أمريكا المجرمة تدفع باتجاه حلها السياسي المسموم عبر دفعها لأدواتها وصنائعها بالنزول الميداني إلى أرض الشام
أمريكا المجرمة تدفع باتجاه حلها السياسي المسموم عبر دفعها لأدواتها وصنائعها بالنزول الميداني إلى أرض الشام

  الخبر: "وفد من الخارجية الأمريكية يدعو المعارضة السورية لتفعيل دور الحكومة السورية المؤقتة في مناطق سيطرتها، لتكون شبيهة بتجربة مناطق شمال شرقي سوريا". و"شدد على ضرورة وجود إدارة مركزية واضحة تتسم بالشفافية المالية". (الجزيرة – سوريا).

0:00 0:00
Speed:
November 26, 2021

أمريكا المجرمة تدفع باتجاه حلها السياسي المسموم عبر دفعها لأدواتها وصنائعها بالنزول الميداني إلى أرض الشام

أمريكا المجرمة تدفع باتجاه حلها السياسي المسموم
عبر دفعها لأدواتها وصنائعها بالنزول الميداني إلى أرض الشام


الخبر:


"وفد من الخارجية الأمريكية يدعو المعارضة السورية لتفعيل دور الحكومة السورية المؤقتة في مناطق سيطرتها، لتكون شبيهة بتجربة مناطق شمال شرقي سوريا".


و"شدد على ضرورة وجود إدارة مركزية واضحة تتسم بالشفافية المالية". (الجزيرة – سوريا).

التعليق:


يبدو للمتتبع أن أمريكا أحياناً تبدو متخبطة في بعض قراراتها وآلية تعاملها مع الأحداث في سوريا، وأحيانا أخرى تبدو أنها تغيّر في خططها وأدواتها ووسائلها وأساليبها حسب الواقع وتطورات الأحداث ومستجداتها.


ومعروف أن هدف أمريكا الأساسي في سوريا منذ البداية كان وأد الثورة وإعادة كل المدن السورية إلى سيطرة نظام الإجرام. إلا أنه، ومع طول أمد الثورة وعدم قدرة النظام (المنهك والمهلهل) ومن معه من الدول والمليشيات على الحسم بالصورة التي تريدها أمريكا، وعدم إمكانية تحقق ذلك على المدى المنظور، وخاصة مع تجذر فكرة الثورة في نفوس أهل الشام رغم الصعاب والألم وعظم التضحيات، من الطبيعي أن تفكر أمريكا بحلول مرحلية واستراتيجيات تناسب المرحلة.


ولو كانت أمريكا مطمئنة لاستتباب الأمر لعميلها حال الاجتياح العسكري الكامل دون تفلت الأمور وضياع مكر عقد من الزمن، ولولا حساباتها تجاه الوجود الروسي، لما توانت في الدفع بهذا الاتجاه لحظة واحدة، وخاصة مع رغبة روسيا الجامحة بحفظ ماء وجهها والخروج من المستنقع السوري مع بعض المكاسب، رغم أن أمريكا لا تريد لها أن تخرج إلا ذليلةً خالية الوفاض، وبعد أن تنهي مهمتها، فتأخذ الضوء الأخضر بالخروج كما أخذته عام 2015م بالدخول، وكذلك إيران التي تريد قطف ثمرة تدخلها المكلف طوال السنوات العشر الماضية.


إلا أن أمريكا تطبخ الأمر على نار هادئة عكس الطرفين، فهي وإن كانت تريد إنهاء ملف شائك شيب رأس أوباما، إلا أنها في الوقت نفسه تريد حلاً يحمل صبغة الاستقرار والاستمرار والديمومة، بعيداً عن أي مفاجآت غير متوقعة تخشاها من ثورة الشام، فكان أن نادت مراراً وتكراراً أن الحل في سوريا سياسي وليس عسكرياً، وفي جنيف حصراً، وليس في أستانة أو سوتشي أو غيرهما. وهذا ما كانت تدفع دوماً باتجاهه، عبر تغاضيها وسماحها بالقصف البربري تارةً، وعبر المكر والتضييق الاقتصادي الممنهج عبر الأدوات تارةً أخرى، لإخضاع الثائرين لما تمليه عليهم من حلول مُذلة عبر البوابة الأممية.


وقد يفهم الخبر المذكور أعلاه في هذا السياق..


بمعنى أن التقسيمات والكانتونات الموجودة فعلياً على أرض الواقع، ربما يتم التعامل معها أمريكياً كأمر واقع (مرحلياً)، حتى تتمكن أمريكا من إحراز تقدم في حلها الذي تريده وتخطط له منذ عقد من الزمان، على أمل أن تتمكن مستقبلاً من إعادة خارطة الشام إلى ما قبل 2011م، بمعنى أن أمنية أمريكا أن تعيد مركزية الدولة، إلا أن الواقع لا يوافق هواها.. وقد طالعنا جويل ريبورن، المبعوث الأمريكي السابق إلى سوريا، في إحاطة صحفية له يوم الجمعة الماضي، بتصريح لافت، بأن "الحل الدائم في سوريا سيكون من خلال القرار الأممي 2254 حصراً"، لافتاً بالقول: "أود التوضيح أنه لا توجد عودة إلى ما قبل 2011، سوريا التي نعرفها لن تعود ولا يعلم أحد كيف ستكون سوريا الجديدة".


وفي السياق، هناك من يقول إن الدستور الجديد الذي تصوغه اللجنة الدستورية بإشراف أمريكي سيمنح مجالاً للأقاليم أو شيئاً من "الحكم الذاتي"، مع الحديث عن مناطق ستبقى تحت إشراف وإدارة تركيا على المدى المنظور.


فطبخة الحل السياسي الأمريكي لم تنضج بعد بالصورة التي تريدها أمريكا، ودونها بعض العقبات.


ومعلومٌ إعلان أمريكا مؤخراً أنها لن تخرج من سوريا حالياً، تحت ذريعة "مواجهة تنظيم الدولة"، بعد أن أعلنت سابقاً أنها "تعتزم إخراج قواتها"، وتسليمها إدارة المنطقة لأدواتها.


ومن المفيد أيضاً نقل تتمة ما قاله ريبورن، بأن "الملف السوري يبقى مهماً بحد ذاته ولا يمكن تجاهله"، وأن "الأزمة السورية ستبقى مهمة للولايات المتحدة والمجتمع الدولي إذ يبدو أن الحل لم يحصل بعد وسيستمر طويلاً". مضيفاً أنه "لا يعتقد أن سوريا ستستقر أو أن الحرب ستنتهي طالما النظام موجود كما هو". مؤكداً أن "المحاولات المختلفة لإبقاء نظام الأسد ستؤول للفشل ولن تعود سوريا كما كانت".


وعودةً لدعوة أمريكا المعارضة السورية لتفعيل دور الحكومة السورية المؤقتة في مناطق سيطرتها، هذه الحكومة المصنوعة على عين أمريكا هي وائتلافها، إذ لا بد من التأكيد أن هناك خطوات عملية قد بدأت فعلياً، من خلال طلب تركي سابق من أعضاء الحكومة المؤقتة النزول للداخل السوري والعمل في الداخل منذ فترة، ونقل مكاتبهم إلى الداخل وبناء مقر للحكومة المؤقتة، كما يُتوقع أن يتبع ذلك خطوات أخرى في هذا الاتجاه.


والخلاصة أن أمريكا تريد جهة سياسية ذات شأن تكون قادرة على السير والانتقال للمرحلة الانتقالية، لإسباغ الشرعية على عملية البيع والتنازل والقبول بالحل السياسي الأمريكي الذي يثبت أركان نظام الإجرام ويعاقب كل من خرج في ثورة الشام، في سيناريو مشابه للدور الخياني لهيئة التحرير الفلسطينية وما قامت به من شرعنة للاحتلال وبيع للتضحيات.


هذا هو مكر أمريكا وهدفها المرحلي؛ ألا وهو إيجاد شريك سياسي لا يرد يد لامس، يكون هو من يوقع على الخطوات العملية الخيانية للحل السياسي؟!


مع التأكيد أنه ليس كل ما تريده أمريكا وتخطط له كائناً.. فالعاقبة للمتقين.


ونختم بقوله تعالى: ﴿وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
ناصر شيخ عبد الحي
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية سوريا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست