أمريكا تعلن حلف أوكوس العسكري لمنطقة الهند الصينية
أمريكا تعلن حلف أوكوس العسكري لمنطقة الهند الصينية

الخبر:   أوردت وكالة أسوشيتدبرس يوم الأربعاء 2021/9/15 عن رئيس الولايات المتحدة خبر الإعلان عن حلف عسكري جديد ضم الولايات المتحدة وبريطانيا وأستراليا (أوكوس) لضمان أمن منطقة المحيط الهندي والهادي، وجاء في الإعلان أن هذا الحلف يهدف إلى التعاون في تعزيز المقدرات الأمنية في هذه المنطقة والتي تشمل تزويد أستراليا بغواصات مسيرة بالطاقة النووية.

0:00 0:00
Speed:
September 27, 2021

أمريكا تعلن حلف أوكوس العسكري لمنطقة الهند الصينية

أمريكا تعلن حلف أوكوس العسكري لمنطقة الهند الصينية

الخبر:

أوردت وكالة أسوشيتدبرس يوم الأربعاء 2021/9/15 عن رئيس الولايات المتحدة خبر الإعلان عن حلف عسكري جديد ضم الولايات المتحدة وبريطانيا وأستراليا (أوكوس) لضمان أمن منطقة المحيط الهندي والهادي، وجاء في الإعلان أن هذا الحلف يهدف إلى التعاون في تعزيز المقدرات الأمنية في هذه المنطقة والتي تشمل تزويد أستراليا بغواصات مسيرة بالطاقة النووية.

التعليق:

أوردت وكالات الأنباء أن الإعلان عن هذا الحلف الجديد من شأنه أن يعمق الهوة المتزايدة بين أمريكا والصين. وقد وصف وزير خارجية الصين زاو ليجيان الإعلان عن الحلف الجديد في اليوم التالي لإعلانه بأنه خطوة غير مسؤولة وأنه يهدد السلم والاستقرار الإقليمي ويؤدي إلى سباق تسلح ويضر بالجهود المبذولة لمنع الانتشار النووي. كما وصف التحالف الأمريكي البريطاني أنه أداة للعب على المسرح الدولي التي تعشق عقلية الحرب الباردة. بينما وصفت وسائل الإعلام الصينية أستراليا بأنها أصبحت عدوا وعليها توقع الأسوأ.

أما فرنسا والتي خسرت صفقة بناء الغواصات النووية الأسترالية فقد ردت باستدعاء سفيريها من واشنطن وأستراليا للتشاور، وهي عملية تعبر عن غضب فرنسا وعدم رضاها، وقد وصف وزير خارجية فرنسا بأن الحلف الجديد وما رافقه من إلغاء صفقة الغواصات مع فرنسا بأنها طعنة من الخلف من الحلفاء، وبأنه خطوة غير مقبولة بين الحلفاء والشركاء، وأن تبعاتها ستؤثر على أساس الحلف القائم والتعاون، وأهمية قضايا المحيط الهندي والهادي لأوروبا.

أما موقف أمريكا الرسمي فقد بينه الرئيس بايدن في خطابه أمام الجمعية العامة للأمم المتحدة يوم 2021/9/21 بقوله إن أمريكا قد حددت أولوياتها الإقليمية والعالمية كما هو الحال في إقليم محيطي الهندي - الهادي. وأن أمريكا لا تسعى لإشعال حرب باردة. أما فيما يتعلق بغضب فرنسا لخسارة صفقة الغواصات فقد قال بايدن إن هذه الصفقة تدخل حكم التنافس الرأسمالي وأن أمريكا ستنافس وبشدة بغض النظر عن العلاقات الخاصة التي تربطها بغيرها.

والناظر في الحلف الجديد وبدقة لا بد أن يلاحظ مسائل مهمة عدة، أهمها:

أولا: بعد أن اطمأنت أمريكا إلى علاقة مهمة مع روسيا على المسرح الدولي، فقد عمدت إلى التركيز على القضية الإقليمية الأهم وهي قضية الصين في المحيطين الهندي والهادي. وفي ثنايا هذا التوجه تكون أمريكا قد صرفت النظر عن اعتبار الصين قوة دولية، وعادت لتعمل على حصر النفوذ الصيني في الإقليم الهندي - الهادي.

ثانيا: لم تعد أمريكا مهتمة بترتيب قوانين لعبة حرب باردة مع الصين كما سماها وزير خارجية الصين، ولكن في المقابل تعمد أمريكا إلى فرض سباق تسلح مع الصين. ولعل هذا السباق يحمل أكثر من هدف. فمن ناحية فإن سباق التسلح بالنسبة للصين سيؤدي إلى إرهاق اقتصادها وبالتالي عدم تمكينها من الاستمرار في تعزيز اقتصادها لتصبح منافسا حقيقيا ودائما لقوة أمريكا. ومن الناحية الثانية فإن سباق التسلح هذا من شأنه أن يبقي دول منطقة المحيطين الهندي والهادي شديدة الحذر والإذعان للهيمنة الأمريكية.

ثالثا: إن عدم إشراك فرنسا في حلف أوكوس يشير إلى استبعاد أمريكا للاتحاد الأوروبي وعلى رأسه فرنسا من شؤون الإقليم الهندي - الهادي. ولعل هذا هو سبب غضب فرنسا الأكبر، وموقف دول الاتحاد الأوروبي بما فيها ألمانيا. أما إشراك بريطانيا في قضية الإقليم الهندي - الهادي فبريطانيا جزء مهم من هذا الإقليم بسبب ارتباط أستراليا العضوي مع بريطانيا من خلال الكومنولث، ومن ناحية أخرى فإن بريطانيا قد خرجت من الاتحاد الأوروبي وبالتالي فإن إشراكها في الحلف لا يؤثر على الهدف الاستراتيجي الخاص باستبعاد أوروبا وعدم إشراكها في القضايا الإقليمية المهمة.

رابعا: أما إلغاء صفقة الغواصات الفرنسية الأسترالية فله دلالات عدة. أهمها أن الرأسمالية العالمية ليست إلا غابة وحوش مفترسة كما عبر عنها كثير من قادة الدول الرأسمالية في تعليقهم على قضية الغواصات. فبينما بايدن يقول إننا مستعدون للمنافسة بكل شراسة، فهو لا يلتزم أبدا بقوانين المنافسة الرأسمالية والتي تجعل السوق وعمليات السوق هي الضابط للتنافس بين الشركات الرأسمالية. فلا يشك أحد أن إلغاء الصفقة الفرنسية الأسترالية هو عمل سياسي تم استخدام كل أدوات الضغط السياسي والبلطجة السياسية بعيدة عن أي نوع من التنافس. وقد شهدنا باستمرار كيف أن الشركات العالمية يتم إقصاؤها من كثير من الصفقات لصالح شركات أمريكية أقل مقدرة على التنافس وأكثر استغلالا للربح المالي من غيرها. ففي السعودية كانت أمريكا قد عملت على إلغاء صفقات شركة إريكسون السعودية لصالح شركات الاتصالات الأمريكية. وفي العراق حصرت أمريكا الصفقات الكبرى لصالح شركة هاليبرتون التي كان يرأسها ديك تشيني. وفي أفغانستان تم استبعاد أكبر الشركات المنافسة لمد خط أنابيب تابي للغاز لصالح شركة ينيكول الأمريكية.

والحاصل أن العالم لا يزال يعيش عصر الهيمنة والبلطجة السياسية تحت وطأة سباق التسلح، والحرب الباردة التي قد تغدو ساخنة، والتسلط الرأسمالي المدعوم بالقوة العسكرية والسياسية، ما يجعل العالم وشعوبه ودوله تعاني أشد المعاناة، وتستمر بالعيش في أسوأ الظروف المالية والسياسية والمعيشية. ما يجعل الحاجة اليوم أكثر من أي وقت مضى لنظام عالمي جديد يشيع الأمن والأمان بدلا من شبح الحرب المستمر، والعيش الطبيعي بدلا من ضنك العيش، والعدل بدلا من الظلم والطغيان. وهذا عينه ما جاء الإسلام ليحققه على مستوى البشرية كلها. ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيز﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست