أمريكيون يتظاهرون ضدّ الإبادة الجماعية في غزة وجماعات الضغط في وزارة دفاعهم تؤجج الحرب
أمريكيون يتظاهرون ضدّ الإبادة الجماعية في غزة وجماعات الضغط في وزارة دفاعهم تؤجج الحرب

الخبر:   تتصاعد الاحتجاجات في مختلف أنحاء الولايات المتحدة، حيث يلفت المتظاهرون الانتباه إلى الإبادة الجماعية المستمرة في غزة. ومن الحرم الجامعي الرئيسي إلى قلب وول ستريت، يطالب الأمريكيون بإنهاء الدعم الأمريكي لكيان يهود. وفي حين يتظاهر الأمريكيون ضد العنف، تواصل الحكومة التصرف في معارضة مباشرة لمطالب الشعب، حيث يعارض غالبية الأمريكيين الإبادة الجماعية (جالوب)، الأمر الذي يسلط الضوء على نفوذ جماعات المصالح الخاصة على ما يسمى التمثيل الديمقراطي. ...

0:00 0:00
Speed:
October 22, 2024

أمريكيون يتظاهرون ضدّ الإبادة الجماعية في غزة وجماعات الضغط في وزارة دفاعهم تؤجج الحرب

أمريكيون يتظاهرون ضدّ الإبادة الجماعية في غزة

وجماعات الضغط في وزارة دفاعهم تؤجج الحرب

(مترجم)

الخبر:

تتصاعد الاحتجاجات في مختلف أنحاء الولايات المتحدة، حيث يلفت المتظاهرون الانتباه إلى الإبادة الجماعية المستمرة في غزة. ومن الحرم الجامعي الرئيسي إلى قلب وول ستريت، يطالب الأمريكيون بإنهاء الدعم الأمريكي لكيان يهود. وفي حين يتظاهر الأمريكيون ضد العنف، تواصل الحكومة التصرف في معارضة مباشرة لمطالب الشعب، حيث يعارض غالبية الأمريكيين الإبادة الجماعية (جالوب)، الأمر الذي يسلط الضوء على نفوذ جماعات المصالح الخاصة على ما يسمى التمثيل الديمقراطي.

في الأسبوعين الماضيين، أظهرت العديد من الاحتجاجات في مختلف أنحاء الولايات المتحدة معارضة واسعة النطاق لأفعال كيان يهود. وشهدت جامعة هارفارد احتجاجات قادها أساتذة دراسة داخلية ضد قرار الإدارة بتعليق دراسة الطلاب المشاركين في المظاهرات المؤيدة للفلسطينيين. وعلقت لارا ز. جيرمانوس، أستاذة الطب السريري في كلية الطب بجامعة هارفارد، قائلة: "لقد خلقت إدارة هارفارد مناخاً من الخوف في الحرم الجامعي من خلال حظر أي خطاب أو احتجاج يدافع عن صحة الفلسطينيين وحقوقهم الإنسانية وأرواحهم". (إن بي سي بوسطن)

في جامعة كولومبيا، شارك مئات الطلاب في إضراب جماعي في السابع من تشرين الأول/أكتوبر 2024 كجزء من الحركة الأوسع المؤيدة للفلسطينيين والتي اجتاحت الجامعات الأمريكية. بالإضافة إلى هذه الإجراءات، نزل آلاف المحتجين، بقيادة حركة الشباب الفلسطيني، إلى الشوارع في لوس أنجلوس. وكان الاحتجاج، الذي صادف الذكرى السنوية الأولى للإبادة الجماعية المستمرة في غزة، واحداً من أكثر من 55 حدثاً مشابهاً في جميع أنحاء البلاد. (يو إس سي أنينبيرغ)

امتدت الاحتجاجات إلى ما هو أبعد من أراضي الجامعات، ووصلت إلى المركز المالي للبلاد. فقد تجمع مئات المتظاهرين، بقيادة صوت يهودي من أجل السلام، في بورصة نيويورك في وول ستريت. وكانت رسالتهم واضحة: توقفوا عن تسليح كيان يهود. وعبرت بيث ميلر، المديرة السياسية لصوت يهودي من أجل السلام، عن مشاعر المحتجين، حيث قالت "تستخدم (إسرائيل) القنابل الأمريكية لذبح الناس في غزة بينما يشهد مصنعو الأسلحة في وول ستريت في الوقت نفسه ارتفاعاً هائلاً في أسعار أسهمهم". (إن بي سي نيويورك)، واعتقل في الاحتجاجات أكثر من 200 شخص، ما يعكس الإحباط العام المتزايد تجاه السياسات الأمريكية.

التعليق:

تظهر هذه المظاهرات الانقسام العميق بين الجمهور الأمريكي الذي يعارض الإبادة الجماعية، وبين الحكومة الأمريكية التي تواصل دعم هذه الإبادة من خلال المساعدات المالية والعسكرية لكيان يهود.

إن الدعم الثابت الذي تقدمه الحكومة الأمريكية لكيان يهود يسلط الضوء على النفوذ الخطير لجماعات المصالح الخاصة مثل اللوبي الصهيوني والمجمع الصناعي العسكري، حيث تتمتع هذه الجماعات بقبضة قوية على السياسة الخارجية الأمريكية، ما يضمن إعطاء الساسة الأولوية لمصالحهم المالية والسياسية على حساب أصوات الناس. ويكشف هذا الانفصال بين الناس والحكومة عن خلل خطير في النظام الديمقراطي.

إن أمريكا، الأمة التي تدعي أنها منارة الحرية وحامية حقوق الإنسان، ليست أكثر من مجرد واجهة. إن أيديهم ملطخة بالدماء وهم يتظاهرون بتعزيز السلام من خلال الديمقراطية. ولكن هذه الديمقراطية تنتشر بإسقاط القنابل والصواريخ على الفقراء والعاجزين. إن أبطال العدالة المفترضين في واشنطن يغطون أفعالهم بلغة الإصلاح، بينما هم في الواقع يزرعون الفساد والدمار. إن الله سبحانه وتعالى يفضح هذه الرواية الكاذبة، فيقول: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ * أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـكِن لاَّ يَشْعُرُونَ﴾. إن قادة واشنطن، الذين يزعمون أنهم يسعون إلى السلام، هم أنفسهم الذين يسلحون كيان يهود ويمولونه، ويؤججون الإبادة الجماعية.

اليوم، نشهد ديمقراطية تخدم النخبة. وتضمن جماعات الضغط الدفاعية استمرار تدفق المساعدات المالية والعسكرية، بغض النظر عن الصراخ العام. ويستفيد المجمع الصناعي العسكري من الحرب، فيجني مليارات الدولارات من بيع الأسلحة التي تغذي العنف في جميع أنحاء العالم. ونتيجة لذلك، يصطف الساسة مع هذه المصالح، متجاهلين مطالب الناس الذين يزعمون أنهم يمثلونهم.

تثبت الاحتجاجات في جميع أنحاء أمريكا أن غالبية الأمريكيين يعارضون الإبادة الجماعية في غزة، ومع ذلك تظل الحكومة ملتزمة بدعم يهود. هذا الانقسام الواضح بين الرأي العام والسياسة الحكومية يكشف عن نفاق الديمقراطية. أصوات الناس تغرق في مصالح عدد قليل من المجموعات القوية التي تستفيد من الحرب والقمع.

إن الديمقراطية منذ نشأتها كانت أداة في يد النخبة، مصممة لحماية قوتها وثروتها، ولم تمثل مطلقاً إرادة الشعب. وتسيطر جماعات المصالح الخاصة، وخاصة جماعات الضغط الدفاعية، على النظام، وتضمن أن تكون السياسات في صالح أولئك الذين يستفيدون من الحرب والقمع. وفي حين يتدفق الأمريكيون على الشوارع احتجاجاً على الإبادة الجماعية في غزة، تواصل حكومتهم، التي يقودها أولئك الذين يستفيدون من الصراع، تمويل وتسليح كيان يهود. إن هذا النظام ليس نظاماً للحرية أو التمثيل، بل هو نظام استغلالي. وهو يخدم مصالح الأثرياء والأقوياء، متجاهلاً صرخات عامة الناس. والاحتجاجات الجارية لا تسلط الضوء إلا على الانقسام العميق بين رغبات الشعب وأفعال حكومته، وتكشف عن الديمقراطية باعتبارها بنية قمعية تعمل لصالح الذين في السلطة، وليس الناس الذين تدعي أنها تخدمهم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. ديوان أبو إبراهيم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست