أمريكا تلعب بميزان القوى لتخفي ضعفها الاقتصادي والعسكري
أمريكا تلعب بميزان القوى لتخفي ضعفها الاقتصادي والعسكري

الخبر:   نشر موقع الجزيرة نت بتاريخ 2016/3/28 خبرًا عن مقال نشر في صحيفة واشنطن تايمز للكاتبة روان سكاربورو، تناول قدرة القوات الأمريكية على خوض حروب في الخارج، قائلةً: "إن الجيش الأمريكي قادر على التعامل مع حروب صغيرة الحجم ضد تنظيمي القاعدة والدولة، لكن يصعب عليه خوض حروب كبيرة ضد الصين وروسيا بسبب خفض الميزانيات وتقليص عدد أفراده ومعداته والحالة السيئة لأسلحته وضعف التدريب".

0:00 0:00
Speed:
March 30, 2016

أمريكا تلعب بميزان القوى لتخفي ضعفها الاقتصادي والعسكري

أمريكا تلعب بميزان القوى لتخفي ضعفها الاقتصادي والعسكري

الخبر:

نشر موقع الجزيرة نت بتاريخ 2016/3/28 خبرًا عن مقال نشر في صحيفة واشنطن تايمز للكاتبة روان سكاربورو، تناول قدرة القوات الأمريكية على خوض حروب في الخارج، قائلةً: "إن الجيش الأمريكي قادر على التعامل مع حروب صغيرة الحجم ضد تنظيمي القاعدة والدولة، لكن يصعب عليه خوض حروب كبيرة ضد الصين وروسيا بسبب خفض الميزانيات وتقليص عدد أفراده ومعداته والحالة السيئة لأسلحته وضعف التدريب".

كما ونقلت الكاتبة عن جلسات استماع للكونغرس خلال الأسابيع الماضية "أن ميزانية 2017 البالغة 524 مليار دولار لن تسمح للعديد من ألوية الجيش وأسراب القوات الجوية بالحفاظ على حالة الجاهزية في المستويات المطلوبة، فقوات البحرية، على سبيل المثال، ليس لديها ما يكفي من الطائرات للتدريب".

وأوردت على لسان رئيس لجنة القوات المسلحة بمجلس الشيوخ جون ماكين "أن سفن الأسطول الأمريكي البالغ عددها 272 أقل كثيرًا مما تتطلبه التحديات الأمنية الكبيرة، وأن حاملات الطائرات التي تؤكد قوة أمريكا حول العالم لا تستطيع البقاء باستمرار في منطقة الخليج العربي بسبب حاجتها إلى الصيانة".

كما أوردت الكاتبة كثيرًا من الأرقام التي تؤكد ما ذهبت إليه من شكوك في قدرة القوات الأمريكية على الدخول في حروب كبيرة في الخارج ضد جيوش مثل الجيوش الصينية أو الروسية".

التعليق:

بات الساسة في الولايات المتحدة الأمريكية يفضلون عدم إرسال الجيش للخارج أو الحد من ذلك للمشاركة في الحروب التي تحقق وتحمي المصالح الأمريكية، فمعروف عن الحزب الديمقراطي انتهاج هذا المنهج في التعامل مع الجيش، وعكسه تمامًا الحزب الجمهوري الذي يفضل توريط الجيش وإرساله للخارج لخوض الحروب، ولكن حصل مؤخرًا تحول عند الحزب الجمهوري نفسه بسبب خفض الميزانية العسكرية، فها هو مرشحه دونالد ترامب يفضل عدم إرسال الجيش للخارج والاعتماد على جيوش البلدان التي تقع تحت نفوذهم السياسي. فالحرب بالوكالة عن أمريكا في ظل الأزمات المالية التي تخيم على العالم بما فيه أمريكا بسبب طغيان المبدأ الرأسمالي الجشع، هو الخيار الأفضل لدى الساسة الأمريكان حتى الآن.

لقد أصبح الجيش الأمريكي الضعيف يستعرض عضلاته في حرب العصابات مع الجماعات المسلحة فقط ليحافظ على ما تبقى له من هيبة أمام العالم، ولكنه في الحقيقة أضعف من أن يواجه شعبًا أعزل مثل الصومال التي طردت الجيش الأمريكي شر طردة، فالجيش الأمريكي من حيث الجنود هم جبناء يولون الأدبار، وفيهم معدلات انتحار عالية، أما اليوم من حيث الميزانية فقد أصبح جيشًا ضعيفًا لدرجة أن أجمع كل الساسة الأمريكان في الحزبين الديمقراطي والجمهوري على عدم الاعتماد عليه في حروبهم في الخارج، وذلك حتى لا يتم القضاء عليه فينكشف أمرهم، ويظهر ضعفهم، فينال منهم أعداؤهم أو منافسوهم، فأصبحت أمريكا تفتعل الأزمات في كل المناطق ذات العمق الاستراتيجي لها فتقوم بإضعاف الدول التي عندها المقدرة على تهديد مصالح أمريكا عسكريًا أو اقتصاديًا، كما وإن أمريكا تقوم بقطع الطريق أمام من تظن أنه يمتلك مقومات النهوض والقوة.

من هنا نستطيع أن نفهم أحد أسباب جدية أمريكا في تفتيت وتمزيق البلدان لتغيير ميزان القوى؛ فوضعت على الطاولة مشروع الشرق الأوسط الكبير لتحقيق مزيد من الإضعاف عبر تقسيم البلدان، واستخدمت التحالفات الدولية والإقليمية العسكرية لتنفيذ المشروع، ولترهق أيضًا جيوش وميزانيات دول هذه التحالفات، ليبقى الجيش الأمريكي بقانون النسبة والتناسب هو الأقوى لأن مشاركة الجيش الأمريكي في هذه التحالفات هي مشاركة إدارية وقيادية على الأغلب. أما المشاركة التنفيذية فهي توكلها للدول المتحالفة معها، وبالتالي عبر تنفيذ أمريكا لمشروع الشرق الأوسط الكبير وغيره من المشاريع حول العالم تضعف كل الدول؛ إما بالاستهداف العسكري المباشر عليها أو باستغلال ميزانياتها واستهلاك جيوشها فتكون المحصلة هي إضعاف الجميع، في الوقت الذي لا تستطيع فيه أمريكا التحسين من مستوى جيشها المترهل بسبب ضعفها الاقتصادي.

ويبقى الوعي الفعال عند الأمة الإسلامية على قضيتها المصيرية، وهي النهوض بأعباء رسالتها للبشرية عبر العمل الجاد لإقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة هو الرصاصة القاتلة لأمريكا؛ لأنه بالوعي الفعال الذي يدفع الأمة للقيام بخطوة عملية، وهي ركل كل المرتزقة في الحكومات والجيوش إلى هاوية سحيقة نهائيًا وفعليًا، وبذلك ينقطع الوريد الرئيسي الذي يغذي أمريكا بالقوة والسيطرة على العالم، فتعود أمريكا لحالة العزلة التي كانت عليها ما قبل الحرب العالمية الثانية، ولكن هذه المرة لانتظار جحافل جيش الخلافة القادمة لينال شرف محو نظامها الرأسمالي الجائر من الوجود ونشر الخير فيها وفي ربوع العالم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس محمد مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست