أنت تُدين... لكن فلسطين ما زالت تحت الاحتلال
أنت تُدين... لكن فلسطين ما زالت تحت الاحتلال

في مؤتمر منظمة التعاون الإسلامي في مكة، والذي استمر من ليلة الجمعة وحتى صباح السبت، أكد العاهل السعودي سلمان بن عبد العزيز أن بلاده لا توافق بأي حال على أي أضرار تلحق بالقدس، وأن فلسطين كانت دائما على رأس أولويات الرياض والعالم الإسلامي. وعبر الملك سلمان عن أن قضية فلسطين هي إحدى أعمدة وأساسات منظمة التعاون الإسلامي. وكانت قضية فلسطين في لب الإعلان النهائي. بعد نشر البيان، تم رفض أن تكون القدس هي عاصمة "كيان يهود". (الشرق الأوسط)

0:00 0:00
Speed:
June 13, 2019

أنت تُدين... لكن فلسطين ما زالت تحت الاحتلال

أنت تُدين... لكن فلسطين ما زالت تحت الاحتلال

(مترجم)

الخبر:

في مؤتمر منظمة التعاون الإسلامي في مكة، والذي استمر من ليلة الجمعة وحتى صباح السبت، أكد العاهل السعودي سلمان بن عبد العزيز أن بلاده لا توافق بأي حال على أي أضرار تلحق بالقدس، وأن فلسطين كانت دائما على رأس أولويات الرياض والعالم الإسلامي. وعبر الملك سلمان عن أن قضية فلسطين هي إحدى أعمدة وأساسات منظمة التعاون الإسلامي. وكانت قضية فلسطين في لب الإعلان النهائي. بعد نشر البيان، تم رفض أن تكون القدس هي عاصمة "كيان يهود". (الشرق الأوسط)

التعليق:

بغض النظر عن البلد الذي يرأس قيادة منظمة التعاون الإسلامي، فإنه لم يحل أيا من المشاكل التي يواجهها المسلمون، ولا يمكنها أن تذهب أبعد من ذلك في حل القضية الفلسطينية. ربما كان الاختلاف الأكبر في المؤتمرات الأخرى هو إضافة عبارة "قوية" و"شديدة" لرسالة الإدانة غير المطبقة على أرض الواقع. إن التفسيرات مثل "فلسطين كانت دائماً أولوية قصوى بالنسبة للرياض والعالم الإسلامي" والتي قالها الملك سلمان، الذي تولى قيادة منظمة التعاون الإسلامي، لا تعكس الحقيقة. إن هذه الكلمات هي كلام أجوف فارغ وبعيد كل البعد عن الممارسة العملية. على العكس من ذلك، ومع الإشارة إلى المبدأ المقبول إلى حد كبير والذي يقول "الأفعال تتحدث بصوت أعلى من الكلمات"، فإن أولوية حكام المسلمين لم تكن أبداً كرامة وقيمة المسلمين. ومع ذلك، فقد أعطيت الأولوية دوماً لرغبات الكافر المستعمر في الإذعان له. مثل هذه المؤتمرات والإدانات الشديدة المتتابعة لم تكن حصيلتها إلا أن عززت صلف كيان يهود ووحشيته.

هذه حقيقة، أليس كذلك؟ ألا يزال اغتصاب يهود للأرض المباركة مستمرا في تزامن مع رسائل إدانة هؤلاء قادة المسلمين لعقود؟ وبخاصة خلال شهر رمضان، ألا ترتكب المجازر ضد إخواننا وأخواتنا في تزامن مع رسائل التنديد في اجتماعات منظمة المؤتمر الإسلامي؟ علاوة على ذلك، ألم يكن الاعتراف بالقدس، وهي أول قبلة للمسلمين وأرض الإسراء والمعراج، عاصمة لكيان يهود، في تزامن مع رسائل إدانة حكام المسلمين؟

نعم، كل هذا حدث في تزامن مع رسائل الإدانة الشديدة من حكام المسلمين، الذين يتعاونون مع الكافر المستعمر.

لو أن هذه الأنظمة كانت تحمي القدس بأفعالها لا بأقوالها، لما تمكن يهود أبداً من أن يطأوا بهمجية أرض المسجد الأقصى. وما كان ليهود أن يحتلوا فلسطين، لو علموا أن جيوش المسلمين، التي ما زالت رابضة في الثكنات اليوم، ستتحرك لتحرير القدس من الاحتلال. ومن جديد، لو كان لدينا قادة وجيوش تملأ قلوب الكفار خوفا ورعبا، لما تجرأ الكافر على جعل القدس عاصمة لكيان يهود.

كيف يمكن لهؤلاء الحكام الوقحين حماية القدس، بينما يقولون "نحن بحاجة إليكم في الشرق الأوسط" ويقصدون كيان يهود الإجرامي، الذي احتل أراض الإسراء والمعراج؛ وفيما يسعون لإقامة علاقات مع كيان يهود متى أتيحت لهم فرصة؟ كيف يمكن لاجتماعات وإعلانات الإدانة ردع كيان يهود وصرفه عن قراراته وأجنداته؟ أفضل وأكثر ما يمكن أن يفعله هؤلاء الحكام هو "نشر إعلان نهائي يتضمن رسائل إدانة شديدة"! ثم ماذا يمكن لمنظمة التعاون الإسلامي، التي لم تسهم بأي شيء لصالح المسلمين، أن تفعل ضد كيان يهود أو أمريكا؟ هل هؤلاء هم الذين يدافعون عن أرض الإسراء والمعراج؟ هل هؤلاء هم الذين يهتمون بالمسجد الأقصى؟ هل هؤلاء الحكام العاجزون، الذين لا يملكون شيئاً غير إداناتهم، هم الذين سيطهرون الأراضي المباركة من كيان يهود المحتل؟

إن عقد الاجتماعات ليس دليلاً على الاهتمام بفلسطين. ورسائل الإدانة لم ولن تحرر القدس والمسجد الأقصى... وعلى الرغم من وجود جيوش عملاقة، فإن الإشارة إلى قرارات الأمم المتحدة تمثل نقطة ضعف لن تسمح أبداً بتحرير هذه الأرض... لن يتم تحريرها عبر رسائل السلام، ولن يتم تحريرها من خلال الدعوة لحل الدولتين.

لا يمكن تحرير القدس والمسجد الأقصى إلا مع قادة أمثال صلاح الدين، الذي حرم على نفسه الابتسام حتى تحرير المسجد الأقصى. لا يمكن تحرير القدس إلا بخلفاء كالخلفاء الراشدين، مثل عمر، الذي لم يطلب العزة إلا من الله فقال "فَمَهْمَا نَطْلُبُ الْعِزَّةَ بِغَيْرِ مَا أَعَزَّنَا اللَّهُ بِهِ أَذَلَّنَا اللَّهُ". سيفك أسر فلسطين على يد قادة وخلفاء أمثال عبد الحميد الذي رفض تلبية رغبة يهود في شراء قطعة أرض من فلسطين "إِنَّ عَمَلَ المِبْضَعِ فِي جَسَدِي أَهْوَنُ عَلَيَّ مَنْ أَنْ أُعْطِيَ شِبْراً وَاحِداً مِنْ أَرْضِ فِلَسْطِينَ". باختصار، لن تحرر فلسطين برسائل الإدانة، أو بالاجتماعات والكلمات، ولكن بجيوش جرارة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله إمام أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست