امریکہ اعلانیہ کفر کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے اور اخوان المسلمین کے بینر کے پیچھے چھپ رہا ہے!
خبر:
مشرق وسطیٰ کو امریکی صدر کے عرب اور افریقی امور کے سینئر مشیر مسعد بولس کا ایک انٹرویو جو 2025/10/28 کو شائع ہوا، میں ایک سوال کے جواب میں کہا: (سوڈانی فوج کی طرف سے افہام و تفہیم اور تعاون تھا، اور ہم نے سوڈانی حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتوں میں اٹھائے گئے اقدامات دیکھے، بہت واضح اقدامات، اب ان میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یہ معاملہ امریکہ کے لیے ریڈ لائن ہے، اور میرا خیال ہے کہ یہ کواڈ ممالک کے باقی ممبران کے لیے بھی ریڈ لائن ہے۔ اور ہم نے اسے مشترکہ بیان میں واضح طور پر بیان کیا جو گذشتہ 12 جولائی کو جاری کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں تھا، نہ صرف یہ مخصوص گروہ، بلکہ وہ تمام لوگ جو سابقہ حکومت سے وابستہ ہیں۔ اس معاملے پر امریکہ اور کواڈ کا موقف بہت واضح ہے... ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اخوان المسلمین یا سابقہ حکومت کے حامیوں کا مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہوگا، لیکن آخر میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ حتمی حل سوڈانیوں کا سوڈانیوں کے ذریعے حل ہوگا۔ ہم پر مدد کرنا فرض ہے، ہم پر ضروری مدد فراہم کرنا فرض ہے اور ہمیں اس قسم کے قومی مذاکرات کو آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن حتمی فیصلہ سوڈانیوں اور سوڈان کے عوام کا ہوگا، لیکن ہم نے کواڈ میں جو منصوبہ بنایا ہے اس میں ہم اس بارے میں بہت واضح تھے۔)
تبصرہ:
ابتداء میں ہم ایک حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں جس سے بہت سے مسلمان غافل ہوسکتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کی تصدیق کرتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ کفار اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوّاً مُّبِيناً﴾ اس لیے حقائق کو آہنی ہاتھوں سے پکڑنا چاہیے، خاص طور پر اگر وہ رب العالمین کی طرف سے ہوں، لیکن کافر نوآبادی کار ہمیشہ حقائق کو گمراہ کن جھوٹ سے ڈھانپتے ہیں، دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی وزیر اعظم چرچل نے کہا: "حقیقت بہت قیمتی ہے، اس لیے اسے جھوٹ کی باڑ سے محفوظ رکھنا چاہیے۔"
مسعد بولس نے مشرق وسطیٰ کے ساتھ اپنی ملاقات میں اس بات کو چھپانے کی کوشش کی کہ امریکہ حقیقت میں اسلام کو ختم کرنا اور ملک کو صریحاً سیکولر بنانا چاہتا ہے، لیکن اس نے ایک اسلامی گروپ کے بینر کے پیچھے چھپتے ہوئے کہا: (اخوان المسلمین اور سوڈان میں سابقہ حکومت کے حامی امریکہ کے لیے ریڈ لائن ہیں اور وہ انہیں مستقبل میں سوڈان میں فرنٹ پر قبول نہیں کریں گے)۔ وہ جانتا ہے کہ سوڈان میں اسلام نہ تو ان کے ایجنٹ البشیر کے دور میں نافذ ہوا اور نہ ہی کسی اور نظام میں، بلکہ امریکہ نے البشیر کے دور میں اسلام پسندوں کو سوڈان میں اپنی سازش کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا، اور اس کا بہترین ثبوت سیاسی طاقتوں کے تعاون سے جنوب کو ان کے ہاتھوں الگ کرنا ہے۔
البشیر نے سبوتنک ویب سائٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں جو ہفتہ 2017/11/25 کو شائع ہوا، میں کہا کہ امریکہ نے جنوب کو الگ کیا، جہاں انہوں نے کہا: "سوڈان پر امریکی دباؤ اور سازش بہت زیادہ ہے، اور دارفور اور جنوبی سوڈان کے مسائل کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی، اور اس کے دباؤ کے تحت جنوبی سوڈان الگ ہوا۔" انہوں نے مزید کہا "ہمارے پاس اب معلومات ہیں کہ امریکی کوشش سوڈان کو پانچ ریاستوں میں تقسیم کرنا ہے۔"
تو مسعد کی ریڈ لائن سے کیا مراد ہے؟ ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور عرب حکمرانوں کی ملی بھگت سے اسلام کا کوئی بھی مظہر نہیں چاہتا، تو کیا سوڈان کے مخلص لوگ، خاص طور پر اسلامی گروہ اس حقیقت کو سمجھیں گے؟
دوسری بات یہ ہے کہ ہم امریکہ یا اس مسعد کو کیوں اجازت دیں کہ وہ سوڈان کے لوگوں کے لیے ریڈ لائنز یا وائٹ لائنز کا تعین کرے اور فیصلہ کرے؟! کیا سوڈان امریکی ریاستوں میں سے ایک ہے؟! یا یہ صریح سیکولرازم کو نافذ کرکے اور اسلام کے کسی بھی مظہر کو دور کرکے، یہاں تک کہ اگر وہ محض رسمی نعرہ ہی ہو، امریکہ کے سامنے تسلیم و اطاعت اور وفاداری ہے؟
بلاشبہ امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کی مرضی کے خلاف اسلام اپنی ریاست میں واپس آئے گا؛ نبوت کے منہج پر خلافت راشدہ قائم ہوگی، تب ہم مسلمان ہی امریکہ کا مقدر بلکہ پوری دنیا کا مقدر طے کریں گے، انشاء اللہ انسانیت تک خیر کی دعوت لے کر۔
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا
ابراہیم مشرف
ریاست سوڈان میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن