أمريكا ترامب عاجزة عن القيام بما لم يستطع القيام به الخرف بايدن
أمريكا ترامب عاجزة عن القيام بما لم يستطع القيام به الخرف بايدن

الخبر:   أطلق الرئيس الأمريكي المنتخب دونالد ترامب عددا من التصريحات المثيرة للجدل والتي تعكس بوضوح مدى الاختلاف في السياستين الداخلية والخارجية لأمريكا مع الرئيس الديمقراطي المنتهية ولايته جو بايدن. فعلى صعيد السياسة الخارجية قال ترامب إنه سيوقف ما وصفها بالفوضى في الشرق الأوسط، كما سيوقف الحرب في أوكرانيا ويمنع اندلاع الحرب العالمية الثالثة، وذلك من دون أن يوضح كيف سيقوم بكل ذلك. ويشن كيان يهود - بدعم أمريكي مطلق - منذ السابع من تشرين الأول/أكتوبر 2023م حرب إبادة جماعية على قطاع غزة استشهد وأصيب فيها أكثر من 153 ألف فلسطيني، ...

0:00 0:00
Speed:
December 25, 2024

أمريكا ترامب عاجزة عن القيام بما لم يستطع القيام به الخرف بايدن

أمريكا ترامب عاجزة عن القيام بما لم يستطع القيام به الخرف بايدن

الخبر:

أطلق الرئيس الأمريكي المنتخب دونالد ترامب عددا من التصريحات المثيرة للجدل والتي تعكس بوضوح مدى الاختلاف في السياستين الداخلية والخارجية لأمريكا مع الرئيس الديمقراطي المنتهية ولايته جو بايدن. فعلى صعيد السياسة الخارجية قال ترامب إنه سيوقف ما وصفها بالفوضى في الشرق الأوسط، كما سيوقف الحرب في أوكرانيا ويمنع اندلاع الحرب العالمية الثالثة، وذلك من دون أن يوضح كيف سيقوم بكل ذلك. ويشن كيان يهود - بدعم أمريكي مطلق - منذ السابع من تشرين الأول/أكتوبر 2023م حرب إبادة جماعية على قطاع غزة استشهد وأصيب فيها أكثر من 153 ألف فلسطيني، معظمهم أطفال ونساء، كما خلفت أكثر من 11 ألف مفقود، وسط دمار هائل ومجاعة قتلت الأطفال والمسنين. وكان ترامب هدد في وقت سابق هذا الشهر بأنه إذا لم يتم إطلاق سراح المحتجزين في قطاع غزة قبل تنصيبه في 20 كانون الثاني/يناير المقبل، فسيكون هناك "جحيم" في الشرق الأوسط، وقال إن المسؤولين سيتلقون "ضربات أشد من أي ضربات تلقاها شخص في تاريخ الولايات المتحدة الأمريكية الطويل والحافل".

وعلى الصعيد الداخلي قال ترامب إنه سيقوم بتغييرات كبيرة في واشنطن، والأغلبية الجمهورية في الكونغرس تدعم ترشيحاته للمسؤولين. وكان ترامب أعلن الشهر الماضي اختياراته لأعلى 20 منصبا داخل حكومته، حيث اختار مجموعة من المسؤولين التقليديين وغير التقليديين للمناصب العليا خلال أقل من 3 أسابيع فقط من الانتخابات الرئاسية. وجمعت اختيارات ترامب بين شخصيات عدة ذات خلفيات أيديولوجية متناقضة، إلا أنهم يتحدون في دعم إطار حركته الشعبوية "لنجعل أمريكا عظيمة مرة أخرى" المعروفة اختصارا باسم "ماغا". (الجزيرة)

التعليق:

شعار الحزب الجمهوري في أمريكا هو الفيل، وللفيل في تاريخ المسلمين حكاية جميلة، فقد كانت الفيلة القوة الضاربة القوية التي كان يستخدمها الفرس في حروبهم، ولكن ظلّت الفيلة كذلك حتى واجه الفرس المسلمين في معركة القادسية، فقام المسلمون بتحييد تلك القوة بقطع خراطيمها وفقء عيونها، وهذا ما سيكون عليه حال الفيل الأمريكي على يد دولة الخلافة الراشدة القائمة قريبا بإذن الله. وللفيل حكاية أخرى رواها لنا القرآن العظيم، حيث جاء بها أبرهة الأشرم لهدم الكعبة، فما كان مصيرها إلا أن أرسل الله عليها حجارة من سجيل، فأصبحت أثرا بعد عين، وسواء أكان ترامب أبرهة الأشرم أم رستم فرخزاد، فإن الله ثم المسلمين له بالمرصاد.

إن ترامب هذا الذي يعد بأنه سيوقف الفوضى، هو ودولته سببها ومن أشعل نيرانها، فأمريكا هي التي دعمت يهود بكل أشكال الأسلحة وهي التي نصّبت على كثير من بلاد المسلمين طواغيت أمثال بشار الفار وابن سلمان، وما زالت تدعم الطواغيت أمثال السيسي وأردوغان وغيرهما، ولا ننسى مقولته ووصفه للسيسي بـ"دكتاتوري المفضل"، لذلك لا يظن ظان أن ترامب رجل السلام الذي سيحققه في الشرق الأوسط، بل هو يقول إنه سينهي الفوضى بمزيد من القتل والبطش، تماشيا مع سياسة أمريكا التي تقوم على القتل والبطش بشعوب بلاد المسلمين الثائرة على طواغيتها، تماما كما وعد هو بأن يشن "جحيماً" في الشرق الأوسط إن لم يتم الإفراج عن أسرى يهود في غزة، فما الجديد في سياسة ترامب مخالف لما عليه سياسة بايدن؟! أما بخصوص أوكرانيا، فترامب سيتصرف كزعيم عصابة يتخلى عن أحد رجاله؛ زيلنسكي ودولته ويسلمها لروسيا مقابل مكاسب حقق بعضاً منها في سوريا وصفقة أخرى سيعقدها مع بوتين زعيم المافيا الروسي، أما قصة الحرب العالمية الثالثة ومنعه من حدوثها، فهي ليست إلا لفرض العضلات وللاستهلاك المحلي والإعلامي، فما هي أطراف الحرب العالمية إن لم تكن أمريكا الطرف المعتدي فيها؟! فإن كانت هناك حروب قادمة فأمريكا هي التي ستشعلها، وكما قيل "يسلم العالم من أمريكا وهو بخير".

لم تدّخر أمريكا، على خلاف تعاقب إدارتها الجمهورية والديمقراطية، جهدا في فرض هيمنتها وسياستها على دول العالم، وهي دائما تستخدم عملاءها ووكلاءها في العالم لتحقيق تلك الغايات، بينما فشلت هي في تحقيق أي إنجاز بقوتها الذاتية، لذلك لن يكون ترامب بأقدر على تحقيق مزيد من الإنجازات في الشرق الأوسط وما حوله بمعزل عن تواطؤ وتخاذل عملاء أمريكا في العالم، فلولا هؤلاء العملاء لما استطاع ترامب التلويح بعصا غليظة يهدد فيها العالم، كما أن هؤلاء العملاء لو كانوا يعقلون لتمكنوا من الانقلاب عليها بمجرد التمرد على إرادتها الأنانية.

أما على الصعيد الداخلي، فإن ترامب ليس لديه وصفة سحرية لمعالجة المشاكل الاقتصادية والاجتماعية والصحية التي تعصف ببلاده، فقد أوصلها النظام الرأسمالي إلى حالة من السوء معالمه احتكار الثروة بأيدي أقل من 1%، ما جعل أمريكا لا تختلف عن الدول الفاشلة في العالم، حيث يستحوذ الفاسدون من الحكام والمتنفذين على ثروات البلاد وباقي الناس يعيشون في فقر مدقع، وهذا هو الحاصل الآن في أمريكا، حيث أصبح ملاك الشركات العملاقة يستحوذون على ثرواتها - وأكثرها من ثروات العالم - وباقي الناس يعيشون على ما يلقمونهم به الرأسماليون من فتات، وهذا الحال ليس فسادا من الرأسماليين فقط بل هو النظام الرأسمالي الذي يقوم على نظريات اقتصادية مثل الاحتكار وتركز الثروة والربا والمضاربات...الخ، فهل يظن عاقل أن ترامب يفكر خارج الصندوق الرأسمالي الذي هو نفسه جزء منه، ومنتفع من فساده وعفنه؟!

إنّ المتوقع من هذا الشقي هو أن يستمر على ما هي عليه بلاده من إجرام عالمي وفساد داخلي، وسيظل يستخدم الوسائل والأساليب التي استخدمها سلفه ﴿وَضَرَبَ اللهُ مَثَلاً رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهْهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾. ولن يقر للعالم أي قرار إلى أن يأتي أحد أحفاد سعد بن أبي وقاص، فيقطع خرطوم أمريكا والغرب الكافر ويفقأ أعينهم، في معركة قادسية أخرى في ظل دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، فيرسل الله سبحانه وتعالى على جيوشهم طيرا أبابيل تجعلهم كعصف مأكول.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

بلال المهاجر – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست