أنقرة وبكين... بين عز المبدئية وذل البراغماتية
أنقرة وبكين... بين عز المبدئية وذل البراغماتية

الخبر:   اعتبر وزير الخارجية التركية مولود تشاوش أوغلو خلال مؤتمر صحفي مع نظيره الصيني وانج يي بعد اجتماع التزم فيه الطرفان العمل معا لمحاربة "الإرهاب"، أن "الأمن الصيني بمثابة أمن بلدنا". وتعهد قائلا "إننا لن نسمح بأي نشاط معاد للصين في تركيا على الإطلاق وسنتخذ إجراءات لمنع نشر أخبار صحفية ضد الصين". مما يعني منع دعم قضية الإيغور في الإعلام التركي ووقف أي نشاط مناهض للصين (رويترز، 3 آب/أغسطس 2017)

0:00 0:00
Speed:
August 05, 2017

أنقرة وبكين... بين عز المبدئية وذل البراغماتية

أنقرة وبكين... بين عز المبدئية وذل البراغماتية

الخبر:

اعتبر وزير الخارجية التركية مولود تشاوش أوغلو خلال مؤتمر صحفي مع نظيره الصيني وانج يي بعد اجتماع التزم فيه الطرفان العمل معا لمحاربة "الإرهاب"، أن "الأمن الصيني بمثابة أمن بلدنا". وتعهد قائلا "إننا لن نسمح بأي نشاط معاد للصين في تركيا على الإطلاق وسنتخذ إجراءات لمنع نشر أخبار صحفية ضد الصين". مما يعني منع دعم قضية الإيغور في الإعلام التركي ووقف أي نشاط مناهض للصين (رويترز، 3 آب/أغسطس 2017)


التعليق:

تجاهل الإعلام التركي محنة الإيغور بينما سلط الضوء على أهمية الشراكة مع الصين واحتفل بتصريحات وزير الخارجية التركي وتصريحاته عن رغبة بلاده في بناء محطتها النووية الثالثة بالتعاون مع الصين والمشاريع المهمة بين الصين وتركيا مثل مشروع إعادة إحياء طريق الحرير التاريخي والتنسيق لرفع عدد السياح الصينيين في تركيا لـ 3 ملايين سائح.

وتأتي هذه التصريحات في وقت بدأت الصين فيه عملية واسعة النطاق لترهيب المسلمين الإيغور مما أدى لفرار المئات وربما الآلاف منهم عبر وسط آسيا إلى تركيا. وقد شكا الإيغور من التمييز الديني والاقتصادي والتضييق في العبادات مثل حظر الصيام والزي الشرعي والصلاة في الأماكن العامة، وقد تابع الناس في تركيا مأساة الإيغور تحت الاحتلال الصيني واتهم الرئيس التركي رجب طيب أردوغان عام 2009 بكين بارتكاب "نوع من الإبادة" فى شينجيانغ وشهدت تركيا تظاهرات عنيفة مناهضة للصين في تركيا عام 2015. ولا شك أن التظاهرات ومسيرات الدعم والتصريحات النارية لم تكن سوى تنفيس عن غضب المسلمين بينما استمرت حكومة أردوغان العلمانية في مد الجسور وتنسيق التعاون مع الصين.

قرأت الخبر أعلاه وتابعت تسويق الإعلام التركي والإعلام الموالي لتركيا لخيانة قادة الجمهورية العلمانية في تركيا للمسلمين ولأهلنا الإيغور فاستحضرت حادثة وقعت بين المسلمين وحكام الصين يوم كانت للمسلمين دولة مهابة وقادة ديدنهم الحرص على الإسلام وأهله.

كانت هذه الحادثة عندما فتح القائد المسلم قتيبة بن مسلم الباهلي في زمن الخليفة الأموي عبد الملك بن مروان (705-715م) مدينة بخارى وسمرقند ووصل إلى حدود الصين. قال ابن الأثير: "وكان قتيبة بعد أن فتح كاشغر قد كتب له ملك الصين أن يبعث له رجلا شريفا يخبره عنهم وعن دينهم. فانتخب قتيبة عشرة لهم جمال وألسن وبأس وعقل وصلاح، فأمر لهم بعدة حسنة ومتاع حسن من الخز والوشي وغير ذلك وخيول حسنة وكان منهم هبيرة بن مشمرج الكلابي، فقال لهم إذا دخلتم عليه فأعلموه أني قد حلفت أني لا أنصرف حتى أطأ بلادهم وأختم ملوكهم وأجبي خراجهم.

فساروا وعليهم هبيرة فلما قدموا عليهم دعاهم ملك الصين فلبسوا ثيابا بياضا تحتها الغلائل وتطيبوا ولبسوا النعال والأردية ودخلوا عليه وعنده عظماء قومه فجلسوا ولم يكلمهم الملك ولا أحد ممن عنده فنهضوا فقال الملك لمن حضره: كيف رأيتم هؤلاء؟ فقالوا: رأينا قوما ما هم إلا نساء. فلما كان الغد دعاهم فلبسوا الوشي والعمائم الخز والمطارف وغدوا عليه فلما دخلوا قيل لهم ارجعوا وقال لأصحابه كيف رأيتم هذه الهيئة؟ قالوا أشبه بهيئة الرجال من تلك، فلما كان اليوم الثالث دعاهم فشدوا سلاحهم ولبسوا البيض والمغافر وأخذوا السيوف والرماح والقسي وركبوا. فنظر إليهم ملك الصين فرأى مثل الجبل فلما دنوا ركزوا رماحهم ودفعوا خيلهم كأنهم يتطاردون. فقال الملك لأصحابه: كيف ترونهم؟ قالوا ما رأينا مثل هؤلاء!

فلما أمسى بعث إليهم أن ابعثوا إلي زعيمكم فبعثوا إليه هبيرة فقال له ملك الصين: "قد رأيتم عظم ملكي وأنه ليس أحد منعكم مني وأنتم في يدي بمنزلة البيضة في كفي وإني سائلكم عن أمر فإن لم تصدقوا قتلتكم". قال: سل. قال: "لم صنعتم بزيكم الأول اليوم الأول والثاني والثالث ما صنعتم؟". قال هبيرة: "أما زينا الأول فلباسنا في أهلنا والثاني فزينا إذا أمنا أمراءنا والثالث فزينا لعدونا". قال: "ما حسن ما دبرتم دهركم فقولوا لصاحبكم ينصرف فإني قد عرفت قلة أصحابه وإلا بعثت إليكم من يهلككم". فقال له هبيرة: "كيف يكون قليل الأصحاب من أول خيله في بلادك وآخرها في منابت الزيتون؟ وأما تخويفك إيانا بالقتل فإن لنا آجالا إذا حضرت فأكرمها القتل ولسنا نكرهه ولا نخافه وقد حلف أن لا ينصرف حتى يطأ أرضكم ويختم ملوككم ويعطى الجزية".

أعادت هذه المقالة ملك الصين إلى صوابه فاعتدل في كلامه وقال لهبيرة: فما الذي يرضي صاحبكم؟. قال: إنه حلف ألا ينصرف حتى يطأ أرضكم، ويختم ملوككم، ويعطى الجزية. قال: فإنا نخرجه من يمينه ونبعث تراب أرضنا فيطأه ونبعث إليه ببعض أبنائنا فيختمهم ونبعث إليه بجزية يرضاها فبعث إليه بهدية وأربعة غلمان من أبناء ملوكهم ثم أجازهم فأحسن فقدموا على قتيبة فقبل قتيبة الجزية وختم الغلمان وردهم ووطئ التراب.

فقال سوادة بن عبد الملك السلولي:

لا عيب في الوفد الذين بعثهم ** للصين إن سلكوا طريق المنهج

كسروا الجفون على القذى خوف الردى ** حاشا الكرم هبيرة بن مشمرج

أدى رسالتك التي استرعيته ** فأتاك من حنث اليمين بمخرج

وختاما نقول: ما كانت الصين لتستأسد على أهلنا الإيغور وتمنعهم من عبادة ربهم وأداء شعائرهم لولا هذه المواقف الذليلة لحكام المسلمين، فاللهم أعد علينا عز الإسلام بدولة منيعة مهابة الجانب تحرر البلاد وتوحد الأمة وتحمي المستضعفين وتنسي الطغاة وساوس الشيطان.

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هدى محمد (أم يحيى)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست