انبذوا الأنظمة والمنظمة وفتح نبذ النواة
انبذوا الأنظمة والمنظمة وفتح نبذ النواة

الخبر:   كتب الصحفي عبد العظيم محمد (مدير مكتب شبكة الجزيرة في تركيا) في حسابه على منصة إكس (تويتر سابقاً) ما يلي: في زيارة توقيتها مهم يزور جبريل الرجوب أمين سر اللجنة المركزية لحركة فتح تركيا ضمن وفد يمثل فتح والسلطة الفلسطينية، وهناك مصادر تقول إن الزيارة في إطار مبادرة ترعاها تركيا للجمع بين حماس وفتح من أجل التوافق على رؤية مشتركة للمرحلة القادمة قد تصل إلى حكومة توافقية تدير غزة والضفة. ...

0:00 0:00
Speed:
December 16, 2023

انبذوا الأنظمة والمنظمة وفتح نبذ النواة

انبذوا الأنظمة والمنظمة وفتح نبذ النواة

الخبر:

كتب الصحفي عبد العظيم محمد (مدير مكتب شبكة الجزيرة في تركيا) في حسابه على منصة إكس (تويتر سابقاً) ما يلي:

في زيارة توقيتها مهم يزور جبريل الرجوب أمين سر اللجنة المركزية لحركة فتح تركيا ضمن وفد يمثل فتح والسلطة الفلسطينية، وهناك مصادر تقول إن الزيارة في إطار مبادرة ترعاها تركيا للجمع بين حماس وفتح من أجل التوافق على رؤية مشتركة للمرحلة القادمة قد تصل إلى حكومة توافقية تدير غزة والضفة.

‏جبريل رجوب أجرى مقابلة اليوم مع صحيفة ديلي صباح التركية، وهذا أبرز ما قال فيها:

‏- أي محادثات حول مستقبل غزة يجب أن تشمل حماس.

‏- لن نذهب إلى قطاع غزة دون اتفاق مع الفصائل الوطنية وخاصة حماس، وبعد انسحاب الجيش (الإسرائيلي) منها.

‏- لن يتم تحديد موعد لإجراء انتخابات عامة إلا من خلال اتفاق بالإجماع بين جميع الفصائل الفلسطينية.

‏- الحرب الحالية قد تمهد الطريق لإنهاء الانقسام بين فتح وحماس، وتهيئ الظروف والأساس للمستقبل.

‏- فتح تعد حماس جزءا لا يتجزأ من المجتمع الفلسطيني ويجب بناء صيغة توافقية للمستقبل على هذا الأساس، اتفاقنا وتفاهمنا مع حماس ضمان لحماية بلدنا. (منصة إكس، 14 كانون الأول 2023)

التعليق:

مجرد ذكر هؤلاء النتنى من خونة حركة حتف، عفواً! حركة فتح يثير الاشمئزاز فكيف بالتنسيق معهم لتأليف ترتيب مشترك جديد؟!

قبل أيام كشف القيادي في حركة حماس موسى أبو مرزوق لقناة الجزيرة أن "سلطة رام الله ودول عربية تطالب الغربيين بالقضاء على حماس". وهذا ليس بجديد على عباس وزمرته، ففي عدوان كيان يهود على غزة عام 2008، اتهم حينها الناطق باسم حماس فوزي برهوم محمود عباس بتشكيل خلية طوارئ في رام الله برئاسة الطيب عبد الرحيم الأمين العام للرئاسة للاتصال مع عناصر حركة التحرير الوطني الفلسطيني (فتح) في غزة لجمع المعلومات عن مواقع حماس السرية "ومن ثم إيصالها لقنوات التنسيق الأمني مع إسرائيل". (الجزيرة نت، 2008/12/31)

وقبل أيام قال أمين سر اللجنة التنفيذية لمنظمة التحرير، حسين الشيخ، لقناة سكاي نيوز "على حماس الاعتراف ببرنامج منظمة التحرير والجلوس في مربع الشرعة الدولية، لحماية المشروع الفلسطيني".

 إن ما جرى ويجري في غزة وفي فلسطين من مذبحة تاريخية غير مسبوقة، وتنازل عن المقدسات وتنسيق وتطبيع مع المغتصبين وسير في مشاريع تصفية القضية وغير ذلك من رزايا وطوام ليس هو سوء تفاهم بين صديقين يحتاج إلى إصلاح ذات البين! وليس هو تخريباً لديكور منزل يحتاج لإعادة ترتيب!

فمنظمة التحرير في واقعها منظمة للتنازل عن فلسطين وهي منظمة خائنة، وكذلك حركة فتح. وهكذا تنظيمات يجب التعامل معها على أساس أنهم في صف العدو الغاصب.

أما النظام التركي فهو نظام علماني يسير وفق محددات المشروع الأمريكي لقضية فلسطين؛ حل الدولتين، وهو نظام يضع مصلحته القومية في المقام الأول، وقال وزير الخارجية التركي إن علاقات دولته مع (إسرائيل) لا تضر القضية الفلسطينية (5 كانون الأول 2023)، وما زال النظام التركي يحتفظ بعلاقاته مع كيان يهود ولمّا يقطعها بعد!

هكذا توليفة: الشرعة الدولية والنظام التركي ومنظمة التحرير وحركة فتح وجبريل الرجوب، وما أدراكم ما جبريل الرجوب، هكذا توليفة قطعاً لا يخرج منها خيرٌ لغزة ولفلسطين.

إن الصمود والقتال الأسطوري القائم من المسلمين في غزة يجب أن يوازيه صمود على المستوى السياسي. فالمجاهد الذي يتوكل على الله ويحمل روحه على يده ويرمي دبابة العدو فيفجرها بقذيفة واحدة، مجلجلاً بأن الله أكبر، هذا المجاهد قد تحرر من قيود الواقع ولم يقبل المعادلة التي فرضها العدو، فقلب المعادلة وصارت آليات العدو تقسط بمعدل آلية كل ساعة!

هكذا روح هي التي يجب أن يحملها المسلمون في تعاملهم السياسي مع قضية فلسطين. فيجب أن تحاط قضية فلسطين بسياج عقائدي إسلامي؛ إن اقترب منه الأعداء والخونة احترقوا.

ذلك أن قضية فلسطين ليست هي قضية أهل فلسطين أو العرب وحدهم، بل هي في واقعها قضية إسلامية. إنها قضية أرض إسلامية وقضية مقدسات إسلامية اغتصبها يهود بمؤازرة من دول الكفر الكبرى: بريطانيا وأمريكا، وبتعاون من حكام المسلمين العملاء. ففلسطين بلد إسلامي، وهو ملك لجميع المسلمين، وواجب على المسلمين بذل المهج والأرواح في سبيل استرداده، وأي تفريط في أي شبر منه هو خيانة لله ولرسوله وللمؤمنين، فالله أوجب على المسلمين الجهاد لاستئصال الكيان الغاصب من فلسطين ورفع هيمنة أمريكا وكل الدول الكافرة عنها.

وإن الشرعة الدولية المزعومة كانت ولا تزال هي المسوغ القانوني الدولي لوجود الكيان الغاصب في الأرض المباركة واستمراره، وإن الأنظمة التي تحكم بغير ما أنزل الله لا يجوز الركون إليها ﴿وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ﴾.

هكذا سياج عقائدي يحمي القضية ويحصن الحركة السياسية من أن يقترب منها العدو والخائن، بل لن يفكروا مجرد تفكير من الاقتراب منها و"مراودتها" عن نفسها؛ فهم في واد وهي في واد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. أسامة الثويني – دائرة الإعلام / ولاية الكويت

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست