انسحاب ترامب من الاتفاق النووي يهدد كلاً من أوروبا وإيران (مترجم)
انسحاب ترامب من الاتفاق النووي يهدد كلاً من أوروبا وإيران (مترجم)

الخبر:   وفقا لصحيفة الغارديان: فإن الاتحاد الأوروبي يسعى إلى ترتيب اجتماع لمواجهة الأزمة مع إيران بعد انسحاب دونالد ترامب من الاتفاق النووي، حيث قال الرئيس الإيراني حسن روحاني إن أوروبا لديها "فرصة محدودة للغاية" لإنقاذ الصفقة. وبعد يوم من خرق الرئيس الأمريكي لاتفاق 2015 التاريخي وتحذيره من أنه سيسعى لضرب الشركات الأوروبية التي تواصل التجارة مع طهران، وتعهد الاتحاد الأوروبي باتخاذ خطوات لتحصين الشركات من أي عقوبات أمريكية. ويهدف وزراء الخارجية إلى طمأنة طهران بأن الاتفاق النووي قابل للإنقاذ في اجتماع من المقرر أن يعقد يوم الاثنين في لندن ومن المتوقع أن يحضره نظيرهم الإيراني محمد جواد ظريف. وفي مكالمة هاتفية يوم الأربعاء بين إيمانويل ماكرون وروحاني، أكد الرئيس الفرنسي استعداده "لمواصلة تطبيق الاتفاق النووي الإيراني من جميع النواحي"، وفقا لما ذكرته الرئاسة في بيان لها. وأضاف البيان أن ماكرون "أكد على أهمية قيام إيران بالشيء نفسه".

0:00 0:00
Speed:
May 14, 2018

انسحاب ترامب من الاتفاق النووي يهدد كلاً من أوروبا وإيران (مترجم)

انسحاب ترامب من الاتفاق النووي يهدد كلاً من أوروبا وإيران

(مترجم)

الخبر:

وفقا لصحيفة الغارديان: فإن الاتحاد الأوروبي يسعى إلى ترتيب اجتماع لمواجهة الأزمة مع إيران بعد انسحاب دونالد ترامب من الاتفاق النووي، حيث قال الرئيس الإيراني حسن روحاني إن أوروبا لديها "فرصة محدودة للغاية" لإنقاذ الصفقة.

وبعد يوم من خرق الرئيس الأمريكي لاتفاق 2015 التاريخي وتحذيره من أنه سيسعى لضرب الشركات الأوروبية التي تواصل التجارة مع طهران، وتعهد الاتحاد الأوروبي باتخاذ خطوات لتحصين الشركات من أي عقوبات أمريكية.

ويهدف وزراء الخارجية إلى طمأنة طهران بأن الاتفاق النووي قابل للإنقاذ في اجتماع من المقرر أن يعقد يوم الاثنين في لندن ومن المتوقع أن يحضره نظيرهم الإيراني محمد جواد ظريف.

وفي مكالمة هاتفية يوم الأربعاء بين إيمانويل ماكرون وروحاني، أكد الرئيس الفرنسي استعداده "لمواصلة تطبيق الاتفاق النووي الإيراني من جميع النواحي"، وفقا لما ذكرته الرئاسة في بيان لها. وأضاف البيان أن ماكرون "أكد على أهمية قيام إيران بالشيء نفسه".

التعليق:

إن أي مراقب وثيق للسياسة في الشرق الأوسط يدرك جيدا أن إيران قد تعاونت دائما ضمناً مع أهداف السياسة الأمريكية في المنطقة. وقد أجرت أمريكا مهمتين وحشيتين جماعيتين في السنوات الأولى من القرن الحالي، إحداهما في أفغانستان والأخرى في العراق، على الحدود الإيرانية. ولم تواجه أمريكا معارضة من إيران لهذه العمليات غير القانونية فحسب، بل إن إيران اتخذت العديد من الإجراءات لمساعدة أمريكا في تعزيز موقفها في هذين البلدين. ومع ذلك، ومع الثورة في سوريا، واجهت أمريكا تهديدا لم يسبق له مثيل ليس فقط لعميلها بشار الأسد ولكن أيضا للبنية الاستعمارية بأكملها في الشرق الأوسط التي ورثتها من بريطانيا. وقد عادت أمريكا، التي تخشى الانخراط بالانتشار الجماعي الفاشل لقواتها الخاصة، مرة أخرى إلى إيران، هذه المرة للنشر المفتوح لقواتها وليس مجرد الأعمال الخفية أو شبه السرية التي قامت بها إيران في السابق. لقد كانت هذه الحاجة الملحة التي أجبرت إدارة أوباما على التفاوض حول تطبيع العلاقات الدولية مع إيران، واتفاق برنامج عمل اللجنة الذي أغرى أوروبا بالثروة العظمى من الطاقة الكبيرة في إيران. وقد تخلت أوروبا على عجل عن خطابها السابق المعادي لإيران وهرعت للاستفادة من حقول النفط والغاز في إيران. وفي الوقت نفسه، هرعت إيران أيضا إلى الامتثال للتعليمات الأمريكية التي ترى فوائد اقتصادية لنفسها بعد عقود من العزلة، ورؤية فوائد سياسية لنفسها في نفوذها الإقليمي الممتد.

الآن، ومع ذلك، في إدارة ترامب، تعتبر أمريكا عمل إيران قد اكتمل وتريد أن تنسحب إيران من سوريا والعراق. ويهدف انسحاب ترامب من الصفقة النووية الإيرانية والإعلان عن العقوبات المجددة إلى معاقبة إيران لاعتقادها بأنها يمكن أن تجني بعض المنفعة لنفسها في العراق وسوريا وأن تعلم القيادة الإيرانية بأنها لا تخدم أمريكا الرئيسية إلا كواجب عليها وليس للدفع أو المكافأة. ولا يوجد دليل على عدم امتثال إيران للاتفاق النووي. وفي الوقت نفسه بدأت أمريكا تتطلع بغيرة إلى الفوائد الكبيرة التي بدأت أوروبا تستمدها من التجارة مع إيران. وتعد أوروبا، مثل الصين، فقيرة في الطاقة وتعتمد اعتمادا كاملا على الإمدادات التي توفرها البلدان الأخرى. وتعتبر إيران قوه عظمى في مجال الطاقة وتقدر احتياطاتها النفطية بحوالي 10% من إجمالي العالم.

اشتكى روحاني لميركل على معاقبته لقيامه بخدمة المصالح الغربية فقط، وقال روحاني للزعيمة الألمانية في مكالمة هاتفية يوم الخميس "إن إيران مصممة وعاقدة العزم على تحقيق وصون الاستقرار والأمن الإقليميين والحفاظ عليهما. وأنها حاولت دائما تهدئة التوترات في المنطقة وأنها لا ترضى بأي شكل من الأشكال بمزيد من التوترات".

وأيضا: وأكد على أن "المعركة التي خاضتها إيران والشعبان العراقي والسوري ضد (الإرهابيين) التابعين لتنظيم الدولة جلبت مستويات جيدة نسبيا من الأمن إلى سوريا والعراق واستفادت منها المنطقة والعالم بما في ذلك أوروبا". (بريس تي في)

وفي الوقت نفسه، أوضحت الممثلة العليا للاتحاد الأوروبي للشؤون الخارجية، فيديريكا موغيريني، المصالح الاقتصادية الأوروبية المهيمنة في أوروبا بقولها "إني أشعر بقلق خاص إزاء إعلان العقوبات الجديدة. وسأتشاور مع جميع شركائنا في الساعات والأيام المقبلة لتقييم آثارها". وقالت موغيريني "إن الاتحاد الأوروبي عازم على العمل وفقا لمصالحه الأمنية وحماية استثماراته الاقتصادية".

بمشيئة الله، سوف يشهد العالم قريبا إقامة دولة الخلافة الراشدة المستقيمة على نهج النبي r والتي ستطبق الإسلام وستحمل نوره إلى العالم، والذي سيطرد الأجنبي الكافر من البلاد الإسلامية والعودة لإدارة شؤوننا للمسلمين وحدهم. يقول الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم عن المنافقين الذين يساعدون الكفار: ﴿الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّهِ قَالُواْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُواْ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ فَاللّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَن يَجْعَلَ اللّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست