أمريكا ليست محصنة ضد الانقلابات والانقلابات المضادة
أمريكا ليست محصنة ضد الانقلابات والانقلابات المضادة

الخبر:   قبل عدة أيام، كتب في أحد عناوين سي إن إن: "لن ينجح الملك اللعين: كبار الجنرالات يخشون أن يحاول ترامب الانقلاب بعد الانتخابات"، وهو اقتباس مذهل من كتاب جديد عن الرئيس السابق ترامب سيصدر الأسبوع المقبل. كان رئيس هيئة الأركان المشتركة، الجنرال مارك ميلي، خائفاً للغاية من انقلاب مستوحى من ترامب للبقاء في منصبه بعد انقضاء فترة انتخابه لدرجة أنه جمع رؤساء الأركان من جميع أنحاء الفروع العسكرية لمنع ترامب من النجاح، وقال: "لا يمكنك فعل هذا بدون الجيش. لا يمكنك فعل هذا بدون وكالة المخابرات المركزية ومكتب التحقيقات الفيدرالي. نحن الرجال المسلحون".

0:00 0:00
Speed:
July 18, 2021

أمريكا ليست محصنة ضد الانقلابات والانقلابات المضادة

أمريكا ليست محصنة ضد الانقلابات والانقلابات المضادة

(مترجم)

الخبر:

قبل عدة أيام، كتب في أحد عناوين سي إن إن: "لن ينجح الملك اللعين: كبار الجنرالات يخشون أن يحاول ترامب الانقلاب بعد الانتخابات"، وهو اقتباس مذهل من كتاب جديد عن الرئيس السابق ترامب سيصدر الأسبوع المقبل. كان رئيس هيئة الأركان المشتركة، الجنرال مارك ميلي، خائفاً للغاية من انقلاب مستوحى من ترامب للبقاء في منصبه بعد انقضاء فترة انتخابه لدرجة أنه جمع رؤساء الأركان من جميع أنحاء الفروع العسكرية لمنع ترامب من النجاح، وقال: "لا يمكنك فعل هذا بدون الجيش. لا يمكنك فعل هذا بدون وكالة المخابرات المركزية ومكتب التحقيقات الفيدرالي. نحن الرجال المسلحون".

التعليق:

هذا الكشف عن تسييس الجيش الأمريكي واستعداده للقيام بانقلاب مضاد فعلياً إذا فشل ترامب في قبول الهزيمة في انتخابات 2020، يُظهر أن الجيش هو صاحب الكلمة الأخيرة: إنهم "الرجال المسلحون" "، كما قال الجنرال! هذا الكتاب، الذي يحمل عنوان: "يمكنني بمفردي إصلاح الأمر"، يتضمن أيضاً محادثات بين الجنرال ميلي ونانسي بيلوسي، أحد الخصوم الرئيسيين لترامب في الكونجرس، حول مخاوف بيلوسي من احتمال استخدام ترامب للأسلحة النووية في الأيام الأخيرة من رئاسته. واعتبرت بيلوسي أن ترامب يمثل خطراً كبيراً لدرجة أنها دفعته خلال عمليتي عزل في الكونجرس، رغم أنها فشلت في إدانته في مجلس الشيوخ، الذي يهيمن عليه الجمهوريون. على الرغم من كل مخاوفها من ترامب، كانت تخشى أن يظهر رئيس أمريكي في المستقبل ويشكل خطراً أكبر على الديمقراطية: "قد نحصل على شخص عاقل من أتباعه، وسيكون هذا أمراً خطيراً حقاً، لأنه قد يكون شخصاً ذكياً، واستراتيجياً".

إن حقيقة أن الجيش يمتلك السلطة كانت مخفية إلى حد كبير عن الوعي الغربي، حيث نادراً ما كان الجيش بعيداً عن القيادة السياسية حيث كان الإيمان بالدستور وسيادة القانون والعملية السياسية مستقراً. زعزعت رئاسة ترامب هذا الاعتقاد وكشفت انقسامات عميقة، وعلى الرغم من خسارة ترامب في الانتخابات وتعرضه للكثير من الإذلال، إلا أنه في الواقع حصل على واحد من أعلى عدد من الأصوات حققه أي مرشح على الإطلاق في تاريخ الولايات المتحدة. علاوة على ذلك، نجح ترامب في ترسيخ موقفه بين الجمهوريين التقليديين، ووسائل الإعلام المحافظة التي تخلت عنه لفترة وجيزة خلال الفترة الانتقالية، وأيضاً أنصاره اليمين المتطرف الذين ضحوا بأنفسهم من أجله عندما اقتحموا الكونجرس حيث تم التصديق على نتائج الانتخابات التي لا يزال ترامب يشكك فيها بشدة.. واندفعت الحشود في أرجاء الكونجرس بحثاً عن أعضاء الكونجرس ونائب الرئيس الذين تم تهديدهم بالشنق بتهمة الخيانة.

كثيراً ما دعمت الولايات المتحدة الجيوش في البلدان الأخرى للإطاحة بالحكومات المنتخبة عندما يتناسب هذا مع مصالح الولايات المتحدة. في عام 2013، أطاح وزير الدفاع المصري بحكومة محمد مرسي، وزج به في السجن حيث توفي في النهاية بسبب سوء المعاملة، وقتل مئات المتظاهرين في يوم واحد. يعتبر السيسي حليفاً رئيسياً للولايات المتحدة و"الديكتاتور المفضل" لترامب، ومصر هي واحدة من العديد من البلدان التي استخدمت فيها الولايات المتحدة انقلاباً عسكرياً للإطاحة بحكومة منتخبة ديمقراطياً لا يمكنها أو لا تخدم مصالح الولايات المتحدة. يعرف الجيش الأمريكي أكثر من أي شخص أهمية البندقية في الداخل والخارج. للولايات المتحدة أيضاً تاريخ طويل في إثارة النضال الثقافي والاقتصادي لتخريب الحكومات في الخارج، ومن المفارقات أنه في عام 2016، مع انتخاب ترامب، كان على الحزب الديمقراطي أن يشتكي بصوت عالٍ من التدخل الروسي في الانتخابات ويدعي أن بوتين نفسه أمر بشن حملة إلكترونية ضخمة للتأثير على الانتخابات لصالح ترامب، وهو بالضبط ما فعله ديكتاتور ترامب المفضل بمباركة ودعم أمريكا في مصر خلال الإدارة الديمقراطية السابقة لباراك أوباما.

قبل أيام، زعمت صحيفة الجارديان أن "فلاديمير بوتين أذن شخصياً بعملية وكالة تجسس سرية لدعم دونالد ترامب" غير المستقر عقلياً "في الانتخابات الرئاسية الأمريكية لعام 2016 خلال جلسة مغلقة لمجلس الأمن القومي الروسي، وفقاً لما يُعتقد أنه وثائق الكرملين المسربة". تدعم هذه الوثائق الجديدة المذهلة المزاعم التي قُدمت سابقاً بأن الروس لديهم معلومات مزعجة عن ترامب وأنهم كانوا يتلاعبون بحالته العقلية والانقسامات داخل المجتمع الأمريكي لصالح روسيا. من المؤكد أنه سيكون هناك نقاش حول صحة هذه الوثائق الجديدة، ولكن بغض النظر عن ذلك، فمن المؤكد بالقدر نفسه أن الانقسامات ستزداد عمقاً داخل المجتمع الأمريكي، وإذا كان على الحكومات الأجنبية تقديم يد المساعدة، فسيكون ذلك فقط عن طريق"إعادة الدجاج إلى الحظيرة ليستقر".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست