انعدام كرامة المرأة في ظل نظام المافيا الديمقراطي
انعدام كرامة المرأة في ظل نظام المافيا الديمقراطي

غطت وسائل الإعلام الكينية تقارير عن حوادث اغتصاب الأمهات اللاتي أنجبن للتو في مستشفى كينياتا الوطني واللاتي طلبن خدمات الأمومة في المؤسسة التي تعرضن فيها للمضايقة والاغتصاب وغير ذلك من الأفعال التي لا توصف التي يرتكبها مقدمو خدمات المستشفيات.

0:00 0:00
Speed:
February 03, 2018

انعدام كرامة المرأة في ظل نظام المافيا الديمقراطي

انعدام كرامة المرأة في ظل نظام المافيا الديمقراطي

(مترجم)

الخبر:

غطت وسائل الإعلام الكينية تقارير عن حوادث اغتصاب الأمهات اللاتي أنجبن للتو في مستشفى كينياتا الوطني واللاتي طلبن خدمات الأمومة في المؤسسة التي تعرضن فيها للمضايقة والاغتصاب وغير ذلك من الأفعال التي لا توصف التي يرتكبها مقدمو خدمات المستشفيات.

التعليق:

تعتبر الأيديولوجية الرأسمالية غير الصالحة والعقيدة العلمانية – الليبرالية، تعتبر المرأة سلعة تجارية وأداة لممارسة الجنس. وبالتالي، فإن قيمتها وكرامتها تعتمد على قدرتها على القيام بذلك. وبوجهة النظر الفاسدة هذه، فإن من المتوقع أن تواجه المرأة الحياة بالكثير من التحديات، وزيادة تعقيد المسائل والأمور؛ فقد قام المافيا الرأسماليون بسرد رواية كاذبة عن الحركة النسوية للدفاع عن المرأة ودعم مصالحها. وقد أدى ذلك إلى ظهور ما يسمى بالحركة النسائية التي تدعي بأنها صوت النساء وتدعو إلى إدماج المرأة والاعتراف بها في القطاعات التي يهيمن عليها الذكور أو لمجرد منافسة واحتكاك النساء بالرجال لما يسمى بالمساواة بين الجنسين.

وقد أدى النضال من أجل الاعتراف بالمرأة إلى تصادمات خطيرة بين الرجل والمرأة، حيث إن النظام الاجتماعي نفسه، الذي يفترض أنه ينظم العلاقة بين الرجل والمرأة، وهو في حد ذاته فشل لأنه ينبع من العقل المحدود للإنسان. وقد أدى ذلك إلى تحرير المجتمع وتمجيد الحريات المنصوص عليها في نظام المافيا الديمقراطي، ولا سيما الحرية الشخصية. فقد أعطت الحرية الشخصية فسحة للبشرية للقيام بكل ما يريدون في أي وقت وزمان على أساس نزواتهم ورغباتهم. وتسعى الحكومات العلمانية يوما بعد يوم إلى ضمان الحريات وبخاصة الحرية الشخصية التي تشكل العمود الفقري والأساس للمجتمع الليبرالي العلماني.

إن الفوضى وانعدام الأمن تجاه المرأة هو أكثر من أي وقت مضى، وتعد في أعلى مستوياتها وتزداد بالتزامن مع أفكار تحرر المجتمع بدرجة عالية. وقد أدى ذلك إلى وقوع حوادث خطيرة مثلما حدث في الحالات التالية:

1- مقدمو خدمات الرعاية الصحية الذين يرتكبون أفعالا غير إنسانية لنسائهم المريضات أو الساعيات إلى الخدمة، بما في ذلك، على الأقل الاغتصاب تحت رعايتهم مثل ما جرى الإبلاغ عنه في آخر فضيحة في مشفى كينيا الحكومي. مؤسسة حكومية مشهوره للرعاية الصحية يذهب إليها الناس للحصول على خدمات جيدة، ولكن؛ وبدلا من ذلك تحولت إلى أن تكون أكثر المواقع غير الآمنة للنساء الذاهبات للحصول على الخدمات! والفضيحة الأخيرة، والتي لا تعد أول مؤسسة باعتبارها وكر الشر لمرتكبي الجرائم الجنسية كانت أيضا محط أنظار العامة في السنوات السابقة مقترنة بالاختلاس المالي من قبل مديريها!

2- مراكز الرعاية الصحية ومقدمو الخدمات التي تجبر النساء على الخضوع لعملية قيصرية للولادة؛ حتى يتمكنوا من جني الملايين في المقابل من الصندوق الوطني للتأمين على المستشفيات. وقد أدى ذلك إلى إصابة المجلس الوطني لحقوق الإنسان بالقلق من الارتفاع وزيادة الإنذار المفاجئ في الولادات في القسم القيصري الذي يؤدي أيضا إلى قيام الشركة بدفع مبالغ مالية ضخمه للمرافق الصحية خارج إطار الميزانية. ولا تؤخذ الآثار السلبية المترتبة على صحة المرأة في عين الاعتبار؛ بدلا من ذلك، فإن الأولوية تعود للمنفعة المالية والربح.

3- وزارة الصحة الكينية تنفذ سياسة طفلين لكل امرأة، والتي تستنير بالرواية الزائفة التي يدافع عنها المافيا الرأسماليون باستخدام أيديولوجيتهم الرأسمالية الفاسدة، التي تدعي أن المشكلة الاقتصادية التي تواجه البشرية ترجع إلى ندرة الموارد وارتفاع عدد السكان، ولكن؛ الحقيقة هي أن الموارد كثيرة ولكنها تتمركز في يد عدد قليل من المافيا الإمبرياليين، وإن المشكلة الرئيسية هي توزيع الموارد المذكورة من أجل تطوير المجتمع.

ويكمن حل المشاكل التي تواجه المرأة والإنسانية بشكل عام في اقتلاع أيديولوجية الرأسماليين الفاسدة واستبدال النهج الإسلامي البحت المنزل من خالق الكون كله الذي يعرف ما هو حسن أو قبيح بالنسبة لهم بها. ولا تترسخ كرامة المرأة إلا في ظل راية الإسلام التي تطبق الإسلام بشكل كامل في ظل الخلافة الراشدة عن طريق الخليفة التقي الذي يتوق لأعلى المراتب في الجنة حيث الحياة الدائمة، ولا تتلاشى كما العالم الفاني المليء بالإغراءات الفاسدة! إن الإسلام هو الوحيد الذي يحمي الشرف والدور الأساسي الذي تلعبه المرأة كأم وربة بيت، ويضمن للمرأة الحقوق والواجبات نفسها التي يتمتع بها الرجل، باستثناء تلك الحقوق التي حددتها الشريعة له. وبالتالي، لها الحق في ممارسة التجارة والزراعة والصناعة، والمشاركة في العقود والمعاملات؛ بامتلاك جميع أشكال الملكية؛ واستثمار أموالها بنفسها (أو من قبل آخرين)؛ والقيام بجميع شؤونها الحياتية بنفسها.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي ناصورو علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست