أنت تعرف عدوك من صديقك جيداً يا سيادة الرئيس!
أنت تعرف عدوك من صديقك جيداً يا سيادة الرئيس!

قال رئيس الوزراء التركي بن علي يلدريم في كلمته أمام الكتلة النيابية لحزب العدالة والتنمية: "إنهم يزودون وحدات حماية الشعب (الكردي YPG) بالسلاح. وهذا ما لا تتسع له الصداقة.

0:00 0:00
Speed:
January 05, 2017

أنت تعرف عدوك من صديقك جيداً يا سيادة الرئيس!

أنت تعرف عدوك من صديقك جيداً يا سيادة الرئيس!

الخبر:

قال رئيس الوزراء التركي بن علي يلدريم في كلمته أمام الكتلة النيابية لحزب العدالة والتنمية: "إنهم يزودون وحدات حماية الشعب (الكردي YPG) بالسلاح. وهذا ما لا تتسع له الصداقة. ما ننتظره من الإدارة الجديدة أن تضع حداً لهذا العار. ونحن لا نحمل الإدارة الجديدة مسؤولية هذا، فهي مسؤولية إدارة أوباما. هل يمكن الاعتماد على الإرهاب في ضرب الإرهاب؟!. اليوم هو يوم تمايز الصديق عن العدو". [الجزيرة 2017/01/03].

التعليق:

في اللقاء الصحفي الذي جمعه بالرئيس الغيني ألفا كوندا في يوم 28 كانون الأول قال رئيس الجمهورية رجب طيب أردوغان: "ما الذي كانت تقوله قوى التحالف في البداية؟! "سنتابع حربنا على تنظيم داعش الإرهابي حتى القضاء عليه تماماً". بل كانوا يتهموننا بدعم داعش. والآن غاب الجميع، بل بالعكس يقدمون الدعم لداعش ووحدات الحماية الشعبية YPG وقوات الحزب الديمقراطي PYD. فالأمر بين واضح. وكله مسجل لدينا وموثق بالصور وتسجيلات الفيديو". فهل هذه التصريحات اتهامات من أردوغان وبن علي يلدريم للدولة الأمريكية؟ أم هي إشارات منهما لإدارة أوباما التي تستعد للرحيل في مغازلة منهما لإدارة ترامب المقبلة؟

بل ويتساءل بعض المعلقين العرب عما إذا كان هناك تحول استراتيجي، أم هي مناورة سياسية للابتزاز؟ فالذين لا يرون خيانة تركيا لسوريا أو الذين لا يريدون أن يروها كذلك أصدروا حكمهم بأن هذه التصريحات ابتزاز تركيا (عضو الناتو والحليف الاستراتيجي لواشنطن) من خلال التقارب السريع باتجاه موسكو. والسبب الطبيعي في ذلك هو ظهور التحرك التركي الروسي المستقل عن أمريكا في الملف السوري.

والحقيقة هي أن كلا من روسيا وتركيا تتحركان في الأزمة السورية تبعاً لأمريكا، وتعملان نيابة عنها. فالتدخل الروسي في سوريا وقيام تركيا بعملية درع الفرات هو بأمر من الولايات المتحدة الأمريكية ووفق تعليماتها. لأن تدخل أي دولة في دولة أخرى يحتاج إلى موافقة الأمم المتحدة التي تتحكم فيها أمريكا. وبدون موافقتها لا يمكن لأية دولة أن تسرح بخيولها في سوريا. وهنا نسأل رئيس الوزراء يلدريم، إن كان تزويد الـ YPG بالسلاح لا تتسع له الصداقة؛ فهل تتسع الصداقة للجلوس مع روسيا التي تقتل المسلمين ولا تترك حجراً على حجر في سوريا على الطاولة، وخطاب هذا العدو بالصديق؟.

ومرة أخرى نسأل: هل الولايات المتحدة الأمريكية صديق وأوباما عدو؟ يفهم من تصريحاتكم بأن أمريكا صديق، وأن أوباما الذي يستعد للرحيل في 20 كانون الثاني كان عدوا. حسناً، أين كنتم طوال ثمانية أعوام؟ هل كان صديقاً طوال هذه الأعوام وتحول فجأة إلى عدو في الشهر الأخير؟ الأشخاص يأتون ويرحلون والأنظمة أطول بقاءً، وإعلان أوباما عدواً أو كبش فداء لا يستر عمالتكم لأمريكا، وهجومكم على أوباما لا يعدو أن يكون وسيلة تملقٍ لترامب.

لتعلموا جيداً أن صب الاتهامات لأوباما عبث إن كانت قوات حماية الشعب (الكردي) YPG جزءاً من السياسة الأمريكية. ومن الحماقة السياسية توقع حملة ضدها من الإدارة الجديدة، وكونها جزءاً من السياسة الأمريكية واضح من الحوار الذي أجرته نيويورك تايمز مع ترامب في شهر تموز. فعندما قال ترامب: "إني شديد الإعجاب بالأكراد" سأله الصحفي: "لكن أردوغان ليس كذلك، فكيف ستتصرفون؟"، فأجاب ترامب قائلا: "الوضع المثالي أن نجمع بين الطرفين. وهذا ممكن. لكني شخصياً شديد الإعجاب بالقوات الكردية، وأعتقد بأنه من حيث الإمكانية ستكون لنا علاقات ناجحة جدياً مع تركيا. والجمع بين الطرفين بشكلٍ من الأشكال سيكون أمراً رائعاً". ومن السذاجة بالتالي عدم الإشارة إلى أمريكا وتحميلها المسؤولية عن الجرائم المرتكبة في سوريا بما فيها تسليح الـ YPG.

أما تصريحات الرئيس أردوغان ورئيس الجمهورية يلدريم التي تتجاهل الأعراف الدبلوماسية في الأيام الأخيرة وهل هي انعطاف سياسي أم مناورة سياسية؟ فإنها لا تعدو كونها تأتي في سياق خداع الرأي العام وتضليله والتغطية على الجرائم المرتكبة.

نقول إنها لتضليل الرأي العام لأن تركيا تريد أن تعطي رسائل بأن حملتها على منبج والباب من أجل تنظيم الحزب الديمقراطي ووحدات حماية الشعب (الكردي) في سوريا، علماً أن الحقيقة عكس ذلك تماماً. فتركيا موجودة الآن في سوريا وفق الخطة الأمريكية لإضعاف جبهة حلب، وتأمين سقوطها، وهكذا حصل. والحزب الديمقراطي ووحدات حماية الشعب مطمئنان، وذكرهما لا يتجاوز زخرف القول، وليسا سبباً، بل ذريعة، والتفجيرات التي تجري هنا وهناك ليست سوى عمليات تهدف إلى حشد الرأي العام مع الحكومة التركية. وكون هذه التصريحات التي تأتي عشية التحضيرات لمؤتمر أستانة خيانة لأنها تحاول تمويه جريمة تسليم حلب وفق المخطط الأمريكي عند المجموعات الموجودة في الداخل السوري، لإقناعها بقبول تركيا كجهة ضامنة في مفاوضات أستانة.

وأخيراً، نقول لرئيس الوزراء يلدريم، إن اليوم ليس هو اليوم الذي يتمايز فيه العدو من الصديق، فهما متمايزان منذ زمن بعيد، منذ أربعة عشر قرناً، بل اليوم هو يوم الوقوف مع الصديق واتخاذه صديقاً، والوقوف في وجه العدو وإعلانه عدواً، فالمسلمون أصحابنا وإخواننا والكفار أعداؤنا، وهذا ما تعرفونه جيداً، فالله سبحانه وتعالى يقول: ﴿إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُواْ لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا﴾ [النساء 101].

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أرجان تكينباش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست