أمريكا "ترامب" على طريقة "بلاك ووتر"
أمريكا "ترامب" على طريقة "بلاك ووتر"

الخبر: صحف: كثرت التحليلات التي تبين الرابحين والخاسرين من فوز "دونالد ترامب" في الانتخابات الأمريكية على "هيلاري كلينتون"، فعلى رأس الرابحين بوتين روسيا وبشار الأسد ومصر، وعلى رأس الخاسرين السعودية والاتحاد الأوروبي واليابان وكوريا الجنوبية.

0:00 0:00
Speed:
November 12, 2016

أمريكا "ترامب" على طريقة "بلاك ووتر"

أمريكا "ترامب" على طريقة "بلاك ووتر"

الخبر:

صحف: كثرت التحليلات التي تبين الرابحين والخاسرين من فوز "دونالد ترامب" في الانتخابات الأمريكية على "هيلاري كلينتون"، فعلى رأس الرابحين بوتين روسيا وبشار الأسد ومصر، وعلى رأس الخاسرين السعودية والاتحاد الأوروبي واليابان وكوريا الجنوبية.

التعليق:

هل حقا ستختلف سياسة أمريكا الخارجية في عهد الجمهوريين عنها في عهد الديمقراطيين؟ كان أوباما يصر على الحل السياسي واستخدام القوة من خلف ستار روسيا وإيران وحزبها اللبناني لإجبار الثورة على الانقياد للحل الأمريكي، وأظهر نوعا من النزاع بينه وبين روسيا ولكنه فشل في فرض الحل السياسي، فجاء صناع القرار الأمريكي بترامب الذي أعلن تأييده لروسيا علنا. ورفض شجب الحملة العسكرية الروسية في سوريا. وشدد على أن موسكو تقاتل ضد "الجهاديين". ووعد أنه سينظر في موضوع الاعتراف بانضمام القرم إلى روسيا. كما أعلن أنه يعتزم القتال في سوريا ليس ضد السلطات الرسمية في تلك الدولة بل ضد تنظيم الدولة، وقد سبق أن انتقد كلينتون واتهمها أنها خلف إيجاد تنظيم الدولة.

فهل تريد أمريكا فرض الحل العسكري بعد فشلها إلى الآن في فرض الحل السياسي؟ وهل سنشهد تدخلا أمريكيا مباشرا على الأرض في سوريا للقضاء على الثورة، وعدم الاكتفاء بالضربات الجوية التي تقوم بها هي والتحالف؟

لقد خبرت أمريكا القتال على الأرض في أفغانستان والعراق ورأت المقاومة الشرسة التي أبداها المسلمون هناك، فهل تعيد التجربة من جديد؟

إن وجود مخاوف حقيقية عند أمريكا من قيام الخلافة الراشدة على منهاج النبوة في سوريا، ربما يجبرها على القتال المباشر على الأرض خاصة وأنها رأت أن الضربات الجوية لا تحسم المعركة، وأنها لا تثق بالجيوش العربية، ولكنها تريد تمويل حروبها في سوريا واليمن وليبيا وغيرها من بقاع العالم، تماما كما تفعل شركة الحماية الأمنية "بلاك ووتر" التي ترسل جنودها للقتال في سبيل المال، وكما كانت أمريكا تخيف دول الخليج والسعودية من تصدير إيران لثورتها (الإسلامية) في ثمانينات القرن الماضي، ليطلبوا حمايتها، فتضع يدها عليهم وتستعمرهم، ها هي الآن تخوفهم من قيام دولة الخلافة الراشدة في سوريا، وأنه لا يمكن لأحد منع قيامها إلا أمريكا فعلى الجميع وعلى رأسهم السعودية أن يدفعوا لأمريكا ثمن حماية أنظمتهم من الخلافة. صحيح أن أمريكا نجحت في جعل إيران بعبعا لدول الخليج والسعودية، إلا أن (بعبع) الخلافة بالنسبة لهم أعظم وأشد، لذلك على السعودية أن تدفع لأمريكا كل أموالها وكل بترولها، وإذا أرادت أن تعيش فلتبحث عن مصادر أخرى لبقائها على قيد الحياة، فقد أعلن ترامب أنها يجب أن تدفع ثمن حماية أمريكا لها، وهو من أشد المؤيدين لقانون "جيستا" القاضي بتشجيع الأمريكيين المتضررين من أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر عام 2001 أن يحاكموا السعودية ويطالبوها بتعويضات مالية ضخمة، والذي على أثره قامت أمريكا بحجز أموال السعودية عندها.

هل كانت السعودية تركب على ظهر أمريكا لتدافع عنها كما وصفها أوباما في مقابلته لمجلة "أتلانتيك" بأنها تريد ركوبا مجانيا على ظهر أمريكا، ويريد ترامب أن تدفع وبأثر رجعي تعويضات مالية لأي حماية أمريكية تمتعت بها، فلا حماية، ولا ركوب مجانياً بعد اليوم؟ فهل كانت أمريكا تدافع عن السعودية بالمجان؟ ألم تمول السعودية الحروب الأمريكية في المنطقة بدءا من أفغانستان وانتهاءً بسوريا واليمن؟ ألم يدرك عبدة الطاغوت الأمريكي عظم الخطر الذي تشكله أمريكا عليهم؟ إنها غول يبتلع العالم كله، فهل ينتفض العالم ضد أمريكا كما انتفضت الشعوب العربية ضد حكامها؟

إننا في هذا العالم نحتاج إلى ثورة حقيقية تقتلع أمريكا من الوجود، ولن يتحقق ذلك إلا باحتضان مبدأ يناهض المبدأ الرأسمالي الذي تتزعمه أمريكا.

إن الدول المبدئية لا يسقطها إلا دول مبدئية، فروسيا الاشتراكية أسقطتها أمريكا الرأسمالية، بعد أن ساقت أمامها دول العالم الإسلامي بحجة محاربة الإلحاد. وأمريكا الرأسمالية لن تسقطها إلا دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، لذلك تسعى أمريكا لمحاربة هذا المشروع وهو جنين في رحم أمه قبل أن يولد، وقد ساقت دول العالم أمامها في حربه بحجة محاربة (الإرهاب)، وهي لا تريد تحمل المزيد ماليا، بل تريد القضاء على عدوها بيد عدوها نفسه وبتمويل كامل منه وبذلك تصطاد أهدافاً كثيرة بحجر واحد؛ فتتخلص من أعدائها، وتزيد من صادراتها خاصة الأسلحة وتستمر مصانع الأسلحة في العمل، وتوجد فرص عمل لرعاياها سواء في داخل أمريكا بالعمل في المصانع أو خارجها بالعمل في القتال كخبراء ومدربين ومقاتلين على "طريقة بلاك ووتر"، وبهذا يحقق ترامب شعاره "أمريكا أولا".

إلى المعارضة السورية التي لا زالت تؤمن بالوعود الأمريكية: كفاكم سذاجة وعودوا إلى رشدكم، فالعدو الأمريكي لا يريد للنظام السوري بديلا، وإلى الفصائل المتناحرة: كفوا عن التناحر، فالعدو الأمريكي لن يقدم لكم سلاحا نوعيا، لأنه لو كان يريد ذلك لما أخذ منكم الصواريخ الحرارية والأسلحة النوعية التي غنمتموها من النظام، ولو بقيت بأيديكم لأسقطتم النظام منذ زمن. ولا تنتظروا منه تمويلا ولا مساعدة، لأنه لا يريد منكم محاربة النظام بل يريدكم أن تحاربوا بعضكم بعضا ليتخلص منكم ثم ليعود النظام السوري لحكم سوريا بالحديد والنار كما كان سابقا بل أشد. فاعتصموا بحبل الله فقط ولا تمسكوا بحبل العبيد، فالله أكبر وأجل، وردوا على من يعلي من شأن هبل الأمريكي بأن "الله أعلى وأجل"، وتوكلوا على الله وحده فهو الذي بيده النصر، وينزل النصر على من توكلوا عليه وحده وقطعوا اتكالهم على غيره، ينصر من قاتل في سبيل إعلاء كلمته ولا يتنزل النصر على من يريد القتال في سبيل بشار وأمريكا والحل الأمريكي. وتذكروا قول الله تعالى ﴿ألَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ﴾ [الزمر: 36]

فإلى التمسك بثوابت الثورة ندعوكم أيها الثوار في سوريا، ولا تظنوا أن أمريكا قدر مقدور، بل هي كفارس والروم الذين انتصر عليهم المسلمون بسهولة وبإمكانيات قليلة لأنهم كانوا يقاتلون في سبيل الله، وكذلك أمريكا ومعها بشار وإيران وتركيا وغيرها ستنتصرون عليهم بإذن الله إذا أخلصتم النية لله وتوكلتم عليه ولم تعصوه في صغيرة ولا كبيرة فإنما تنصرون بأعمالكم والأعداء ينتصرون عليكم بذنوبكم.. فأطيعوا الله وحده واتبعوا سبيله وحده ولا تفرق بكم السبل عن سبيله.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست