أمريكا مجرمة وتتهم غيرها بالإجرام!
أمريكا مجرمة وتتهم غيرها بالإجرام!

الخبر:   وصف الرئيس الأمريكي رئيس روسيا بوتين بأنه مجرم حرب بسبب إعلانه الحرب على أوكرانيا ومهاجمة المدن والقرى الأوكرانية.

0:00 0:00
Speed:
March 26, 2022

أمريكا مجرمة وتتهم غيرها بالإجرام!

أمريكا مجرمة وتتهم غيرها بالإجرام!

الخبر:

وصف الرئيس الأمريكي رئيس روسيا بوتين بأنه مجرم حرب بسبب إعلانه الحرب على أوكرانيا ومهاجمة المدن والقرى الأوكرانية.

التعليق:

لا مجال هنا لنفي الجرم العظيم الذي ترتكبه روسيا اليوم في أوكرانيا، ومن قبل ذلك بأسابيع جرائمها في كازاخستان التي لم يكترث لها بايدن، ومن قبلها في الشيشان التي قتلت وشردت فيها الآلاف دون أن تنبس أمريكا ببنت شفة، ومن قبلها قتل وتشريد ملايين في أفغانستان دون وصف أعمالها بجرائم حرب، ومن قبلها في تشيكوسلوفاكيا، وبولندا، ومن قبلها في وسط آسيا حيث تمت إبادة أكثر من نصف الشعب المسلم في أوزبيكستان وقرغيزستان وتركمانستان وكازاخستان وطاجيكستان وأذربيجان. كل ذلك موصوم في جبين روسيا وسوفياتيتها أكثر من جرائم حرب. لا شك في ذلك، ولا يماري في ذلك إلا أعمى البصيرة!

ولكن الحقيقة الأشد مرارة، والأكثر وضوحا، والأشد إيلاما وأذى هي أن يأتي هذا الوصف من رئيس دولة لا تنفك عن الولوغ في دماء البشر ولا يهدأ لها صوت مدفع تجلجل قذائفه في سماء هانوي والعراق، وتدوس دباباته البشر في كوريا وأفغانستان، وتهلك قذائفه النووية الملايين في هيروشيما وناغازاكي اليابانيتين.

أمريكا التي تصم روسيا ورئيسها بمجرم حرب، هي بلا شك أكثر إجراما وأفظع تنكيلا، وأشد بطشا من روسيا. أمريكا في سجلها غير المشرف حرب نووية استخدمت فيها قنابل ذرية بعد أن كانت الحرب العالمية الثانية قد انتهت ولم يعد هناك سبب لاستخدام هذه القنابل المهلكة للحرث والبشر. أمريكا في سجلها الإجرامي أكثر من 60 مليون قتيل على مدى مئة عام تحولت دماؤهم إلى لعنة تطاردها من أمريكا الجنوبية، إلى الفلبين وإسبانيا وفيتنام وكوريا وأفغانستان، إلى العراق وسوريا، وليبيا، وغيرها من بقاع الأرض.

أمريكا التي تلصق بغيرها جرائم الحرب، هي أكثر الدول على مدى التاريخ جرما وتقتيلا وتشريدا. هذه التي تدعي الدفاع عن حقوق الإنسان هي أول من قتل في الإنسان إنسانيته وحوله إلى غرائزي شهواني لا يعرف من حياته إلا المال والشهوات والغرائز والمنفعة الآنية. أمريكا هي التي كانت ولا تزال خلف كل مصيبة في العالم بل وكل كارثة. فالحروب وتجارة السلاح وقوافل المرتزقة وإشعال الحروب والفتن والاقتتال بين أبناء الشعب الواحد تقف وراءها أمريكا.

من الذي فجر فتنة دموية بين المسلمين شيعة وسنة في العراق غير أمريكا؟ من الذي فجر قتالا في اليمن بين الحوثيين وباقي أهل اليمن والذين طالما كانوا إخوة غير أمريكا؟ من الذي قسم كوريا إلى كوريتين متناحرتين غير أمريكا؟ من الذي قسم فيتنام إلى أختين متناحرتين لأكثر من 10 سنين غير أمريكا؟ من الذي شرذم سوريا ألف فصيل وفصيل يشرد بعضهم بعضا ويقتتلون بسلاحها وتمويلها غير أمريكا؟ ومن الذي يقف حجر عثرة أمام البشر في ليبيا وأمام سلمهم واستقرارهم وحفظ دمائهم، من غير أمريكا؟

ومن الذي يقف اليوم وراء أكبر كارثة تهدد البشر جميعا من خلال غازات المصانع، والكربون المنبعث، والأكسجين المنحبس، وارتفاع حرارة كوكب الأرض، والإنذار بإغراق مدن ودول منها الإسكندرية في مصر؟ من الذي يمنع التوصل إلى حلول جذرية بهذا الصدد؟ من غير أمريكا التي تصم غيرها بالإجرام وهي ليست إلا جريمة متحركة بين الشعوب تفتك ذات اليمين وذات اليسار؟

من الذي يقف وراء أكبر تجارة للمخدرات في العالم، ويمول تجارة السلاح بمال المخدرات، من غير أمريكا؟ ومن الذي يغرق العالم بالدولارات، ويزيد التضخم في العالم ويؤجج الأسعار، ويحرم بطون الملايين من البشر من لقمة تسد جوعهم؟ أليست هي أمريكا برأسماليتها وأفكارها العفنة وديمقراطيتها البائسة الكاذبة؟

أمريكا هذه أم الجرائم التي لا تنتهي تملك من الوقاحة والدنائة أن تصف غيرها بالمجرم وهي ملكة الإجرام!

أمريكا هذه بالأمس أقامت الدنيا ولم تقعدها هجوما على (إرهاب) وصمت به الإسلام وهي أول من خلق فكرة الإرهاب ومولها وحشد لها وجند لها المال والإعلام والإرهابيين. في العام 1972 مكنت لعملية عسكرية في أولمبياد ميونخ وألصقتها بالفلسطينيين كي تتمكن من السيطرة على مفاتيح قضية فلسطين حتى لا يتمكن أحد من حلها لا سلما ولا حربا. وفي سنة 1982 ساعدت على قتل بعض من رجالها في لبنان لتشيع الذعر من إرهاب قادم، ومن ثم رتبت لتفجير مركز التجارة العالمية في نيويورك ومن بعدها مكنت من تفجير برجي التجارة في أعنف إرهاب أمريكي شهده التاريخ في 2001/9/11 ليس لشيء إلا لتتمكن من احتلال دول في أقصى العالم في أفغانستان والعراق ونشر قواعدها في الخليج.

وأمريكا قبل هذا وذاك لا تزال تشن حملة قذرة تتهم الإسلام اليوم بالإرهاب، وتتهمه في الأمس بالقتال وسفك الدماء من أجل نشر الإسلام، وتجعل من الجهاد والذي هو أسمى المعاني وأرقى ما يمكن للبشرية أن تصل إليه فيما يسمى قواعد الاشتباك، تصم هذا الجهاد بأنه شكل من أشكال الإرهاب، وتجعل مجرد الحديث عنه أو ذكره تهمة تلاحق صاحبها وتودي به إلى المهالك، حتى غدا أبناء المسلمين يخافون من التلفظ بالجهاد. سبحان الله ما أوقحك وأصلفك يا أمريكا!

أمريكا لا ترعوي عن وصم كل من يمكن أن يشكل تهديدا لمصالحها ومنافعها غير الشرعية بأشنع الأوصاف، وأن تسخر له كل أدواتها الإعلامية والعمالاتية والمالية لتقذفه بالحمم والنيران والإجرام.

أمريكا هذه التي تصف بوتين بالإجرام وهو كذلك، هي نفسها التي جلبته إلى سوريا وحمت ظهره، وجعلت سوريا ساحة لحمم جيشه وجرائمه. وهي نفسها التي مهدت كل السبل اللازمة لبوتين لضرب أوكرانيا وقتل شعبها وتشريد أكثر من 10 ملايين نسمة خلال أسبوعين من القصف والبطش.

لستِ بريئة يا أم الديمقراطية والرأسمالية والإرهاب، لست بريئة. ولكن من ذا الذي يجرؤ أن يوقفك عند حدك وينسيك وساوس الشيطان غير إمام عادل، خليفة يحكم ملياراً ونصف المليار مسلم، وترتفع رايته على الأرض برها وبحرها وجوها؟ ليسوا هم المسلمون وحدهم من يحتاج اليوم لخليفة ذي سطوة وعدل، بل العالم كله يحتاج للإسلام ورايته وخليفته وعدله ونظامه وقوته. العالم كله يحتاج الإسلام، كل العالم بمحيطاته وما بها من حيتان، وأجوائه وما بها من صقور وعقبان، والسهول بما فيها من زيتون ورمان، والجبال بما فيها من صخور وصوان، والناس بما فيها من عرب وفرس ورومان، ليكف العالم شرور الطغيان، وآفات الأمريكان، فالكل اليوم محتاج للإسلام العظيم وللقرآن.

﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست