عندما تصبح الدياثة سياسة فاعلم أنك في وكر من أوكار حقوق الإنسان
عندما تصبح الدياثة سياسة فاعلم أنك في وكر من أوكار حقوق الإنسان

الخبر:   أصدر المجلس الوطني لحقوق الإنسان تقريره السنوي لحقوق الإنسان بالمغرب لسنة 2019، والمجلس مؤسسة رسمية دستورية تم استحداثها بظهير 1/11/1990، وبتاريخ 3 آذار/مارس 2011 ليحل محل المجلس الاستشاري لحقوق الإنسان، وعدل قانونه ليتفق مع مبادئ باريس لحقوق الإنسان. وقدم المجلس توصيات للحكومة حول الحريات منها حرية الفكر والمعتقد، وإلغاء وإبطال تجريم الإفطار العلني في رمضان، وتعديل القانون الجنائي بما يضمن رفع التجريم عن جميع العلاقات الجنسية الرضائية (الزنا، اللواط، السحاق)، وتجريم الاغتصاب الزوجي حيث ينتفي عنصر الرضا، وتقنين الإجهاض ورفع التجريم عنه، والانضمام إلى اتفاقية مجلس أوروبا للوقاية من العنف ضد النساء. ...

0:00 0:00
Speed:
April 29, 2020

عندما تصبح الدياثة سياسة فاعلم أنك في وكر من أوكار حقوق الإنسان

عندما تصبح الدياثة سياسة فاعلم أنك في وكر من أوكار حقوق الإنسان

الخبر:

أصدر المجلس الوطني لحقوق الإنسان تقريره السنوي لحقوق الإنسان بالمغرب لسنة 2019، والمجلس مؤسسة رسمية دستورية تم استحداثها بظهير 1990/11/1، وبتاريخ 3 آذار/مارس 2011 ليحل محل المجلس الاستشاري لحقوق الإنسان، وعدل قانونه ليتفق مع مبادئ باريس لحقوق الإنسان.

وقدم المجلس توصيات للحكومة حول الحريات منها حرية الفكر والمعتقد، وإلغاء وإبطال تجريم الإفطار العلني في رمضان، وتعديل القانون الجنائي بما يضمن رفع التجريم عن جميع العلاقات الجنسية الرضائية (الزنا، اللواط، السحاق)، وتجريم الاغتصاب الزوجي حيث ينتفي عنصر الرضا، وتقنين الإجهاض ورفع التجريم عنه، والانضمام إلى اتفاقية مجلس أوروبا للوقاية من العنف ضد النساء.

التعليق:

ما لقيت هذه الأمة في دهرها نكبة أشد وأقسى من نكبتها بدويلات الضرار ومجاميعها الوظيفية، وما عانت هواناً كهذا الهوان تحت هيمنة العلمانيين.

علمانيو البلاد الإسلامية ومنهم علمانيو بلاد المغرب أمام استحقاقات الجناية والجريمة الكبرى والخيانة العظمى التي اقترفتها أيديهم في حق هذه الأمة طيلة زمنهم، من ضياع وتيه حضاري، وإفلاس قيم، وطغيان وجور سياسي، ودمار وخراب اقتصادي، وتهتك وانحلال أخلاقي، وهروبا من استحقاقات جريمة علمانيتهم جعلوا أصابعهم في آذانهم واستغشوا ضلالة علمانيتهم وأصروا واستكبروا استكبارا.

ما هالهم إفلاس النظام الصحي بالمغرب ووضعه الكارثي الذي عرته كورونا، لا أسرّة، لا طاقم طبي، لا مستشفيات، فالميزانية المخصصة لا تكاد تغطي سوى 41% من المصاريف الإجمالية في الظروف العادية، طبيب واحد لكل 20 ألف نسمة فضلا عن تمركزهم في مدينتي البيضاء والرباط، 23939 سريراً لـ6 ملايين مريض منهم 3 ملايين حالات طارئة سنويا، علما أن كثيرا من هذه الأسرة بالمصحات الخاصة التي يتعذر على معظم أهل المغرب الولوج إليها لكلفتها الباهظة.

أما عن كابوس الفقر بالمغرب فقد بات أحاديث الركبان، فقد أشار تقرير الأمم المتحدة عن حالة الفقر في العالم 2019 إلى أن المغرب هو من أكثر البلدان فقرا في منطقة الشرق الأوسط وشمال أفريقيا وقد واصل انحداره في مختلف التصنيفات والإحصائيات، وأن 60% من ساكنة المغرب يعيشون في حالة فقر وتهميش. بل بات إفقار الناس وتجويعهم سياسة عامة فالجباية من جيوب الناس هي سلة الخزينة فمداخيل الضرائب قاربت 90% من موارد الميزانية. فضلا عن إغراق البلد بالديون وتبعاتها الكارثية، فقد ارتفع الدين الخارجي إلى 35.2 مليار دولار سنة 2019.

أما الشباب الذي ينهشهم الفقر والمرض والجهل فقد أضحت لهم قوارب الموت محملا والبحر الأبيض المتوسط لحداً، فأرقام هيئة الإحصاءات تنبئ بالمأساة، فمعدل البطالة في أوساط الشباب تجاوز 42% من بين شبان المدن وأصحاب الشهادات هم الأكثر عرضة للبطالة، أما شباب البوادي والقرى فهم في خانة لا بواكي لهم.

أما عن كارثة التعليم فقد أضحى أداة لإنتاج أميين بشهادات وأشباه مثقفين ومضبوعين مفتونين بالغرب، جاء في تقرير اليونيسكو عن التعليم العالمي لسنة 2017 أن أزمة التعليم بالمغرب استفحلت فقد تم إقفال ما يقارب 200 مؤسسة تعليمية عمومية خلال 5 سنوات، وأن 400 ألف تلميذ يغادرون أقسام المدارس سنويا دون إتمام تحصيلهم. وفضلا عن الأمية المقنعة بشهادات فنسبة الأمية ناهزت 40% من أهل المغرب.

أما مدونة أسرة العلمانيين فأنتجت مأساة اجتماعية مكتملة الأركان، فقد كشفت الشبكة المغربية للوساطة الأسرية عن إحصائية لوزارة العدل والحريات تشير إلى ارتفاع مهول لمعدل الطلاق، عرفت سنة 2018 ما يزيد عن 100 ألف حالة طلاق، بمعدل 12 حالة طلاق كل ساعة.

فوالذي رفع السماء بلا عمد، وأرسل رسوله بالحق ليحق الحق ويبطل الباطل ولو كره المجرمون، وعدا عليه حقا وكان وعد ربي حقا، إن لم تعزموا أمركم على اجتثاث هذه الشجرة الخبيثة الملعونة أنظمة الكفر من أرضكم لأوردتكم وأحلتكم دار البوار. فسارعوا إلى توبة ومغفرة بتحكيم شرع ربكم وإعادة خلافة نبيكم r خلافة على منهاج النبوة، تقام بها أحكام القرآن بعد هجر، وتحيى بها سنة المصطفى الهادي r بعد موات، وتقتلع رجس وكفر العلمانية وتقطع دابر العلمانيين المجرمين، وتستأنفوا بها حياتكم الإسلامية بعد انقطاع، وتحملوا دعوة الإسلام العظيم هدى ونورا للعالمين، فتصلوا الأرض بالسماء فيرضى عنكم رب الأرض والسماء.

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ فِي الأَذَلِّينَ * كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾

﴿وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مناجي محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست