريل" في منطقة باجور، وكانت عملية "راح النجاة" في منطقة جنوب وزيرستان. وكانت العمليتان الكبيرتان على جبهة أوسع نطاقاً هما عملية "ضربُ العضب"، التي بدأت في شمال وزيرستان ثم امتدت إلى مناطق أخرى، ثم عملية "ردّ الفساد" التي كانت عملية استخباراتية لضرب الشبكات الإرهابية التي انتشرت في مختلف أنحاء باكستان. ومع الإعلان عن هذه العملية السادسة عشرة، يتوجب علينا أن نلقي نظرة على ما حققناه خلال هذه الأعوام الثلاثة والعشرين من محاربة العدو في الداخل.

لقد أصبحت الحكومة الآن تبحر في قاربين، ولم يعد من الممكن إرضاء الطرفين في الوقت نفسه. ومع مقتل خمسة مواطنين صينيين في آذار/مارس 2024، تواجه باكستان هذا الضغط من الصين لحماية العمال الصينيين من مثل هذه الهجمات، والتي نفذها شخص أفغاني وفقاً للجيش الباكستاني وخطط لها (إرهابيون) متمركزون في أفغانستان.

إذا ألقينا نظرة على تاريخ المعارك في الإسلام، فسوف نرى مدى وضوح الهدف، وكيف تمّ اتخاذ الخطوات المدروسة، ومدى شفافية النتيجة. في العمليات التي تمّ الإعلان عنها وتنفيذها، ربما خسرنا الكثير ولكننا لم نكسب شيئاً. من الصّعب أن نقبل أنّ الجيش الذي يقف بين أقوى عشر قوى في العالم والبالغ عددها 145 جيشاً يخسر باستمرار وهو يقاتل جزءاً من شعبه ضعيف التسليح ومدرب ذاتياً! الشرف والهيبة التي اكتسبها الجيش الباكستاني رداً على مساعدة الأفغان في طرد الاتحاد السوفييتي ودعم الجهاد في كشمير ضدّ الهند، ضاعت في مكان ما بين تبديل الأدوار. يمكن للأشخاص ذوي البصيرة أن يروا ما ستكون عليه نتيجة هذه الحرب ضدّ شعبهم، الناس الذين تشترك معهم في العقيدة، الناس الذين جعلهم الله تعالى إخوانك وحرم دماءهم.

إن الأزمة الكبرى التي يواجهها المسلمون الآن هي المذبحة المستمرة لأهل غزة، وهي التي يجب أن تكون ساحة المعركة لأي جيش مسلم، ولا توجد أزمة خفية أكثر أهمية من هذه، وهنا قياداتنا مشغولة بأداء سيناريو كتبه وأداره العدو! روى أنس رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِماً أَوْ مَظْلُوماً» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُوماً، فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِماً؟ قَالَ: «تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ»‏ صحيح البخاري

إننا كمسلمين واعين، مسئولون عن رفع أصواتنا ومطالبة الجنود في جيوشنا بالنظر إلى من يوجهون أسلحتهم، لأن هذا العمل القتالي يمكن أن يؤدي بهم إلى الجنة أو إلى جهنم. إن الأشخاص الذين ينتمون إلى فصائل مختلفة من جماعات المقاومة هم جميعاً مسلمون. لقد تعرضوا للأذى من قبل شعوبهم وربما آذوا إخوانهم المسلمين في الجيش. لا يزال لدينا الوقت لخوض الحرب الفعلية ورفع راية رسول الله ﷺ. وتحت هذه الراية سنحظى بالقيادة الحقيقية التي ستحمي المسلمين في هذا العالم وتقيم الخلافة على منهاج النبوة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إخلاق جيهان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست