أمريكا: رئيس جديد وليس جديد رئيس!
أمريكا: رئيس جديد وليس جديد رئيس!

الخبر:   تكتمل يوم الثالث من تشرين الثاني/نوفمبر انتخابات الرئاسة الأمريكية لتفرز اللعبة الديمقراطية أحد فرسي رهان...

0:00 0:00
Speed:
October 26, 2020

أمريكا: رئيس جديد وليس جديد رئيس!

أمريكا: رئيس جديد وليس جديد رئيس!

الخبر:

تكتمل يوم الثالث من تشرين الثاني/نوفمبر انتخابات الرئاسة الأمريكية لتفرز اللعبة الديمقراطية أحد فرسي رهان...

التعليق:

دأبت أمريكا منذ تأسيسها على ترسيخ فكرة تداول السلطة وانتخابات رئاسية كل 4 سنين، مع إمكانية الرئيس الحالي أن يفوز لمرة ثانية دون التكرار، ليكون مجموع الفترة الرئاسية لأي رئيس لا تتجاوز 8 سنين. وخلال القرنين الماضيين تمحور التنافس على منصب الرئيس حول حزبين رئيسين الجمهوري والديمقراطي. وجعل مؤسسو الدولة الفيدرالية الأمريكية الرأي الحاسم لفوز أحد المرشحين لمجموعة من الأشخاص في كل ولاية يطلق عليهم اسم مندوبي الأصوات Electoral Votes. وكأنهم أرادوا أن يكون هناك ضابط فوق صوت الجمهور ليتم اختيار الرئيس على غير قياس رأي الجمهور. كما تشكلت خلال مسيرة الاتحاد الفيدرالي الطويلة فئات مختلفة ذات مصالح قوية في الدولة، تطورت إلى مجموعات ضغط، ثم إلى دولة عميقة تسير أعمال الدولة من خلال رئيس ينتخبه الناس. والدولة العميقة هذه تشكلت من مجموعات وأفراد تتناقض مصالحهم وتتضارب أكثر مما تتلاقى وتتواءم، ولكنها تمكنت من إيجاد آليات محددة لتوزيع المصالح والمنافع بحيث يصل كل فئة ما يناسبها أو يناسب نفوذها. وأبرز هذه الآليات مجلس الشؤون الخارجية الذي تشكل عام 1921 ليكون أداة الدولة العميقة القوية، ومجلس كارتيل النفط والذي يضم شركات النفط الكبرى.

وعلى ذلك فقد أصبحت انتخابات أمريكا منذ زمن بعيد لا تؤثر في مسيرة السياسة الأمريكية بشكل كبير، وإن كانت تعتبر مناسبة مهمة لتغيير الأساليب والوسائل التي تستخدم لتنفيذ الاستراتيجيات وتحقيق الغايات والأهداف. وقد حرصت مؤسسات الدولة العميقة على أن لا يكون الرئيس المنتخب من ذوي المصالح الكبرى والتي قد تؤدي إلى تغليب مصالحه على مصالح المتنفذين. ولم يشذ عن هذه القاعدة إلا عائلة بوش التي تملك مصالح كبرى في صناعة النفط.

أما ترامب فهو وإن كان من أصحاب المصالح، ألا أن مصالحه ليست من المصالح الرئيسة في الاقتصاد الأمريكي فهو ليس جزءاً من الدولة العميقة ولا علاقة له بها، إنما هو منفذ كغيره من الرؤساء التنفيذيين. ومثله في ذلك بايدن ومن قبله أوباما وكلينتون. ولذلك فإن مجريات الانتخابات في أمريكا تجري بالطريقة الطبيعية دون تحيز لواحد ضد الآخر، وإن كان ترامب حاول أن يظهر أن خسارته في الانتخابات إن حصلت فسوف تكون بسبب تخلي الدولة العميقة عنه. من هنا فإننا نستطيع أن نفهم كثرة حديث ترامب عن الانتعاش الاقتصادي وزيادة الثروة وتشجيعه للبنك الفيدرالي أن يصدر عدة تريليونات من الدولارات والتي تفيد جيوب كبار المتنفذين وأصحاب المصالح الكبرى.

والذي نريده من هذا الحديث اليوم، ليس ترجيح من يفوز أو يخسر، ولا من هو أقدر على رسم الخطط والسياسات، فكل هذه يتم ترتيبها بغض النظر عن الفائز. ولكن ما نريد أن يفهمه الناس عامة والمسلمون خاصة، هو أن الديمقراطية التي طالما سوقها الغرب إلى العالم ما هي إلا خدعة كبرى ووهم خالص ليست أقل من خدعة الرأسمالية ووهم المال. فلطالما قالوا إن الديمقراطية هي حكم الشعب، وأن الشعب بمجموعه يحكم نفسه من خلال مجالس تشريعية ينتخبها الناس، وأن من ينفذ الحكم هو الشعب من خلال من ينتخبه من الرؤساء. وقد أصبح ماثلا للعيان أن من ينتخبه الشعب هو واحد ممن تقدمهم الدولة العميقة وأصحاب المصالح الكبرى في حلبة أشبه ما تكون بحلبة سباق الخيل أو قل الكلاب. فيتسابق الناس على المراهنة على أحدهم ليفوز في السباق، وليس للناس في نهاية المطاف أي شأن في هذا ولا ذاك. وكذلك انتخاب مجالس النواب لا تختلف عن انتخابات الرئيس بأي شكل، فهي لا تستطيع تشريع قانون ولا إصدار أي تشريع يتعارض بأي شكل مع مصالح الفئة الأقوى في الدولة. ومن هنا كانت الديمقراطية هي وهم لا حقيقة. فليس صحيحا أن الناس هم من يحكمون أنفسهم أو يشرعون لأنفسهم، بل إن الناس في الدولة الديمقراطية كالولايات المتحدة هم من يعطون الثقة لمجموعة من الأفراد يتم تقديمهم من قبل مؤسسات وأدوات الحكومة العميقة ليشرعوا ويصدروا من الأحكام والقوانين ما يحمي مصالح الكبار ويمكنهم من نهب الثروات وحصد الأموال واستعباد الشعب نفسه الذي لم يأل جهدا في إعطاء ثقته. وبالطريقة نفسها فإن الناس يلهثون في ماراثون الانتخابات الرئاسية ليوصلوا للبيت الأبيض الشخص نفسه الذي قدمته أدوات الدولة العميقة، لينفذ ما يخدم مصالحهم ويحقق أهدافهم في داخل الدولة أو خارجها.

فالديمقراطية هي مجرد وهم وليست حقيقة، وإن كان هذا الواقع أصبح ملموسا لدى كثير من الشعوب، إلا أنها لا ترى أو لا تملك بديلا عن هذا الوهم البراق. وهذا خلاف ما عليه المسلمون، الذين يملكون الحقيقة الكاملة التي ليس فيها مراء ولا يعتريها الباطل من بين يديها ولا من خلفها. فالمسلمون يؤمنون بالله عز وجل الذي خاطبهم وقال لهم بصريح العبارة إن قضية الحكم والتشريع قد حسمت وأنه ليس لأحد من البشر حق في حكم غيره والتشريع لغيره، لأنه بذلك يكون قد نقض أهم عروة من عرى الإيمان وهي مطلق العبودية والدينونة لله. فالله تعالى يقول: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ﴾. ويقول سبحانه: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾...

وهكذا في عشرات الآيات والأحاديث تظهر حقيقة الإسلام مقابل وهم الديمقراطية التي هي لا تعدو أن تكون سرابا يحسبه الظمآن ماء فإذا جاءه لم يجده شيئا!

فلو لم يكن في انتخابات أمريكا اليوم درس إلا إدراك وهمها وتهافتها مع ديمقراطية تقدس مصالح المتنفذين أمام عظمة الإسلام وتقديس الخالق لكفت. ولعل العبرة العظمى خلال هذه الانتخابات هي ضرورة حث الخطا وتغذية السير لنقدم للعالم البديل الأعظم عن الأقل شأنا والأكثر انحطاطا ليعود الإسلام بنظامه ودولته وعظمته ونوره يبدد ظلمات الديمقراطية والرأسمالية.

﴿الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست