انقسام الغرب على النظام الليبرالي فرصة يجب عدم تفويتها
انقسام الغرب على النظام الليبرالي فرصة يجب عدم تفويتها

الخبر: التقى الكفر والإجرام بزيارة ترامب الأخيرة لأوروبا، وكان القادة الأوروبيون في البداية مندهشين وأصبحوا بعدها غاضبين بسبب عدم التزام ترامب بالعديد من المبادرات الغربية، وقد فسر البعض السبات العام كعلامة مشؤومة على أن الغرب في تراجع، في حين اختار آخرون التأكيد على الفراغ القيادي الذي خلفته أمريكا في العالم.

0:00 0:00
Speed:
June 13, 2017

انقسام الغرب على النظام الليبرالي فرصة يجب عدم تفويتها

انقسام الغرب على النظام الليبرالي فرصة يجب عدم تفويتها

الخبر:

التقى الكفر والإجرام بزيارة ترامب الأخيرة لأوروبا، وكان القادة الأوروبيون في البداية مندهشين وأصبحوا بعدها غاضبين بسبب عدم التزام ترامب بالعديد من المبادرات الغربية، وقد فسر البعض السبات العام كعلامة مشؤومة على أن الغرب في تراجع، في حين اختار آخرون التأكيد على الفراغ القيادي الذي خلفته أمريكا في العالم.

التعليق:

ليس هناك شك في أن جدول أعمال ترامب يتضمن تعطيل الوحدة الغربية، وعدم التزامه بالمادة الخامسة من منظمة حلف شمال الأطلسي (الناتو)، والتهديدات بإصلاح العجز التجاري لأمريكا مع ألمانيا، والانسحاب من اتفاق باريس، جعل الأوروبيين يعتقدون أن أمريكا لم تعد شريكا لأوروبا، فقد كانت لهجة ترامب سلبية بشأن العلاقة عبر الأطلسي بين أوروبا وأمريكا.

مع ذلك، ليست هذه المرة الأولى التي تتراجع فيها شراكة أوروبا مع أمريكا، فمنذ نهاية الحرب الباردة، ظهرت أزمات عدة كانت تهدد بتقويض وحدة الغرب، وبرز الانقسام الأكثر وضوحًا بين أمريكا وأوروبا في الفترة التي سبقت الحرب على العراق في عام 2003م، لكن ذلك الانقسام ضئيل مقارنة بالصدع الحالي بين الأطلسي وأمريكا، والذي يهدد بتمزيق الجبهة الغربية بأكملها. قالت ميركل: "إن الأوقات التي نستطيع فيها الاعتماد على الآخرين قد انتهت، كما شاهدت ذلك في الأيام القليلة الماضية، وكل ما يمكنني قوله هو أننا نحن الأوروبيين يجب أن نقرر مصيرنا بأيدينا".

إن الخلاف بين أوروبا وأمريكا مرده اختلاف الآراء حول العلاقات الدولية، الأوروبيون الذين تقودهم ألمانيا يلتزمون بالليبرالية الدولية التي تؤكد في جوهرها على أهمية الأمن الجماعي والتعاون بين القوى العظمى والسلام المنجز من خلال نشر الديمقراطية والتجارة الحرة والتمسك القوي بالمؤسسات الدولية التي يقوم عليها القانون الدولي؛ وأمريكا في الماضي كانت قد أعربت عن تأييدها لبعض هذه الأفكار، لكن اعتمادها على الانفرادية هو الذي أخلّ بالعلاقات مع أوروبا، وأصل إنشاء النظام الليبرالي لكل من أوروبا وأمريكا اللتين عملتا كأوصياء عليه.

مع رحيل أوباما وقدوم ترامب، والنظام الليبرالي في حالة تغير مستمر، ويرجع ذلك إلى أن ترامب مؤيد لرأي "توماس هوبز" أو "الهوبزي" في العلاقات الدولية، والذي يقوم على الحفاظ على الدولة أو المصلحة الوطنية واتباع سياسة العدوان واستخدام القوة في السيطرة على العلاقات مع الأمم الأخرى، وهذا يعني أن العلاقات بين الدول هي مجرد معاملات، يتم فيها تجنب الشراكات - إن وجدت -، فهي ببساطة مؤقتة في جوهرها، وفي الشهر الماضي، دعت إدارة ترامب إلى هذه الفكرة باعتبارها حجر الزاوية في سياستها الخارجية الأمريكية الأولى: "العالم ليس المجتمع العالمي" بل هو ساحة تشارك فيه الدول والجهات الفاعلة غير الحكومية والمنافسة من أجل الامتيازات، والعالم بالنسبة للسياسة الخارجية هو للمعاملات فقط، ويتم التركيز الكبير على الصفقات بدلًا من بناء علاقة دائمية. واتضح ذلك من زيارة ترامب للسعودية، حيث قام بابتزاز السعودية لإعطائه أكثر من 450 مليار دولار مقابل أمنها، ورفض في أوروبا الموافقة على اتفاق باريس للمناخ مشيرًا إلى أنه يضر بالاقتصاد الأمريكي.

مع انفصال أوروبا عن أمريكا، نشأت حالة من الانفتاح للقوى العظمى الأخرى للعب دور قيادي في الشؤون الدولية، وبصورة ظاهرية، أشارت الصين إلى تفضيلها للنظام الليبرالي وأنها تدعم اتفاق باريس وغيره من المعاهدات الدولية، ولكن إلى أي مدى ستذهب الصين نحو تبني النظام الليبرالي؟ هذا السؤال يبقى سؤالًا مفتوحًا. في الوقت نفسه، فإن روسيا أكثر حذرًا في نهجها والذي يظهر في سياستها الخارجية، أما بريطانيا فإن لديها جرحاً داخلياً من خلال (البريكسيت)، ولم تعد تتمتع بعلاقات جيدة مع الاتحاد الأوروبي أو مع أمريكا.

أحد الأطراف الغائبين عن هذا التحول في الموقف الدولي هو الأمة الإسلامية، والتي تفتقر إلى دولة حقيقية تمثلها على الساحة الدولية، ومع ذلك فإن الانشقاقات العميقة في الغرب، وعدم توفير القوى العظمى لبدائل تحل محل النظام الليبرالي المنهار، يمثل فرصة ذهبية لأبناء الأمة لإقامة الخلافة على منهاج النبوة وتجيير الوضع الدولي لصالح الإسلام.

يمكن للخلافة على منهاج النبوة بكل سهولة دعم ألمانيا من خلال تزويدها بالنفط الرخيص وتشجيعها على التسلح، ومن شأن مثل هذا التطور أن تقع بريطانيا وفرنسا وروسيا في مواجهة التوسع الألماني وبالتالي غرق القارة الأوروبية في حرب كبيرة معها. قبل أكثر من مائة عام، استخدم السلطان عبد الحميد الثاني ألمانيا لمواجهة روسيا وبريطانيا وفرنسا لكنه فشل بسبب خيانات داخلية. أما هذه المرة فإنه يمكن للخلافة القائمة قريبا بإذن الله تحقيق انتصار غير عادي من خلال تشجيع الصين لاستعادة تايوان وغيرها من الأراضي المتنازع عليها. الأزمة على جبهتين ستضعف أمريكا وتقوض من قدرتها على مواجهة الخلافة في توحيد البلاد الإسلامية. هل هناك من بين جيوش العالم الإسلامي من يعي هذه الظروف خلال شهر رمضان المبارك؟

﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي – باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست