أمريكا تستخدم مصطلح الإبادة الجماعية للأرمن! ما مغزى ذلك؟ ولماذا كان موقف أردوغان متخاذلا؟
أمريكا تستخدم مصطلح الإبادة الجماعية للأرمن! ما مغزى ذلك؟ ولماذا كان موقف أردوغان متخاذلا؟

الخبر:   أعلن الرئيس الأمريكي بايدن يوم 2021/4/24 في بيان أن "الشعب الأمريكي يكرم الأرمن الذي لقوا مصرعهم بالإبادة التي بدأت في مثل هذا اليوم قبل 106 أعوام".

0:00 0:00
Speed:
April 28, 2021

أمريكا تستخدم مصطلح الإبادة الجماعية للأرمن! ما مغزى ذلك؟ ولماذا كان موقف أردوغان متخاذلا؟

أمريكا تستخدم مصطلح الإبادة الجماعية للأرمن!

ما مغزى ذلك؟ ولماذا كان موقف أردوغان متخاذلا؟

الخبر:

أعلن الرئيس الأمريكي بايدن يوم 2021/4/24 في بيان أن "الشعب الأمريكي يكرم الأرمن الذي لقوا مصرعهم بالإبادة التي بدأت في مثل هذا اليوم قبل 106 أعوام".

التعليق:

إن أمريكا تستغل قضايا تاريخية أو سياسية أو إنسانية لتحقيق سياسات مخفية لديها. فهي تستغل مسألة المسلمين الإيغور للضغط على الصين لتحقيق ما تريده منها وليس حبا في المسلمين الذين تقتلهم في كل مكان مباشرة كالعراق وأفغانستان وسوريا والصومال أو بواسطة ولدها المدلل كيان يهود، أو بواسطة الحكام العملاء التابعين لها. والآن عندما تعلن أنها تكرم الأرمن فما ذلك إلا لغايات سياسية حان زمانها. وقد أحجم الرؤساء الأمريكيون السابقون عن استعمال مصطلح الإبادة الجماعية، لقد حان الوقت الآن لاستعمال هذه الورقة للولوج إلى أرمينيا ومحاولة أخذها من روسيا.

وأما ردة فعل الرئيس التركي فكانت باهتة مُظهرا تخاذله ولم يهاجم أمريكا ولا رئيسها وإدارته فقال: "لا يمكن أن نسمح بزوال ثقافة العيش المشترك لمئات السنين بين الأتراك والأرمن وأن تسييس أطراف ثالثة للنقاشات حول أحداث 1915 وتحويلها إلى أداة تدخل ضد تركيا لم يحقق منفعة لأي أحد". فيدل ذلك على تواطؤ منه، إذ اتصل به الرئيس الأمريكي بايدن هاتفيا قبل يوم وتحدث معه، وكانت الأنباء من أمريكا من قبل تتناقل الأخبار بأن بايدن سيستخدم مصطلح الإبادة الجماعية للأرمن يوم 2021/4/24. ولو لم يكن أردوغان متواطئا لرفض الحديث مع بايدن أو لأعلن أنه تحدث معه في هذا الموضوع ورفضه وأنه سيقوم بإجراءات ضد أمريكا معاقبة لها، ولكنه لم يتحدث عن ذلك، بل كتم كل ما أخبره به بايدن وصرح بأنه تحدث معه عن تعزيز العلاقات التركية الأمريكية وتجاوز الخلافات بين البلدين.

ومن عادة الرؤساء الأمريكيين إذا أرادوا أن يتخذوا قرارا ضد دولة داخلة في حلفهم أن يقوم الرئيس قبل يوم ويجري اتصالا هاتفيا مع رئيسها أو يرسل مسؤولا حتى يخففوا من ردة الفعل على أمريكا ويخدعوا المقابل أن ذلك لن يؤثر على العلاقات بين البلدين.

وقد ذكرت وكالة بلومبيرغ الأمريكية يوم 2021/4/23 أن بايدن سيستخدم مصطلح الإبادة الجماعية في بيان سيصدر في ذكرى إبادة الأرمن، وأنه أبلغ الرئيس التركي أردوغان بأنه سيستخدم هذا الاصطلاح.

فمعنى ذلك أن بايدن أفصح لأردوغان عن مقصده من استعمال هذا المصطلح، إذ إن أردوغان نفذ بتخطيط من أمريكا العمليات التي جرت في الأقاليم التي يحتلها الأرمن في أذربيجان، فحررت أذربيجان إقليما واحدا بالقوة العسكرية بدعم من تركيا، وتحرير ثلاثة أقاليم أخرى بالاتفاق الذي أجرته روسيا بين أذربيجان وأرمينيا، وبقي الإقليم الخامس وهو إقليم قرا باغ تحت سيطرة الأرمن وبحماية الجيش الروسي الذي دخل الإقليم باسم قوات حفظ السلام. فقامت روسيا واستبقت الأحداث حتى لا تتدخل أمريكا هناك، وضغطت على أرمينيا حتى تسلم تلك الأقاليم بعدما تخلت عن دعمها حسب منظمة معاهدة التعاون الأمني الجماعي الذي يقتضي أنه في حالة تعرض أي عضو من أعضاء المنظمة أن تقوم روسيا وباقي الأعضاء بنصرتها، ومن الأعضاء أرمينيا. فلم تقم روسيا بنصرة أرمينيا كما فعلت عام 1993 عندما مكنت الأرمن من احتلال هذه المناطق بما فيها قرا باغ، وأدارت الملف بيد رئيسها بوتين سدا للذريعة حتى لا تقوم أمريكا وتطرح مبادراتها وتبدأ بمطمطة المسألة حتى تتمكن من الولوج في أرمينيا وطرد النفوذ الروسي منها.

ولاقى الإعلان الأمريكي حول الإبادة الجماعية ترحيبا كبيرا بين الأرمن وهذا يمهد لأمريكا التأثير على حكام أرمينيا وعلى الوسط السياسي ومحاولة كسب العملاء هناك حتى تسحب البساط من تحت أرجل روسيا.

وأما ما صدر عن الخارجية التركية في بيان ردا على إعلان بايدن بالقول: "إننا نرفض وندين بأشد العبارات البيان الذي أدلى به رئيس الولايات المتحدة جو بايدن السبت (2021/4/24) حول أحداث عام 1915 تحت ضغط الدوائر الأرمنية المتطرفة والجماعات المناهضة لتركيا"، فإن كل ذلك للاستهلاك المحلي، وليقال إن تركيا استنكرت ولم تبق مكتوفة الأيدي، وإذا لم تفعل فإن ذلك سيلاقي الاستنكار من أهل تركيا فيضعف موقف أردوغان وحكومته، علما أن تصريح الرئيس يدل على الخذلان والتواطؤ. هذا وإن وزير الخارجية التركي جاووش أوغلو كان قد تكلم مع نظيره الأمريكي بلينكن قبل يوم بالتزامن مع حديث رئيسه أردوغان مع بايدن. فلم يرفض الحديث مع بلينكن ولم يعلن استنكاره لما تنوي أمريكا إعلانه بعدما تناقلت وسائل الأنباء الأمريكية أن أمريكا ستستخدم مصطلح الإبادة الجماعية. ومعنى ذلك أن وزير الخارجية قد علم من نظيره الأمريكي المقصود من هذا الإعلان كما علم رئيسه.

ولم تتخذ تركيا إجراءات جادة استنكارا لإعلانها البغيض، مثل إغلاق القواعد الأمريكية ومنها قاعدة إنجرليك التي سمح أردوغان للأمريكيين منذ عام 2015 حتى اليوم بأن ينطلقوا منها لتدمير الموصل والرمادي والرقة وباقي المناطق الأخرى في سوريا ويدعموا الانفصاليين القوميين الأكراد، ليوغل الأمريكان في دماء المسلمين ويهدموا بيوتهم على رؤوسهم بذريعة محاربة الإرهاب ويحولوا دون نجاح الثورة السورية التي اتخذت عودة الإسلام والخلافة شعارا لها.

وهكذا يظهر مدى تواطؤ حكام تركيا كغيرهم من حكام المنطقة مع أمريكا. فيقدموا لها الخدمات على حساب قضايا المسلمين في سبيل أن يبقوا جالسين على كراسيهم المعوجة ويحققوا مصالح بلادهم القومية على حد زعمهم. ولا سبيل للمسلمين للخلاص إلا بإسقاطهم والعمل على إعادة حكم الإسلام بإقامة دولته التي حمت الأرمن وغيرهم من أهل الذمة بدون المساس بهم وأعطتهم كافة حقوقهم. إلا أن الأرمن غررت بهم فرنسا في الحرب العالمية الأولى بأنها ستقيم لهم دولة أرمنية إذا قاموا وخانوا دولة الخلافة، فقاموا عام 1915 وبدأوا يهاجمون المسلمين ويعملون فيهم قتلا مما اضطر المسلمين إلى الدفاع عن أنفسهم فتمكنوا من القضاء على خيانة الأرمن وأفشلوا فرنسا وحلفاءها. وقد ضخموا أعداد القتلى من الأرمن بأنها تصل إلى مليون ونصف ولكن الحقيقة ليست كذلك، فالأعداد أقل من ذلك بكثير، بل ربما تساوي ما قتلوه من المسلمين قاتلهم الله ونصر الإسلام والمسلمين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست