أمريكا تبدأ توزيع أسلحة على وحدات حماية الشعب الكردية السورية
أمريكا تبدأ توزيع أسلحة على وحدات حماية الشعب الكردية السورية

الخبر: رويترز 2017/5/30 - قالت الولايات المتحدة يوم الثلاثاء إنها بدأت في توزيع أسلحة على فصيل كردي سوري يقاتل للمساعدة في استرداد مدينة الرقة من تنظيم الدولة الإسلامية. وبذلك تمضي واشنطن في خطتها الحربية التي أثارت غضب تركيا حليفتها في حلف شمال الأطلسي. وقال مسؤول أمريكي طلب عدم نشر اسمه إن توزيع الأسلحة بدأ في الساعات الأربع والعشرين الأخيرة بناء على تفويض من الرئيس الأمريكي دونالد ترامب هذا الشهر. ولم يرد أي رد فعل من تركيا التي حذرت الولايات المتحدة من أن قرار تسليح القوات الكردية التي تقاتل الدولة الإسلامية في سوريا قد ينتهي بإيذاء واشنطن. وتعتبر تركيا وحدات حماية الشعب الكردية امتدادا لحزب العمال الكردستاني المحظور الذي يشن تمردا في جنوب شرق تركيا منذ عام 1984 وتعتبره واشنطن والاتحاد الأوروبي وأنقرة تنظيما إرهابيا. لكن الولايات المتحدة تعتبر الوحدات الكردية شريكا مهما في الحرب ضد تنظيم الدولة الإسلامية في شمال سوريا.

0:00 0:00
Speed:
May 31, 2017

أمريكا تبدأ توزيع أسلحة على وحدات حماية الشعب الكردية السورية

أمريكا تبدأ توزيع أسلحة على وحدات حماية الشعب الكردية السورية

الخبر:

رويترز 2017/5/30 - قالت الولايات المتحدة يوم الثلاثاء إنها بدأت في توزيع أسلحة على فصيل كردي سوري يقاتل للمساعدة في استرداد مدينة الرقة من تنظيم الدولة الإسلامية. وبذلك تمضي واشنطن في خطتها الحربية التي أثارت غضب تركيا حليفتها في حلف شمال الأطلسي.

وقال مسؤول أمريكي طلب عدم نشر اسمه إن توزيع الأسلحة بدأ في الساعات الأربع والعشرين الأخيرة بناء على تفويض من الرئيس الأمريكي دونالد ترامب هذا الشهر. ولم يرد أي رد فعل من تركيا التي حذرت الولايات المتحدة من أن قرار تسليح القوات الكردية التي تقاتل الدولة الإسلامية في سوريا قد ينتهي بإيذاء واشنطن.

وتعتبر تركيا وحدات حماية الشعب الكردية امتدادا لحزب العمال الكردستاني المحظور الذي يشن تمردا في جنوب شرق تركيا منذ عام 1984 وتعتبره واشنطن والاتحاد الأوروبي وأنقرة تنظيما إرهابيا. لكن الولايات المتحدة تعتبر الوحدات الكردية شريكا مهما في الحرب ضد تنظيم الدولة الإسلامية في شمال سوريا.

التعليق:

تقوم السياسة الأمريكية على تحقيق المصالح الأمريكية، والمصلحة الأمريكية في شمال شرقي سوريا ليست فقط هي طرد تنظيم الدولة من الرقة، فالجيش التركي يستطيع فعل ذلك، وقد طلبت تركيا مراراً أن تشركها واشنطن في حرب "تحرير الرقة"، ولكن أمريكا رفضت ذلك جملةً وتفصيلاً. وهذا يشير إلى المصالح الأمريكية بإشراك الأكراد في معركة الرقة وإعلاء شأنهم في شمال شرقي سوريا تمهيداً لإنشاء كيان كردي على غرار كردستان العراق. فالنظرة الأمريكية للمنطقة بعد الثورة السورية بأن الأكراد هم أكثر الجهات العلمانية التي يمكن الاعتماد عليها من ناحية، ومن ناحية ثانية فإن دعم إنشاء كيان للأكراد شمالي سوريا يوجد لأمريكا حليفاً مهماً ضد ثوار سوريا، وضد تركيا حينما يلزم. فهذه هي الاستراتيجية الأمريكية شمالي سوريا.

وعلى الرغم من أن الأكراد كانوا أكثر مكونات الشعب السوري تعرضاً لنقمة النظام المجرم، إلا أنه سرعان ما تم تسوية العلاقات بينهم وبين النظام بحيث أصبحوا يقاتلون وكأنهم في خندق واحد ضد ثوار سوريا، وظلت مدينة قامشلي شاهداً على العلاقات الحسنة بين النظام المجرم ووحدات حماية الشعب الكردي. وقد وجدت أمريكا ضالتها السورية في الأكراد بسرعة استجابة التنظيمات الكردية للتعليمات الأمريكية، ما رشحهم للتربع على رأس القائمة الأمريكية للجهات التي يمكن الاعتماد عليها في سوريا، وهكذا كان. فأرسلت أمريكا قواتها الخاصة إلى منبج للفصل بين وحدات حماية الشعب الكردية وقات درع الفرات المدعومة من تركيا، وفعلاً منعت الاحتكاك بينهما، ناهيك عن إغلاق الطريق بالكامل في وجه الجيش التركي مع الفصائل السورية المسلحة الموالية لتركيا، والتي كانت تحضر نفسها لخدمة أمريكا في معركة الرقة.

كانت إدارة أوباما تمني الرئيس التركي أردوغان بدور أكبر في سوريا، وكانت لا تمانع في مشاركته في معركة الرقة، لكن إدارة ترامب الجديدة التي صارت تقطف بعض الثمار للنجاح في سوريا والناتج عن التعاون الكبير من تركيا لتصفية الثورة السورية، فكان الضغط التركي على الثوار لتسليم مدينة حلب للنظام السوري أكبر إنجاز تحققه تركيا للسياسة الأمريكية، وبمجيء ترامب رئيساً لأمريكا مع هذه الثمار التركية فقد أخذ يتنصل من وعود أوباما لأردوغان، ومضى ينفذ سياسات أمريكا بخصوص الكيان الكردي.

كانت تركيا - أردوغان تنتظر من أمريكا أن تعترف لها بالخدمات الكبيرة التي قدمتها تركيا لواشنطن في سوريا، ولكن أمريكا كعادة الكبار أمام الصغار، رفضت ذلك وأعطت الأولوية للمصالح الأمريكية. فضجت تركيا وصرخت بأن الدعم الأمريكي لوحدات حماية الشعب الكردي إنما هي دعم لـ(الارهاب)، وأن ذلك يتعارض بالكامل مع مصالح تركيا، التي تتخوف من تلك الكيانات الكردية شمالي سوريا والعراق، ولكن مواقف تركيا تلك كانت مجرد صراخ، وكانت للاستهلاك المحلي التركي، فقام أردوغان بزيارة واشنطن واجتمع مع الرئيس ترامب دون أن يحقق شيئاً، ثم أرسل أردوغان وزير خارجيته على رأس وفد تركي للاستماع لمحاضرة ترامب في الرياض ضمن القادة الرويبضات الـ 55 الذين حضروا ما سمي بالقمة (الإسلامية) الأمريكية، ثم التقى أردوغان بترامب خلال قمة بروكسل الأخيرة لحلف شمالي الأطلسي.

وفي نهاية المطاف فقد مضت أمريكا في تنفيذ سياساتها دون أي اعتبار لمصلحة تركيا شمال سوريا التي تسميها حليفاً، وما هي في الحقيقة عند أمريكا إلا خادم. وماذا فعل أردوغان أمام هذه السياسة الأمريكية التي تقوم بتسليح الأكراد تمهيداً لبناء كيان كردي شمال سوريا؟ والجواب لا شيء، لأن الصغار يجب أن يتبعوا سياسات الكبار، ويطالبوا الكبار ببعض المطالب، فإن وافق الكبار على تلبيتها كان به، وإلا فلا سبيل إلا الخضوع. هذا لمن قبل أن يكون خادماً للدول الكبرى، وقبل أن يعتبر من الصغار، فيا للعجب أن لا تستطيع تركيا تنفيذ أي سياسة في جوارها "سوريا" على مدار ست سنوات إلا بموافقة الكبار روسيا وأمريكا، اللتين جاءتا من بعيد للتدخل في الجوار التركي. كل ذلك على الرغم من أن تركيا تملك ثاني أقوى جيش في حلف الناتو بعد أمريكا، ولكن تأثير هذه القوة قد وضعها أردوغان في خدمة المصالح الأمريكية، ينفذ سياساتها ويحقق مصالحها كما كان في تسليم حلب، وجر الثوار إلى أستانة في كازاخستان، وأما مصالح الشعب التركي فتبقى بعيدة التحقيق في ظل حكم أردوغان، أحد رويبضات آخر العصر الجبري.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام البخاري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست