أمريكا تطلب من القوات الديمقراطية مصالحة النظام!
أمريكا تطلب من القوات الديمقراطية مصالحة النظام!

نقلت وكالة رويترز يوم 2018/7/27 أن وفدًا من مجلس سوريا الديمقراطية وممثلين عن قوات سوريا الديمقراطية قام بزيارة دمشق ويجري حاليا محادثات مع الحكومة السورية. ونقلت عن رئيس هذا المجلس قوله إن المحادثات "قد تكون لقاءات بعضها أمني وبعضها سياسي".

0:00 0:00
Speed:
July 29, 2018

أمريكا تطلب من القوات الديمقراطية مصالحة النظام!

أمريكا تطلب من القوات الديمقراطية مصالحة النظام!

الخبر:

نقلت وكالة رويترز يوم 2018/7/27 أن وفدًا من مجلس سوريا الديمقراطية وممثلين عن قوات سوريا الديمقراطية قام بزيارة دمشق ويجري حاليا محادثات مع الحكومة السورية. ونقلت عن رئيس هذا المجلس قوله إن المحادثات "قد تكون لقاءات بعضها أمني وبعضها سياسي".

التعليق:

إن هذا المجلس وقوات سوريا الديمقراطية من إفرازات المستعمر الأمريكي. فالعلاقة ظاهرة وعلنية بين هذه القوات وأمريكا. فقد قامت أمريكا وأسست هذه القوات بأغلبية من انفصاليين أكراد مشكلة من وحدات حماية الشعب الكردية ومن حزبها الوطني الديمقراطي، وقد دعمتها أمريكا بالمال والسلاح والعتاد لمحاربة التنظيمات المعادية للنظام السوري متذرعة بمحاربة تنظيم الدولة، وخاصة في المناطق الشمالية الشرقية المحاذية لحدود تركيا والعراق. فقد كان لها دور في تأمين سيطرة القوات الأمريكية على مناطق، وأمنت لأمريكا إقامة قواعد أمريكية وإرسال عناصر عسكرية وأمنية أمريكية يقدر عددها بأكثر من 2000 عنصر، ويقال إن العدد وصل إلى 4000.

والجديد أنها تأتي وتفاوض النظام بصورة علنية! ولا يمكن أن يحصل ذلك إلا بإيعاز من أمريكا، لكونها مسيرة ومدعومة من قبلها. وهذا يدل على أن أمريكا هي التي ترعى النظام السوري وتؤمن له الاستمرار والدعم بمن يواليها مباشرة كقوات سوريا الديمقراطية، أو كمن يعلن أنه ينسق ضرباته دائما معها كروسيا، وقد ظهر رضا أمريكا عما تفعله روسيا في عملية درعا مؤخرا. فإن أمريكا كانت مع روسيا من الدول الضامنة لخفض التصعيد في منطقة درعا، وفي البداية لتخدعهم وتجعلهم يركنون إليها ظهرت وكأنها تهدد النظام السوري إذا ما تقدم إلى هذه المنطقة بأنها "ستتخذ إجراءات حاسمة ومناسبة على انتهاكات الأسد كونها دولة ضامنة" كما ورد على لسان المتحدثة باسم وزارة الخارجية هيذر يوم 2018/5/27، وعندما بدأ هجوم النظام مدعوما بروسيا قالت على لسان سفارتها في عمّان في رسالة للفصائل في الجيش الحر يوم 2018/6/23 "نفهم أنكم يجب أن تتخذوا قراركم حسب مصالحكم ومصالح أهلكم وفصيلكم كما ترونها، وينبغي ألا تسندوا قراركم على افتراض أو توقع بتدخل عسكري من قبلنا". فهذه أمريكا تمنّي وتعد أولياءها وعملاءها، كما يعد الشيطان أولياءه، وما تعدهم إلا غرورا، ومن ثم تخذلهم كما يخذل الشيطان أولياءه.

وهكذا خذلت أمريكا من وثق بها من معارضين للنظام ومن انفصاليين، فقاتلوا في سبيلها من أجل إسقاط بشار وتنصيبهم في الحكم كالذين أطلق عليهم معارضة سورية مسلوخة عن الشعب وهدفه من ثورته المجيدة، أو تعطيهم حكما معينا أو حكما ذاتيا كالانفصاليين الأكراد، ولكنها ليست بصدد ذلك، فهي تريد أن تثبت النظام من أجل تثبيت نفوذها، وتقسيم سوريا يضعف نفوذها، بل كانت تهدد بالتقسيم من أجل إخافة المعارضة وتستعمل الأكراد الانفصاليين الأكراد، كورقة ضغط ضد أهل سوريا حتى يستسلموا ويخضعوا للحل السياسي، ولكنها على ما يبدو تريد أن تجعل النظام السوري قويا ومستقرا من أجل مخططاتها في المنطقة ومحاربة حركات التحرير الحقيقية التي تسعى لتحرير الأمة من ربقة الاستعمار والنهوض بالأمة وتوحيد سائر بلادها.

وقد قامت هذه الفصائل التي وثقت بوعود أمريكا وتوابعها من الدول الإقليمية بمقاتلة إخوتها من أبناء الأمة فقتلت الأبرياء؛ قتلت مسلمين مؤمنين قتلا متعمدا في سبيل الطاغوت، ولم تخش الله فاغترت بقوة أمريكا أنها قادرة على تحقيق كل شيء واغترت بها أنها صادقة بوعودها وهي غير مدركة لألاعيبها. ولو كان عند هذه الفصائل أدنى الوعي لأدركت أن أمريكا لا تخطط الآن لتقسيم سوريا وإعطائهم دولة أو حكما ذاتيا، لأنها عارضت الاستفتاء في منطقة كردستان في شمال العراق الذي أجراه البرزاني حتى أسقطت نتائج الاستفتاء وأسقطت البرزاني. علما أن هذه المنطقة شبه مستقلة وقدمت كل التسهيلات للمحتل الأمريكي.

كل هذا يحصل بسبب أن هؤلاء وإن كانوا ينتمون للأمة الأسلامية ولكنهم نسوا رابطة الأخوة الإسلامية وأن المؤمنين إخوة يشد بعضهم بعضا كالبنيان المرصوص، فالمسلم ينصر أخاه المسلم، ولا يخذله ولا يحقره ولا يقتله، وفي حالة الفتن والاقتتال الداخلي يرجح المسلم أن يكون كأفضل أحد ابني آدم الذي قال لأخيه كما ورد في الآيات الكريمة في سورة المائدة: ﴿لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لَأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ * إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاء الظَّالِمِينَ * فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾.

فالوعي السياسي الصحيح لا يكون إلا من زاوية العقيدة الإسلامية، وذلك بالانطلاق من المفاهيم الإسلامية المنبثقة من العقيدة الإسلامية، بتذكر الآيات الكريمة والأحاديث الشريفة، وفهمها فهما صحيحا، وعدم ليّها وتأويلها لمصلحة خادعة ولضرورة كاذبة ولقومية عفنة بأن يتحالف مع العدو الكافر ويقاتل في سبيل الطاغوت أو يقتل أخاه المسلم مدعيا أن ذلك مصلحة أو ضرورة أو ردا بالمثل وعقابا لمن اعتدى أو غير ذلك، فيخالف النصوص القطعية ويتخلى عن المفاهيم الصحيحة.

إن القومية عصبية جاهلية تعمي وتصم، فصاحبها في النار، وكل عصبية لمذهب أو جماعة يستحل المرء دم أخيه بتعصبه لها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يُقَاتِلُ عَصَبِيَّةً، وَيَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ» (النسائي)، يفعل ذلك ناسيا أو متناسيا الآخرة وحسابها ووعيد ربه إذ قال عز وجل في سورة النساء: ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾.

فما علينا نحن حزب التحرير حزب الخير الذي التزم بكل ذلك وبكل أحكام الإسلام ودعا إليها أكثر من ستين عاما، وهو الذي سلمت يداه من كل دم مسلم بريء أن يجهد في سقي الأمة مفاهيم الإسلام الصحيحة وهو يقوم بعملية التوعية الفكرية والسياسية ولا يتوقف لحظة ولا يصيبه الإحباط والقنوط فإن رحمة الله له وللأمة آتية لا ريب فيها، ولكن الله يريد أن يبتلي الناس ليعلم الذين آمنوا ويتخذ منهم شهداء وليمحص الذين آمنوا ويمحق الكافرين. والنصر حليف المؤمنين، فقد قال الله تعالى في سورة الروم: ﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاؤُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست