انعقدت قمة منظمة الدول التركية في وقت بلغ فيه القمع والعنف ضد المسلمين ذروته
انعقدت قمة منظمة الدول التركية في وقت بلغ فيه القمع والعنف ضد المسلمين ذروته

الخبر:   شارك شوكت ميرزياييف رئيس أوزبيكستان في الاجتماع الدوري لمجلس رؤساء دول منظمة الدول التركية يوم 6 تشرين الثاني/نوفمبر في بيشكيك. كما شارك في المؤتمر رئيس أذربيجان إلهام علييف، ورئيس كازاخستان قاسم جومارت توكاييف، ورئيس تركيا رجب أردوغان، ورئيس وزراء المجر فيكتور أوربان، والأمين العام لمنظمة الدول التركية كوبانيتشبيك أومورالييف. وترأس المؤتمر رئيس قرغيزستان صدر جباروف. (الرئاسة الأوزبيكية، 2024/11/06م)

0:00 0:00
Speed:
November 12, 2024

انعقدت قمة منظمة الدول التركية في وقت بلغ فيه القمع والعنف ضد المسلمين ذروته

انعقدت قمة منظمة الدول التركية في وقت بلغ فيه القمع والعنف ضد المسلمين ذروته

الخبر:

شارك شوكت ميرزياييف رئيس أوزبيكستان في الاجتماع الدوري لمجلس رؤساء دول منظمة الدول التركية يوم 6 تشرين الثاني/نوفمبر في بيشكيك. كما شارك في المؤتمر رئيس أذربيجان إلهام علييف، ورئيس كازاخستان قاسم جومارت توكاييف، ورئيس تركيا رجب أردوغان، ورئيس وزراء المجر فيكتور أوربان، والأمين العام لمنظمة الدول التركية كوبانيتشبيك أومورالييف. وترأس المؤتمر رئيس قرغيزستان صدر جباروف. (الرئاسة الأوزبيكية، 2024/11/06م)

التعليق:

بدأ ميرزياييف خطابه في اجتماع القمة الحادي عشر لمنظمة الدول التركية بحقيقة أن العمليات الجيوسياسية العالمية أصبحت أكثر تعقيداً، وتزايد حدة المنافسة وانعدام الثقة بين الدول الرائدة، وتزايد بؤر الصراع والحرب، والمخاطر المختلفة. وقال في سياق حديثه، من بين أمور أخرى: "هنا نتحدث أولاً عن الحرب الظالمة المستمرة في الشرق الأوسط والمعايير المزدوجة الملحوظة. لا شيء يمكن أن يبرر المأساة الإنسانية غير المسبوقة في قطاع غزة ولبنان، والهجمات المدمرة ضد المدنيين، وخاصة الأطفال الأبرياء والمسنين والنساء. كما أننا ندين بشدة الإجراءات الرامية إلى الحد من أنشطة وكالة الأمم المتحدة الخاصة للاجئين الفلسطينيين. إن الحل الوحيد لهذه الحرب الطويلة الأمد هو إقامة الدولة الفلسطينية المستقلة وعاصمتها القدس الشرقية، على حدود عام 1967، وفقا للوثائق والقرارات المعيارية الدولية".

صحيح أن ميرزياييف ورؤساء البلاد الإسلامية المشاركة في القمة يشعرون بالقلق إزاء الوضع في الشرق الأوسط إلا أن ما يقلقهم ليس هو أن العنف ضد المسلمين قد وصل ذروته، بل كون العواقب المترتبة عليه خطيرة على سلطاتهم. أي أن يدرك المسلمون أنه لا خلاص لهم من الوضع الحالي المهين والمتخلف إلا بإقامة دولة الخلافة، واحتمال توجيه المسلمين الضربة الأخيرة لإقامة دولتهم يتزايد يوما بعد يوم، وحينها ستنهار جميع الأنظمة في البلاد الإسلامية الواحد تلو الآخر.

إن إدانة ميرزياييف اللينة لكيان اليهود واعترافه بسياسات الغرب المنافقة، مع استمراره في العلاقات معهم، تظهر أن كلماته ليست بسبب قلق حقيقي بشأن محنة المسلمين في فلسطين، لأنه قالها فقط لإعطاء منظمة الدول التركية مظهر العالمية واكتساب سمعة زائفة. كما أن تكرار أن قضية فلسطين يجب أن تحل من خلال حل الدولتين الأمريكي، يظهر مدى ابتعاد هؤلاء الرؤساء عن الإسلام والأمة الإسلامية. إلا أن المسلمين ظلوا يطالبون حكامهم بتعبئة جيوش المسلمين إلى فلسطين. والحقيقة أن هذا هو الحكم الشرعي: طرد يهود من أرض فلسطين المباركة وتحرير الأقصى تماما.

والآن، فيما يتعلق بقضية مهمة أخرى ذكرت في هذه القمة، وهي اعتماد الأبجدية المشتركة للدول التركية. ففي هذا الصدد، قال أردوغان: "تركيا وأذربيجان وشمال قبرص مستعدة للتحول إلى الأبجدية التركية الموحدة. نحن ننتظر قرارات كازاخستان وقرغيزستان وأوزبيكستان وتركمانستان". إن الغرض من اعتماد أبجدية مشتركة هو ضرب اللغة والأبجدية الروسية، وخاصة الأبجدية السيريلية، التي لا يزال لها تأثير قوي في آسيا الوسطى. ومع ذلك، فقد سبق لروسيا أن تغلبت على الحصان في هذا الصدد. لأن رؤساء دول آسيا الوسطى وعدوا بزيادة الاهتمام باللغة الروسية والترويج لها. وطبعا فإن هذين الأمرين متعارضان تماماً ويشكلان جزءاً من الصراع الفكري والثقافي نفسه. فمن ناحية، هناك مشاريع مثل منظمة الدول التركية وأبجديتها التركية المشتركة، والتي تنفذها أمريكا عبر تركيا، ومن ناحية أخرى، روسيا وعملياتها الموجهة إلى الحفاظ على نفوذها في آسيا الوسطى.

كما تمت مناقشة القضايا التجارية والاقتصادية والاستثمارية واللوجستية في القمة. ويمكن القول إن هناك العديد من العوائق أمام تنظيم ممرات النقل وحرية حركة السلع والخدمات. وتشمل هذه عضوية كازاخستان وقرغيزستان في EOII تحت حكم روسيا، ووضع دول منظمة الدول التركية مصالحها الوطنية أولاً، والحدود الزائفة التي رسمها الكفار المستعمرون، ورفض روسيا السماح لدول آسيا الوسطى بتنفيذ سياسات مستقلة بدونها. ويجب التأكيد على أن التقارب بين هذه الدول يلزم ألا يتجاوز المستوى الذي تتطلبه المصالح الأمريكية. ولعل من خلال منظمة الدول التركية يجب على دول آسيا الوسطى الابتعاد عن روسيا والصين والوقوف إلى جانب أمريكا وحماية مصالحها.

والحقيقة أنه قد تم التأكيد مرة أخرى أن منظمة الدول التركية لن تحرك ساكناً في حياة المسلمين وممتلكاتهم وشرفهم. بل على العكس من ذلك على خلفية هذه القمة، فإن هذا التنظيم هو مشروع أمريكي، يعمل على تقسيم المسلمين بين الأتراك والقوميات الأخرى، ما يزيد من الانقسام. إن أحد أهداف إنشاء وتعزيز منظمة الدول التركية هو إضعاف تأثير روسيا والصين على دول آسيا الوسطى، وهدف آخر هو صرف انتباه المسلمين عن الوحدة على أساس الإسلام. لذلك، لا ينبغي للمسلمين أن يتشتتوا بمثل هذه المنظمات الوضيعة. ويمكن الاستشهاد بجامعة الدول العربية كمثال حي على ذلك؛ فقد ارتكبت خيانة عظمى للإسلام والمسلمين، إذ تخلت تماماً عن أرض فلسطين المباركة وسلمتها لليهود. وكذلك منظمة الدول التركية ليست أكثر من مشروع مشتت مماثل آخر.

إن المشروع الحقيقي الوحيد لخلاص المسلمين هو الخلافة على منهاج النبوة؛ فهي وحدها التي توحد المسلمين تحت دولة واحدة وقيادة أمير واحد (الخليفة). والخلافة وحدها هي التي تحرر بلاد المسلمين المحتلة من أيدي العدو، وعلى وجه الخصوص، ستحرر أرض فلسطين المباركة من يهود، وتقطع أذرع الدول الاستعمارية الكافرة مثل أمريكا وروسيا التي تصل إلى أراضينا. ولذلك ينبغي علينا نحن المسلمين أن نبذل وسعنا لإقامة هذه الدولة المباركة المنشودة، وننظر إلى الأمر على أنه تاج الفروض!

﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست