أمريكا تستغل دائما عملية السلام مع طالبان!
أمريكا تستغل دائما عملية السلام مع طالبان!

الخبر:   في 3 أيلول/سبتمبر، أعلنت كل من الحكومة الأفغانية وطالبان الانتهاء من عملية تبادل الأسرى. فقط سبعة سجناء من طالبان متهمون بقتل مواطنين أستراليين وفرنسيين سيتم الاحتفاظ بهم لدى الحكومة ومن المقرر أن يظلوا تحت المراقبة في قطر. وبحسب بعض أعضاء الوفد الأفغاني، فقد تم تنسيق خط سيرهم لبدء المحادثات الأفغانية في قطر يوم السبت 5 أيلول/سبتمبر (وسائل الإعلام الأفغانية) 

0:00 0:00
Speed:
September 08, 2020

أمريكا تستغل دائما عملية السلام مع طالبان!

أمريكا تستغل دائما عملية السلام مع طالبان!

(مترجم)

الخبر:

في 3 أيلول/سبتمبر، أعلنت كل من الحكومة الأفغانية وطالبان الانتهاء من عملية تبادل الأسرى. فقط سبعة سجناء من طالبان متهمون بقتل مواطنين أستراليين وفرنسيين سيتم الاحتفاظ بهم لدى الحكومة ومن المقرر أن يظلوا تحت المراقبة في قطر. وبحسب بعض أعضاء الوفد الأفغاني، فقد تم تنسيق خط سيرهم لبدء المحادثات الأفغانية في قطر يوم السبت 5 أيلول/سبتمبر (وسائل الإعلام الأفغانية)

التعليق:

للأسف، ارتبط سيناريو الحرب والسلام في أفغانستان ارتباطاً وثيقاً بالانتخابات الأمريكية المقبلة بسبب غياب الخلافة والحكام المسلمين المخلصين بين الأمة. منذ بداية العملية، استخدمت إدارة ترامب المحادثات مع طالبان كأداة ضد خصومها السياسيين في كل من الولايات المتحدة وحول العالم.

من خلال إبرام اتفاقية سلام مع طالبان، كانت الولايات المتحدة قادرة على حماية كافة قواتها المحتلة من هجمات المجاهدين الأفغان في جميع أنحاء أفغانستان. ومع ذلك، استمرت الحرب بين الحكومة وطالبان بكثافة وإرهاب غير مسبوقين ضحاياها الأساسيون هم الأفغان الذين يعانون أكثر من غيرهم من هذا الاضطراب. هذا الوضع، بدوره، سيقلل بشكل تدريجي وغير مفاجئ من شعبية طالبان بين الناس.

نتيجة لاتفاقية السلام مع طالبان، خفضت الولايات المتحدة عدد قواتها في أفغانستان من 13800 إلى 8400، ومن المتوقع أيضاً خفضه إلى 4000 قبل الانتخابات. في الواقع، تمت ترجمة تخفيض القوات على أنه نجاح كبير لإدارة ترامب أثناء الحملات الانتخابية وغيرها من المحافل من أجل جذب الرأي العام الأمريكي.

إن الولايات المتحدة، العدو الذي شن حرباً شرسة ضد طالبان لما يقرب من عشرين عاماً - والتي استنفدت صبر الولايات المتحدة بشكل أساسي - حولتهم الآن إلى حليف لها، حتى إنهم تعهدوا بعدم السماح لأي شخص باستخدام الأراضي الأفغانية كتهديد للولايات المتحدة وحلفائها. هذا، في الواقع، إنجاز كبير للولايات المتحدة لأنها لم تكن قادرة على تحقيقه تقريباً خلال عشرين عاماً من الحرب، لكن إدارة ترامب استطاعت تحقيقه بسهولة خلال 18 شهراً من الحوار السياسي.

لذلك، ضمنت الولايات المتحدة جميع أهدافها السياسية التي أرادت استخدامها من أجل جذب الرأي العام الأمريكي والدولي، بينما سيتم تحقيق الأهداف الأخرى التي تسعى إلى تحقيقها داخل أفغانستان والمنطقة خلال المفاوضات بين الأفغان من خلال مختلف الفصائل العميلة.. كما خططت لوضع عبء التداعيات المؤسفة للحرب الأهلية الحالية والمقبلة على عاتق الأفغان بعد توقيع اتفاق السلام مع طالبان.

لكن ليس من الواضح على الإطلاق متى وكيف ستتم تسوية المحادثات الأفغانية. في الحقيقة، يعتمد السلام في أفغانستان على استراتيجية الولايات المتحدة في المنطقة وليس على نتائج المحادثات بين الأفغان. كما تحاول الولايات المتحدة انتقاد الصين وروسيا في آسيا الوسطى، وباكستان وحتى في تركستان الشرقية من خلال إقناع حكام آسيا الوسطى وباكستان بتنفيذ صفقة تصدير الطاقة إلى الهند عبر أفغانستان وباكستان؛ لذلك، ومن الآن، هناك عشرات الشركات الأمريكية العملاقة على وشك الانتقال من الصين إلى الهند. لكن مواقف الصين وروسيا وآسيا الوسطى وباكستان ضد استراتيجية الولايات المتحدة الإقليمية ستحدد آفاق الحرب والسلام في أفغانستان.

من ناحية أخرى، لا يزال المجاهدون، المسجونون بتهمة قتل جنود الاحتلال الأسترالي والفرنسي، رهن الاعتقال تحت المراقبة الشديدة، وهذا يظهر مدى الإذلال الشديد للحكام الدُمى والفصائل الأخرى. لأن هؤلاء هم الأشخاص الذين كان يجب إطلاق سراحهم من خلال حفل خاص واستقبالهم بحرارة كأبطال حقيقيين للجهاد الأفغاني. بينما تتم مراقبتهم في مكان ثالث (قطر) بتعليمات من سادتهم الأستراليين والفرنسيين.

وبالتالي، إذا مررنا بتاريخ الولايات المتحدة، فسنكتشف أنها انتهكت تقريباً جميع الاتفاقيات مع دول أخرى في العالم وأنها قد استغلت الاتفاقية مع طالبان، وستواصل القيام بذلك سعياً وراء مصالحها في المستقبل أيضاً.

في الواقع، معظم الفصائل الأفغانية ذاقت طعم الصداقة مع الولايات المتحدة وحلفائها، وتطبيق نظام الديمقراطية الكافرة على مدى السنوات الـ19 الماضية. لذلك، يجب أن يتعلموا من أخطائهم السابقة وألا يكرروها مرة أخرى لأن الولايات المتحدة لم تكن أبداً مخلصة لأي فصيل أفغاني - سواء أكان إسلامياً أو حداثيا أو علمانياً. فهي لم تستخدمهم بدورها لسيناريوهات معينة في الوقت المناسب فحسب، بل أذلتهم أيضاً بعد انتهاء مهمتهم. إن الفصائل التي تحرص على تجربة الصداقة الأمريكية ستتحمل المصير ذاته في المستقبل القريب.

وبالتالي، فإن أقوى مصدر يمكن للأفغان من خلاله أن يقرروا مصيرهم هو تعاليم الإسلام. فهم ملزمون بالتمسك بحبله للقضاء على الاحتلال والاستعمار من أي نوع: فكري، استخباراتي، سياسي، اقتصادي، ثقافي وعسكري. يجب أن يرفضوا بالإجماع جميع القيم الغربية الكافرة التي تم الترويج لها في أفغانستان على مدى السنوات الـ19 الماضية من جانب الولايات المتحدة وحلفائها وحكامها الدمى. وكذلك بالعودة إلى الله تعالى وعقيدة الإسلام، يجب أن يتحدوا لإقامة نظام إسلامي خالص.

يجب عليهم الإصرار على تجنب قبول تشكيل نظام جديد بعد زواج الإمارة من الجمهورية، يتكون من جلد الإسلام ولحم الجمهورية في أعقاب المفاوضات بين الأفغان، قبول الأمور من خلال تلميحات من الولايات المتحدة والحكام الدُمى في المنطقة، الذي من شأنه أن يفضي إلى العذاب الشديد من الله تعالى على أنفسهم وعلى شعوبهم. ونتيجة لذلك، لن يقف الناس إلى جانبنا في هذا العالم ولن يكون لدينا أعذار أخرى أمام الله تعالى في الآخرة، وسيحل علينا الذل الشديد من جيل إلى جيل كحال المسلمين في البلاد الإسلامية الأخرى؛ لأن الله سبحانه وتعالى يقول في سورة طه: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى * قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيراً * قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى * وَكَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِن بِآيَاتِ رَبِّهِ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَى﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست