انقلاب في السعودية
انقلاب في السعودية

الخبر:   قام الملك سلمان بتنحية محمد بن نايف عن ولاية عهد الملك في السعودية وتعيين نجله محمد وليا للعهد.

0:00 0:00
Speed:
June 24, 2017

انقلاب في السعودية

انقلاب في السعودية

الخبر:

قام الملك سلمان بتنحية محمد بن نايف عن ولاية عهد الملك في السعودية وتعيين نجله محمد وليا للعهد.

التعليق:

تتويجا للغنائم التي حصدها ترامب في زيارته الأخيرة للسعودية، أقدم ملك السعودية على تنصيب محمد بن سلمان العميل الأوفى لأمريكا وليا لعهد ملك يشرف على نهايته. وبذلك تكون أمريكا قد ضمنت ملكا للسعودية شابا قد يمكث في الحكم عشرات السنين إن لم يحصل تغيير قسري للملك. وبالتالي فإن أمريكا تنظر بعين ثاقبة إلى أكبر بلد نفطي في العالم وصاحب أقوى تأثير في العالم الإسلامي ليكون تابعا مخلصا لها ولسياساتها في المنطقة. وليس غريبا بالتالي ما قام به ترامب من عملية تنصيب للسعودية لتكون رأس حربة سياساتها ومفتاحا لاستراتيجية هيمنتها على المنطقة، إذ جلبت أكثر من 50 حاكماً من حكام البلاد الإسلامية ليشهدوا تتويج السعودية لهذا المنصب الخطير. ومع ذلك فتاريخ العمالة والتبعية الحديث ومنذ الحرب العالمية الثانية يظهر أن انتقال الدول من حضن أمريكا إلى حضن بريطانيا وبالعكس أمر طبيعي.

وهكذا باتت أمتنا بعد أن فقدت راعيها الشرعي، مطية لدول استعمارية كبرى لا ترقب في شعب إلا ولا ذمة. وبات الانعتاق من هيمنة أمريكا وبريطانيا صعب المنال. فالصراع على الحكم والملك في السعودية بين أجنحة العائلة إنما هو صراع على انتقال المملكة من نفوذ هذا إلى نفوذ ذاك، وليس واردا أن يكون صراعا من أجل الانعتاق كليا من التبعية. ذهب فيصل وجاء فهد (بعد خالد) فتحرك رمل الصحراء من أنجلو سكسون بريطانيا إلى أنجلو سكسون أمريكا. ثم جاء عبد الله وعادت السعودية إلى قواعدها الإنجليزية. والآن سلمان وابنه أعادوا كثيب الرمل وحملوه على طائرة ترامب إلى واشنطن. فتعسا لما آلت إليه حالة خير الأمم على أيدي تجار باعوها وتآمروا عليها لمصلحة أعدائها.

والحقيقة أن وضع الأمة المأساوي لا يختلف كثيرا سواء أكان الملك يرقص في لندن أم يقامر في أمريكا. فالأمر سيان خاصة فيما يتعلق بالحرب على الإسلام والحيلولة دون ظهوره. فالسعودية دفعت مليارات الدولارات لحماية مبارك وعرشه والحيلولة دون سقوطه، ثم إذا فشلت في ذلك عادت لتدفع أموالا ضخمة للإطاحة بمحمد مرسي لصالح جنرالات مصر ولدعم انقلاب السيسي. وقادت تحالفا ضخما في اليمن وأنفقت عشرات المليارات ليس حربا ضد الحوثيين كما يعلن، ولكن لمنع انعتاق اليمن من الهيمنة الغربية. أما في سوريا فكان دور السعودية من أشد الأدوار تنكيلا بالثورة منذ أن جعلت أموالها حقائب مبثوثة لشراء الذمم وحرف الثوار عن مسارهم، وربطهم بمال رجز لم يجر عليهم سوى الفشل والخيبة.

والحقيقة كذلك أن السعودية ليست ضربا من الصدف أو حالة استغراب في بلاد المسلمين خاصة في منطقة الخليج. فما من أمير ولا شيخ ولا ملك إلا ويرقد في أحضان أمريكا أو بريطانيا دون خجل من نفسه ولا وجل من شعبه. وقد أزاحت أزمة مقاطعة قطر التي أعلنتها السعودية أوراق التوت التي كادت أن تستر عورات أولئك المتهالكين على الحكم على حساب شعوبهم ولصالح أعدائهم. فقطر وأمراؤها لم يتوانوا عن التبجح بأنهم يتمتعون بحمايات متنوعة أمام ما اصطلح عليه بحصار قطر. فمن الاحتماء وراء قاعدة العُديد، وتأمين مصالح أمريكا، واستجداء روسيا وبريطانيا إلى غير ذلك من دهقنة العمالة والارتماء. وكل ذلك مصحوب بكشف المستور من علاقات حكام الإمارات وعمالتهم.

أما مركز مكافحة (الإرهاب) الذي عهدت به أمريكا لمحمد بن سلمان ليتولى كبره فقد تم تصميمه ليكون مرصدا يحصي أنفاس كل من يعمل لإعادة الإسلام السياسي للحياة متمثلا بدولة الخلافة على منهاج النبوة. لقد اخترعت أمريكا قصة (الإرهاب) منذ سبعينات القرن الماضي، وعملت على تعريفها وتبويبها وتصنيفها ورعرعتها وتضخيمها إلى أن أدخلتها ضمن استراتيجياتها المتعلقة بالهيمنة على العالم الإسلامي والحيلولة دون نشوء نظام إسلامي يتحدى الرأسمالية العفنة والديمقراطية الكاذبة. لقد نصبت السعودية نفسها بزعامة محمد بن سلمان حارسا أمينا ومنفقا سخيا على حرب الله ورسوله ودينه الحنيف بالوكالة عن أمريكا والغرب، وهم كالذي اتخذ مسجدا ضرارا وإرصادا وتفريقا لكلمة المسلمين، فأتى الله على بنيانه من القواعد.

إنه مهما عملت أمريكا ومعها عملاؤها في السعودية ومصر وتركيا وغيرها على حرب الإسلام ودعاته، فإن الحقيقة التي لا يعلمها كثير من الناس أن الذي أنزل دين الإسلام على رسوله قد تعهد بحفظه وانتشاره ولو كرهت ذلك أمريكا وعملاؤها. والله تعالى قد قال في محكم كتابه العزيز ﴿يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ * هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾. وهو الذي قال كذلك ﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ﴾. ثم أكد الله تعالى في القرآن الحكيم أن الغلبة في النهاية ستكون لدين الله ورسله ودعوتهم ﴿كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾.

فأمريكا ترهب الناس وتخوف من يدعو إلى دين الله، وتهددهم بحربها وآلتها الصماء، وتجلب عليهم بجيشها وعملائها ظنا منها أن الدعاة إلى دين الله سيصيبهم اليأس وينقلبون على أعقابهم، ولم يدركوا أن الله تعالى قد استبقهم بطمأنة أصحاب هذا الدين، وحملة الدعوة بل والمستضعفين في الأرض أن تهديد أمريكا وعملائها وتخويفها ووعيدها ليس له أثر أمام قوة الإيمان بالله وصدق الدعوة إليه والإخلاص الخالص لرب العالمين. والله تعالى يقول ﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد الجيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست