عندما يلبس العلمانيون عمائم الأزهر يصبح التدليس منهجا
عندما يلبس العلمانيون عمائم الأزهر يصبح التدليس منهجا

الخبر:   نقل موقع مصراوي الاثنين 2020/5/11م، قول أحمد كريمة أستاذ الشريعة الإسلامية والفقه المقارن بجامعة الأزهر، خلال لقائه ببرنامج "التاسعة" مع وائل الإبراشي، إن جمهور العلماء أكد على أن صلاة العيد سنة مؤكدة عن النبي محمد r ويمكن أن تصلى فرداً للضرورة، وأوضح كريمة أنه في ظل جائحة فيروس كورونا، تصلى بعد شروق الشمس بثلث ساعة فرداً، ونحن في ضرورة ونتبع إجراءات احترازية تهدف إلى حماية صحة المواطنين، متابعاً: "حفظ النفس من مقاصد الشريعة الإسلامية"، وعقب على الداعين إلى إقامة صلاة العيد في جماعة، قائلاً: "هذه مخالفة لأولي الأمر التي تعد طاعته واجبة"، ...

0:00 0:00
Speed:
May 20, 2020

عندما يلبس العلمانيون عمائم الأزهر يصبح التدليس منهجا

عندما يلبس العلمانيون عمائم الأزهر يصبح التدليس منهجا

الخبر:

نقل موقع مصراوي الاثنين 2020/5/11م، قول أحمد كريمة أستاذ الشريعة الإسلامية والفقه المقارن بجامعة الأزهر، خلال لقائه ببرنامج "التاسعة" مع وائل الإبراشي، إن جمهور العلماء أكد على أن صلاة العيد سنة مؤكدة عن النبي محمد r ويمكن أن تصلى فرداً للضرورة، وأوضح كريمة أنه في ظل جائحة فيروس كورونا، تصلى بعد شروق الشمس بثلث ساعة فرداً، ونحن في ضرورة ونتبع إجراءات احترازية تهدف إلى حماية صحة المواطنين، متابعاً: "حفظ النفس من مقاصد الشريعة الإسلامية"، وعقب على الداعين إلى إقامة صلاة العيد في جماعة، قائلاً: "هذه مخالفة لأولي الأمر التي تعد طاعته واجبة"، مشيراً إلى أن أزمة الخطاب الإسلامي هو الجهل بأحكام الدين، في الكتاب والسنة، وأضاف أنه طالما هناك إجماع بأن هناك علة للمنع وتهدف إلى الحفاظ على صحة المواطنين لماذا يقوم البعض بمخالفة ذلك، ونحن الآن نطبق قاعدة المصلحة العامة، متابعاً: "مصر ربنا خلصها من الفاشية الدينية، وكافة العلماء المصريين مع الدولة وولي الأمر وندعو لاستقرار البلاد من أجل مصلحة الوطن، واصطفافنا مع ولي الأمر لأمر مصلحي وليس لأمر مصلحي"، وشدد كريمة، على أن الدولة المصرية مسلمة ودستورها الإسلام وحاكمها مسلم يراعي أحكام الإسلام ونحترم حقوق أهل الكتاب، مؤكداً: "هؤلاء يريدون الشغب على مصر الأزهر وأم الحضارات".

التعليق:

مصر بلد إسلامي معظم أهلها مسلمون، حقيقة لا ريب فيها، ولكنها ليست دولة إسلامية، ومن يقول بغير ذلك لا يعرف ما هي الدولة الإسلامية، ولا يفرق بين دار الإسلام ودار الكفر، ولا يعرف حتى ما هو الإسلام ولا ما هي أحكامه ودستوره.

في تمهيد من الدولة لمنع إقامة صلاة عيد الفطر القادم بشكل جماعي، استدعت موظفيها ومنهم كريمة الذي تكلم أولا عن حكم صلاة العيد ذاكرا رأي الشافعية والحنابلة على كونها سنة مؤكدة وهو ما نقله مصراوي على أنه رأي الجمهور رغم أن الحنابلة قالوا إنها من فروض الكفاية، والحنفية قالوا إنها واجبة في حق من تجب عليهم صلاة الجمعة التي أقر كريمة أنها فرض عين، وكما قال بالنص لا يتخلف عنها مسلم بغير عذر. ولعلنا هنا نذكر كريمة وغيره من علماء الأزهر بأن صلاة الجمعة لا يجوز للدولة منعها ولا بحال من الأحوال بل يجب أن تقام وتتخذ لها التدابير الوقائية اللازمة التي تتخذ مع غيرها من التجمعات التي نراها والتي تمثل في واقعها خطرا كبيرا لا تمثله المساجد، فما نراه في المولات والأسواق وحافلات النقل العام والقطارات ومترو الأنفاق أبشع بكثير مما يمكن أن يحدث في المساجد، ولكنها الحرب على الإسلام وكأن كورونا ينتقل بالصلاة لا بالتجمعات!

إن القول بمنع صلاة الجمع والجماعات وصلاة العيد بغرض حفظ النفس هو قول باطل ومبرر واه لمنع الناس من الصلاة وإفساد أجواء صيامهم وفطرهم في رمضان وبعدها فرحتهم بالعيد، فيمر عليهم كغيره من الأيام، فمن يمنع الناس من الصلاة يبيح لهم التزاحم في وسائل النقل وبشكل لا يمكن حدوثه أبدا في المساجد، تلك الأماكن الطاهرة التي لا يرتادها إلا المطهرون المتوضئون، وكان الأولى بعالم الأزهر وأستاذ الشريعة والفقه أن يطالب الدولة التي يدعي زورا أنها إسلامية باتخاذ التدابير الوقائية اللازمة لحماية من يرتادون المساجد، بدلا من الصمت بل والمشاركة في إغلاقها ومنع الذكر فيها والسعي في خرابها.

إن الفاشية الدينية الحقيقية هي ما يقوم بها المدعون من علماء الأزهر والأوقاف في مصر تكريسا للنظام الحاكم وتبريرا لمخالفاته بل وإعطاؤها ولو شيئا من الشرعية، رغم وضوح مخالفة النظام كله للإسلام بما يحمله وما يطبقه من أحكام، ولا يجوز أبدا اعتبار رأس سلطة تطبق قوانين الغرب الكافر ولي أمر شرعياً واجب الطاعة، بل الواجب خلعه وإقامة الدولة التي تطبق الإسلام حقا، دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. وكما قال أستاذ الشريعة أزمة الخطاب الإسلامي هو الجهل بأحكام الدين فعن أي ولي أمر يتكلم؟ّ! وكيف صار وليا للأمر؟! ومتى بايعته الأمة؟! وبماذا يحكمها؟! (عفوا لقد قال إن مصر دولة مسلمة ودستورها الإسلام) وكأنه لا يعرف ما هو الإسلام ولا ما هي أحكامه ولا كيف تطبق! فأين هو الإسلام الذي يطبق في مصر يا أستاذ الشريعة، بينما مصر دولة قطرية تحدها حدود سايكس بيكو المخالفة للشرع وتحتكم لقوانين الغرب الوضعية وليس للإسلام، وتنتشر فيها البنوك الربوية بتصريح من الدولة وبرعايتها وحمايتها، ودستورها الذي تدعي يقر في أول مادة أن مصر دولة مستقلة ذات سيادة تحكم بالنظام الديمقراطي وليس بالإسلام؟ ورغم أنها ليست مستقلة أصلا بل هي تابعة خاضعة لنفوذ أمريكا ويحكمها عملاؤها بدءا من عبد الناصر حتى الآن؟!

يا أستاذ الشريعة ويا كل علماء الأزهر! إن الإسلام لا يطبق إلا في الدولة التي أقرها الشرع وحدد شكلها وهيكلها؛ دولة الخلافة، وهي ليست دولة قطرية ولا تعترف بحدود سايكس بيكو، ومن يحكمها هو ولي الأمر الشرعي واجب الطاعة، وتكون رئاسته عامة لجميع المسلمين، ويحصل الحكم منه ببيعة شرعية صحيحة ويحكمهم بالإسلام فقط ولا شيء غير الإسلام، فهل هذا ينطبق على مصر وحاكمها يا أستاذ الشريعة؟! يقينا لا، ولهذا فإنه يجب عليكم يا علماء مصر والأزهر أن تبرأوا لله من هذا النظام ولا تكونوا أداة في حربه على دينكم وطمس عقيدته السياسية، بل وطمسه بالكلية إن استطاعوا، وسيروا في الناس سيرة العز بن عبد السلام سلطان العلماء وغيره ممن لا يخشون في الله لومة لائم، وكونوا قادة للناس حقا بما علمتم وتعلمتم من الكتاب والسنة، نحو ما يصلح حالهم ويردهم إلى دينهم ردا جميلا، فتوجهوا بهم ووجهوهم نحو وجوب تطبيق الإسلام كاملا شاملا في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وضعوا أيديكم في أيدي من يحملون للناس مشروعا كاملا جاهزا للتطبيق، وطالبوا أبناء الكنانة شعبا وجيشا باحتضان دعوتهم وحمل فكرتهم عسى الله أن يكتب النصر والفتح فتقام الدولة التي يعم خيرها وعدلها الناس جميعا، خلافة راشدة على منهاج النبوة، اللهم عاجلا غير آجل.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

#كورونا             |          #Covid19                 |           #Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست