أمريكا تمدّ يد العون لتونس لحماية حدودها فتدعم الجيش عتادا وتدريبا!
أمريكا تمدّ يد العون لتونس لحماية حدودها فتدعم الجيش عتادا وتدريبا!

الخبر: وقّع وزير الدّفاع الأمريكيّ مارك إسبر، أمس الأربعاء في تونس، في أوّل زيارة له إلى أفريقيا منذ تولّيه منصبه، اتّفاقا للتّعاون العسكريّ لمدّة 10 سنوات، مؤكّدا على أهمّيّة التّقارب مع تونس كشريك من أجل مواجهة تأزّم الوضع في ليبيا. وتطوّر دور الولايات المتّحدة في دعم الجيش التّونسي في السّنوات الأخيرة خاصّة من خلال التّدريبات والعتاد لمكافحة وحماية حدودها مع الجارة ليبيا، حيث الوضع الأمنيّ يزداد تأزّما مع تواتر التّدخّلات الأجنبيّة.

0:00 0:00
Speed:
October 02, 2020

أمريكا تمدّ يد العون لتونس لحماية حدودها فتدعم الجيش عتادا وتدريبا!

أمريكا تمدّ يد العون لتونس لحماية حدودها
فتدعم الجيش عتادا وتدريبا!


الخبر:


وقّع وزير الدّفاع الأمريكيّ مارك إسبر، أمس الأربعاء في تونس، في أوّل زيارة له إلى أفريقيا منذ تولّيه منصبه، اتّفاقا للتّعاون العسكريّ لمدّة 10 سنوات، مؤكّدا على أهمّيّة التّقارب مع تونس كشريك من أجل مواجهة تأزّم الوضع في ليبيا.


وتطوّر دور الولايات المتّحدة في دعم الجيش التّونسي في السّنوات الأخيرة خاصّة من خلال التّدريبات والعتاد لمكافحة وحماية حدودها مع الجارة ليبيا، حيث الوضع الأمنيّ يزداد تأزّما مع تواتر التّدخّلات الأجنبيّة.


وقال الوزير الأمريكيّ: "نحن مسرورون لتعميق التّعاون من أجل مساعدة تونس على حماية موانئها وحدودها". (الجزيرة نت، 2020/10/01).

التّعليق:


حسب دراسة نشرها "مركز كارنيغي للشّرق الأوسط" في 29 نيسان/أبريل 2020 والتي تحمل عنوان "تطوّر الجيش التّونسيّ ودور مساعدة قطاع الأمن الخارجي"، فإنّ الولايات المتّحدة تزوّد تونس بتمويل دوليّ للتّعليم والتّدريب العسكريّ بقيمة تزيد على مليوني دولار في السّنة. وبلغ إجماليّ المساعدات الأمريكيّة حوالي 2.7 مليون دولار بين عامي 2012 و2016،. كما حصلت تونس على 65 مليون دولار من التّمويل العسكري الأجنبيّ للسّنة الماليّة 2019 من الولايات المتّحدة، الذي يركّز على الأولويّات المحدّدة بشكل مشترك، بما في ذلك مكافحة الإرهاب وأمن الحدود والقدرة الاستخباراتية والنّضج الدّفاعي وبناء المؤسّسات الدّفاعيّة وتحسين القدرة التّقليديّة وقوات الطّوارئ. وتلقّت تونس أيضاً مساعدة كبيرة بموجب المواد 1206 و2282، و333 من سلطات وزارة الدّفاع الأمريكيّة لتمويل تدريب وتجهيز يتجاوز 160 مليون دولار منذ عام 2011.


على الرّغم من المشاكل الاقتصاديّة التي تشهدها تونس، فقد ارتفع الإنفاق العسكريّ التّونسيّ من 572 مليون دولار في العام 2010، قبل الثّورة، إلى 824 مليون دولار في العام 2018 (بلغ الإنفاق ذروته: حوالي مليار دولار في العام 2016). وقد ساهمت مساعدات الولايات المتّحدة خاصّة وأوروبا بالنّصيب الأكبر في تعزيز جهود الاحترافية، ومع ذلك فإنّ التّقدّم ظلّ بطيئا نظراً للأوضاع السّياسيّة المتقلّبة وتهميش دور الجيش في الحياة السّياسيّة للبلاد. ولعلّ هذا من أبرز ما تعمل على تداركه الدّولة العظمى لتغيّر من حال الجيش وتجعله على طراز المارينز!


إنّ ضخّ الولايات المتّحدة لكلّ هذه الأموال الطّائلة بعد الثورة لا يمكن أن يكون من أجل دعم الدّيمقراطيّة ونشر السّلام في المنطقة والحفاظ على الأمن كما تدّعي. فكيف يُرقَبُ ذلك من دولة داست على الشّعوب وشنّت الحروب وقتلت الأبرياء وقادت العالم بنظام متوحّش مكّن ثلّة من الأغنياء وأمات جوعا الملايين من الفقراء؟!


كيف يرجى الخير من دولة تركّز الحدود بين بلاد جمعتها عقيدة واحدة؟! هل يمكن أن تقدّم ما فيه خير للبلاد دون أن يكون لها أرباح ومصالح ستتحقّق لها من وراء ذلك؟ إنّها عقيدتها التي تستميت في الدّفاع عنها وعن بقائها: الرّأسمالية النّفعية!


للولايات المتّحدة مصالح في ليبيا وهي في صراع مع دول أخرى كبريطانيا وتعمل على أن تضع قدميها هناك خاصّة في ظلّ الفراغ السّياسيّ الذي تعيشه ليبيا والصّراعات بين الفصائل. ترفع شعار محاربة الإرهاب وتذرف دموع التّماسيح لتظهر خوفها على تونس من خطر الجماعات الإرهابيّة وهو ما جعل الجيش التّونسيّ يكثّف من جهوده الأمنيّة على الحدود، ويقيم سياجاً بطول 125 ميلاً على طول الحدود اللّيبيّة.


لقد تعمّد بن علي إبقاء الجيش ضعيفاً لتجنّب الاضطرابات السّياسيّة التي شهدها الشّارع التّونسيّ المعرّض للانقلابات جرّاء الظلم والاستبداد. فكان الجيش بعيداً عن اتّخاذ القرارات الاستراتيجيّة الرّئيسيّة وظلّ يفتقر إلى الموارد بميزانيّة متواضعة للغاية مقارنةً بميزانيّة وزارة الدّاخليّة. إضافةً إلى ذلك، فقد كانت للجيش خبرة محدودة في القتال بعد الاستقلال التّونسي العام 1956م.


وفي ثورة 2011 تبيّن للعالم أنّ الجيش في تونس لم يؤازر الحكومة ووقف إلى جانب الشّعب ولم يقم بما قام به جيش مصر من مجازر وتقتيل وهو ما لم يرق للولايات المتّحدة التي سارعت بعرض خدماتها للنّهوض بالجيش ورسم الطرق أمامه حتّى يصبح جيشا قويّا ويتّخذ القرارات: بمكافحته للإرهاب (ونتساءل هنا عن مفهوم الولايات المتّحدة للإرهاب؟) وتأمينه للحدود (تثبيت تفرقة جسد الأمّة الإسلاميّة وتركيز حدود سايس بيكو) وقدرته الاستخباراتية ونضجه الدّفاعي (ليدافع عن النّظام الذي يموّله ويشجّعه).


إنّ ما تقوم به الولايات المتّحدة من ورش عمل وتدريب في جامعة الدّفاع الوطنيّ في العاصمة واشنطن ومن اجتماعات استشاريّة مع كبار المسؤولين العسكريّين والمدنيّين في تونس وما يقوم به المسؤولون والخبراء الأمريكيّون من تشجيع لوضع استراتيجيّة دفاعيّة متماسكة للبلاد، كلّ ذلك يؤكّد المنحى الاستعماريّ النّافذ للدّولة العظمى وتدخّلها حتّى في أدقّ تفاصيل الأمن القوميّ للبلاد.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزيّ لحزب التّحرير
زينة الصّامت

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست