عندما تُسلب إرادة النظام يدفع أهل مصر فواتيره بدمائهم
عندما تُسلب إرادة النظام يدفع أهل مصر فواتيره بدمائهم

الخبر: نشرت سكاي نيوز عربية الثلاثاء 2022/7/5م، ما ذكرته وكالة أنباء الشرق الأوسط الرسمية في مصر نقلا عن وزير المالية محمد معيط أن "فاتورة الاستيراد الخاصة بالبلاد، ارتفعت بعد الحرب الروسية الأوكرانية ووصلت إلى 9.5 مليار دولار في الشهر، وكانت خمسة مليارات دولار شهريا قبل الحرب". وارتفعت الأسعار في مصر على نحو ملحوظ في الشهور القليلة الماضية، وخفضت الحكومة قيمة العملة 14 في المئة في آذار/مارس بعد أن واجهت تداعيات اقتصادية سلبية جراء الحرب في أوكرانيا.

0:00 0:00
Speed:
July 07, 2022

عندما تُسلب إرادة النظام يدفع أهل مصر فواتيره بدمائهم

عندما تُسلب إرادة النظام يدفع أهل مصر فواتيره بدمائهم

الخبر:

نشرت سكاي نيوز عربية الثلاثاء 2022/7/5م، ما ذكرته وكالة أنباء الشرق الأوسط الرسمية في مصر نقلا عن وزير المالية محمد معيط أن "فاتورة الاستيراد الخاصة بالبلاد، ارتفعت بعد الحرب الروسية الأوكرانية ووصلت إلى 9.5 مليار دولار في الشهر، وكانت خمسة مليارات دولار شهريا قبل الحرب". وارتفعت الأسعار في مصر على نحو ملحوظ في الشهور القليلة الماضية، وخفضت الحكومة قيمة العملة 14 في المئة في آذار/مارس بعد أن واجهت تداعيات اقتصادية سلبية جراء الحرب في أوكرانيا.

التعليق:

لا زالت الأزمة الاقتصادية، وستظل، تلقي بظلالها على كل تصريحات النظام المصري كونها المعضلة التي لا يستطيع الفكاك منها والمشكلة التي لا يستطيع حلها رغم كون الحل بسيطاً وسهلاً ويسيراً، ورغم كونها تهدد بقاءه وقد تكون القاصمة التي تنهيه هذه المرة وتنهي وجوده، فالحل البسيط يبدأ بالتخلي عن الرأسمالية والتخلص من تبعية الغرب وسياساته، وهذا ليس خيارا يمكن أن يفكر فيه النظام رغم أنه سبب كل ما تعانيه مصر من أزمات، ولَمَا كان لحرب أوكرانيا أن تؤثر سلبا على اقتصاد مصر لولا التبعية وتحكّم الرأسمالية التي تجبر الحكومات على فتح البلاد كسوق لمنتجات الغرب رغم أننا نستطيع فعليا إنتاج كل ما يلزمنا من زراعات وصناعات مختلفة ولدينا كل ما يؤهلنا لذلك إلا الإرادة السياسية فهي مسلوبة وصارت بيد الغرب منذ عقود خلت.

مصر قبل حرب أوكرانيا كانت تستورد سلعاً بمعدل 5 مليار دولار شهريا ووصلت بعد حرب أوكرانيا إلى 9.5 مليار دولار، قطعا ليست حرب أوكرانيا وحدها هي السبب في هذه الزيادة وإن كانت أحد الأسباب، مع زيادة الفيدرالي الأمريكي لسعر الربا، وسواء أكانت الحرب أو زيادة الربا لم يكونا ليؤثرا في اقتصاد مستقل لا يتبع الغرب ولا يعتمد سياساته، حرب روسيا وأوكرانيا رفعت سعر النفط من 61 دولاراً حتى تجاوز 96 دولاراً، أي بمعدل زيادة تجاوزت الـ50%، هذه الزيادة قطعا ستؤثر على وسائل النقل وآلات الإنتاج في المصانع التي تعتمد على النفط وبالتالي ترتفع تكلفة النقل والإنتاج، هذا بخلاف ارتفاع تكلفة الشحن والتفريغ وتأمين النقل بشكل طبيعي بسبب حالة الحرب، بالإضافة إلى ما قامت به أمريكا من رفع لسعر الربا والذي تبعه تخفيض مصر لقيمة الجنيه بما يزيد عن 16.6%، وما يتبع ذلك تلقائيا من زيادة طبيعية لأسعار السلع والنقل والشحن والتفريغ... فكل هذا يتم حسابه على أساس الدولار، ما يعني أن تلك الزيادات طبيعية في ظل الرأسمالية وأزماتها التي تلتهم ثروات وجهود الشعوب الفقيرة ومن بينها مصر، هذا قطعا بخلاف القروض الدولية وتأثيراتها على الدخل وتأثيراتها على قرارات الدولة وسياساتها والتي تلزمها ما تزرع وما تصنع وما لا تفعل.

الأزمة كما استعرضنا هي أزمة نظام مسلوب الإرادة لا يملك قراراته بل كلها بيد الغرب فلو كان نظاما يملك إرادته لزرع القمح عوضا عن استيراده ولمكن الناس من استصلاح أراضي مصر الهائلة ومكنهم من الانتفاع بثرواتها ودعمهم في هذا السبيل، لو كان النظام يملك إرادته لأنشأ قطاعا للصناعات الثقيلة في البلاد لا يكتفي بتصنيع المنتجات التي يحتاجها الناس فقط بل يصنع حتى آلات الإنتاج أي الآلات التي تصبح بذاتها مصنعا، كما تفعل الدول التي تملك إرادتها والتي تصدر لمصر وغيرها آلات وخطوط إنتاج المصانع، لو كان النظام يملك إرادته لراجع كل عقود شركات النفط والتنقيب عن المعادن ولأوقف كل التعاملات معها ولأنشأ شركات تقوم بهذا العمل مستغلا الطاقة البشرية التي تملكها مصر والأمة، لو كان النظام يملك إرادته لأعاد ربط النقود بالذهب والفضة ولألغى كل التعامل بالنقود التي لا تملك غطاء ذهبيا، كل ما تكلمنا عنه هي حلول عملية فقط تحتاج نظاما يملك إرادته وينعتق من تبعية الغرب وهذا يحتاج قطعا إلى نظام مغاير، بديلا للرأسمالية الحاكمة ويملك القدرة على مواجهتها بقوانين وتشريعات كفيلة بعلاج كل ما أوجدته الرأسمالية من أزمات وبلايا، ولا يستطيع ذلك غير الإسلام بدولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة وبنظمه وتشريعاته التي تضمن للناس العدل والكرامة ورغد العيش وتضمن لهم حقوقهم كاملة وتكفلهم وترعاهم رعاية كاملة بغض النظر عن الدين أو اللون أو العرق أو الطائفة، فدولة الإسلام وحدها التي لا تقبل أن يكون النظام فيها أو حاكمها وخليفتها مسلوب الإرادة ولا تابعا لغيره بل يجب أن يكون مسلما حرا عدلا قادرا من أهل الكفاية، وهو ما لا نجده قطعا في نظمنا ولا حكام بلادنا الآن.

إن الخطاب الحقيقي يوجه إلى المخلصين في مصر شعبا وجيشا، فواقع البلاد لا يخفى على أحد وما يعانيه الناس من أزمات ليست عابرة وإنما أزمات دائمة وتزيد قسوتها عليهم، ولا علاج ولا فكاك منها إلا باقتلاع هذا النظام بكل أدواته ورموزه، وإنهاء التبعية للغرب بكل أشكالها وصورها، وإقامة الدولة التي تحقق الانعتاق الكامل من تلك التبعية؛ دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، والتي يحمل لكم مشروعها كاملا حزب التحرير، لا ينقصه غير نصرة صادقة من جيش الكنانة تقام بها دولة العز التي تعز الإسلام وأهله وتعيد للأمة سيادتها وريادتها من جديد. نسأل الله أن يهيئ للأمة أنصارها لتقام بهم دولتها وتكون مصر عقر دارها من جديد اللهم آمين.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست