أمريكا وبريطانيا تدعوان إلى إيقاف الحرب وإحلال السلام، وهم المجرمون والداعمون لأطراف الصراع في اليمن!!
أمريكا وبريطانيا تدعوان إلى إيقاف الحرب وإحلال السلام، وهم المجرمون والداعمون لأطراف الصراع في اليمن!!

الخبر:   أورد موقع RT الروسي يوم  2018/10/31 خبرا جاء فيه "دعا وزير الخارجية الأمريكي مايك بومبيو التحالف العربي والحوثيين إلى وقف القتال والعودة لمحادثات السلام برعاية أممية خلال 30 يوما بهدف إنهاء الحرب الأهلية". وبحسب الموقع نفسه "أعربت رئيسة الوزراء البريطانية تيريزا ماي عن دعمها لدعوة واشنطن إلى وقف القتال في حرب اليمن والتي أودت بحياة ما لا يقل عن 10 آلاف شخص وتسببت في أسوأ أزمة إنسانية في العالم".

0:00 0:00
Speed:
November 07, 2018

أمريكا وبريطانيا تدعوان إلى إيقاف الحرب وإحلال السلام، وهم المجرمون والداعمون لأطراف الصراع في اليمن!!

أمريكا وبريطانيا تدعوان إلى إيقاف الحرب وإحلال السلام،

وهم المجرمون والداعمون لأطراف الصراع في اليمن!!

الخبر:

أورد موقع RT الروسي يوم  2018/10/31خبرا جاء فيه "دعا وزير الخارجية الأمريكي مايك بومبيو التحالف العربي والحوثيين إلى وقف القتال والعودة لمحادثات السلام برعاية أممية خلال 30 يوما بهدف إنهاء الحرب الأهلية". وبحسب الموقع نفسه "أعربت رئيسة الوزراء البريطانية تيريزا ماي عن دعمها لدعوة واشنطن إلى وقف القتال في حرب اليمن والتي أودت بحياة ما لا يقل عن 10 آلاف شخص وتسببت في أسوأ أزمة إنسانية في العالم".

التعليق:

في ما يبدو بعد مكوثه قرابة الـ3 سنوات وأكثر في ملفات وأروقة الأمم المتحدة ومجلس الأمن ها هو يعود ملف اليمن حاضرا بحلول تنبئ عن رضا الأطراف الخارجية المتقاتلة وما جلبته الحرب من دماء وأشلاء وضحايا ودمار وخراب، نعم ها هي تطل بوادر انفراج الأزمة في اليمن ورؤية بصيص أمل لإنهاء معاناة أهل اليمن، ولكن على أي رؤية؟ رؤية الإسلام؟ أم رؤية مصالح الغرب وأذنابه؟ حيث تشير تصريحات وزير الخارجية الأمريكي ونائبه وكذلك رئيسة الوزراء البريطانية أنهم هم من يديرون الحرب؛ يشعلونها متى شاؤوا ويوقفونها متى أرادوا دون مبالاة للدماء التي سالت وللأشلاء التي تناثرت هنا وهناك والتي سارت مع هبات الرياح. وصرح الرئيس الأمريكي دونالد ترامب بالقول "إن المناخ موات لاستئناف محادثات السلام"، وكذلك في تصريحات مشابهة من وزير الدفاع الأمريكي ماتيس ووزير الخارجية الأمريكي اللذين أشادا بهذه الخطوة، كما أشاد بها كذلك مجلس الشيوخ الأمريكي والذي انتقد وقوف أمريكا بلا حراك إزاء الحرب باليمن! أما القيادة الإماراتية فقد وافقت هذه الخطوة ودعمتها...

مما سبق يتضح أن الإدارة الأمريكية تهتم بالحل السياسي من قبل، وقد ازداد السعي لهذا الحل أمام ضغوطات الطرف الآخر في الصراع وهم الإنجليز وذلك من خلال:

1- الوضع الاقتصادي وانهيار الريال اليمني من خلال الحرب الاقتصادية بين الأطراف المتصارعة لتستغل الأمم المتحدة منها مدخلا للحل السياسي تحت حجة الوضع الإنساني.

2- الضغط السياسي الذي تمارسه بريطانيا على أمريكا وعملائها في السعودية من خلال أزمة مقتل خاشقجي في داخل السعودية وخارجها والضغط كذلك من خلال الاتحاد الآوروبي مما يسبب حرجاً وضيقاً لرجالات أمريكا فيراد تسوية ملف خاشقجي باليمن. حيث تحدث عن الحل السياسي أربعة مسؤولين في الإدارة الأمريكية لهم ثقلهم؛ وزير الخارجية ووزير الدفاع وإدارة الرئيس ترامب ونائب المتحدث باسم الخارجية الأمريكية.

3- إشادة أعضاء مجلس الشيوخ الأمريكي إلى ما دعا إليه بومبيو وزير الخارجية ووزير الدفاع إلى وقف القتال واستئناف المحادثات وانتقادهم لأمريكا لعدم التحرك.

4- الضغط العسكري بانتشار 30 ألف جندي جنوبي في مدينة الحديدة باليمن للضغط على الحوثيين للعودة للمحادثات التي ترعاها الأمم المتحدة وكذلك نشر مدرعات ودبابات استعدادا لعملية قادمة...

إن تصريحات أطراف الصراع المحلية سواء الحوثيين أو ما يسمى بالشرعية لا تدل إلا على التبعية والانجرار إلى ما ترسمه لهما أمريكا وبريطانيا من خطط واستراتيجيات وفق مصالحهما في المنطقة، إن الذي يبدأ الحرب وينهيها ليست ما تسمى بالشرعية ولا الحوثيون ولا حتى الدول الإقليمية كالسعودية وإيران والإمارات، بل هي بيد أسيادهم أمريكا وبريطانيا لأنهما وحدهما لهما القرار.

إن على أهل اليمن أن يدعموا وينصروا من هم مع الله وليس مع أمريكا أو بريطانيا، فهل يعود أهل اليمن أحفاد الأوس والخزرج لسابق عهدهم فينصروا الإسلام كما نصروا رسول الله r من قبل فأنقذوا أنفسهم وأنقذوا العالم من براثن الشر وأقاموا دولة الإسلام التي تحمل مشروعا عظيما فيه الاستقلالية عن الغرب، والتبعية لله وحده وحل لكل المشاكل في الحياة؛ في الاقتصاد والسياسة والتعليم والصحة... فتعود هذه الدولة كسابق عهدها سيدة الأمم يقول فيها خليفتها "انثروا الحب على الجبال والوديان حتى لا يقال جاع طائر في بلاد المسلمين"؟!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الأستاذ عبد الرحمن العامري – اليمن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست