انتفاضة السكاكين تربك حسابات السلطة ويهود، وتشكك في إنجازاتهم
انتفاضة السكاكين تربك حسابات السلطة ويهود، وتشكك في إنجازاتهم

انتفاضة السكاكين تربك حسابات السلطة ويهود، وتشكك في إنجازاتهم

0:00 0:00
Speed:
October 21, 2015

انتفاضة السكاكين تربك حسابات السلطة ويهود، وتشكك في إنجازاتهم

خبر وتعليق

انتفاضة السكاكين تربك حسابات السلطة ويهود، وتشكك في إنجازاتهم


الخبر:


أعلنت وزارة الصحة أن عدد الشهداء بلغ 44 شهيدا منذ مطلع شهر تشرين الأول/أكتوبر وحتى ظهر الأحد، 30 شهيدا منهم في الضفة والقدس و14 شهيدا في قطاع غزة. وقالت وزارة الصحة في بيان صدر الأحد أن عدد الإصابات التي وصلت للمشافي الفلسطينية بلغ 1829 جريحا أصيبوا بالرصاص الحي والمطاطي خلال المواجهات مع جيش الاحتلال في القدس والضفة وغزة منذ بداية الشهر الجاري. وكالة معا الإخبارية


فيما قررت حكومة يهود عزل الأحياء الفلسطينية في القدس المحتلة، عن باقي المدينة، عبر إقامة جدار إسمنتي في محيطها، لأسباب وصفتها بـ"دواعٍ أمنية". القدس العربي


بينما دعا رئيس السلطة الفلسطينية، محمود عباس، الفلسطينيين إلى "المقاومة الشعبية السلمية، والنضال السياسي والقانوني". بي بي سي العربية. وقالت جريدة الجريدة الكويتية أن دولة يهود اقترحت إعادة قوات الأمن التابعة للسلطة الفلسطينية، والتي ترتدي اللباس المدني إلى الحرم القدسي الشريف، كما كان متبعا قبل اندلاع الانتفاضة الثانية في عام 2000. وكالة معا الإخبارية.

التعليق:


ما من شك أن الأحداث الأخيرة التي باتت تُعرف بانتفاضة السكاكين، قد أربكت السلطة ويهود كثيرا، وأشعرتهم بمدى فشل جهودهم المضنية وعبر السنوات الطويلة الماضية في مسيرتهما الترويضية والتصفوية.


فقد ظن يهود أنهم من خلال ترويض السلطة ومنظمة التحرير وتحويلهما من الخنادق إلى غرف المفاوضات والتنسيق الأمني، بأنهم قد تمكنوا من ترويض أهل فلسطين، وأنّ مسألة تصفية قضية فلسطين باتت مسألة وقت وأنّ أمامهم المتسع من الوقت للحصول على كل ما يريدون دونما مقابل يذكر أو يُلمس أثره على أرض الواقع في ظل حالة الانبطاح والخيانة التي تعيشها السلطة بأقبح صورها.


وفيما يتعلق بمن يسمون "عرب الداخل والقدس" وهم المسلمون الذين يعيشون في القدس وما احتل عام 1948، فقد كان يهود يبنون أحلامهم وخططهم على أنّهم قد تماهوا مع المجتمع اليهودي وأنّ حالة الذوبان كفيلة مع الوقت بإنهاء أثرهم، وغرهم في ذلك بضعة نفر ترشحوا ودخلوا برلماناتهم "الكنيست" وأصبحوا يتعاملون مع دولة يهود كدولة لهم.


وظن عباس وسلطته بأنّ قبضتهم الأمنية ومسيرتهم التصفوية قد أحكمت السيطرة وتغلغلت في الشارع الفلسطيني حتى جرأ ذلك عباس على المفاخرة بالتنسيق الأمني والترويج للخيانة على أنها البطولة والحكمة، هو ومن حوله من الأبواق والمرتزقة الذين باتوا يستلهمون الإبداع من كبيرهم ويحاكون أسلوبه كصائب عريقات.


وظنت أمريكا من وراء يهود والسلطة بأن الأمور تحت السيطرة وملف القضية الفلسطينية ليس عاجلا وملحّاً وأنّ مصيره إلى التصفية والسلام المزعوم.


حتى جاءت هذه الأحداث الأخيرة لترش الماء على بيوتهم الرملية، والزيت على نارهم الخابية، فبدأ قادة يهود يستعيدون وعيهم، والسلطة تصحو من نومها.


إذ أدرك يهود بأن أهل فلسطين لا سيما القدس لم تصبهم حالة الذوبان التي كانوا يفترضونها وأنّ ولاءهم ما زال لأمتهم ومقدساتهم، وأنّ همومهم تدور حول الإسلام وقضاياه، حينما شاهدوا الهبة الشعبية الفردية تطغى على الأحداث الأخيرة، لذلك قرر يهود حاليا عزل الأحياء الفلسطينية عن اليهود في القدس ليتفكروا في أمرهم لاحقا ماذا هم صانعون بهم والحال كذلك.


وكذلك أدركت السلطة أنّ مسيرتها التخاذلية وبرامجها التصفوية لم تفلح في ترويض الجيل الجديد رغم أنه لم يعايش إلا أجواء السلام، ولم يشاهد إلا استخذاء السلطة وتحولها لذراع أمني بشكل مذل ليهود. ليشكك ذلك في مدى السيطرة التي كانت تفترضها السلطة بأنها متحققة لها، ومدى التمثيل الذي تزعمه.


وفوق هذا وذاك، خرجت الأصوات وارتفعت لتتساءل: أين الحركات والفصائل التي تدعي تمثيل القضية وأهل فلسطين، أين هم من دعم الأحداث أو التخطيط لها في ظل حالة الفردية الطاغية على البطولات، ليسلط ذلك الضوء على مقولة يرددها البعض بأنّ الشعوب قد سبقت الحركات والفصائل بوعيها وإخلاصها.


صحيح أنّ أمريكا والسلطة ويهود سوف يبذلون الجهود ويبرمون الاتفاقيات ويقودون المبادرات التي سيسعون من خلالها إلى وأد الحراك وقطف الثمار، ولكن ذلك لن يغير المعادلة الأصيلة، بل ستبقى تلك المبادرات والاتفاقيات رهن يهود والحكام والسلطة وطبقة المرتزقة ولن تجد سبيلها إلى قلوب أهل فلسطين والمسلمين عامة بعد حالة الانفصام التي تولدت بين الأمة والحكام.


والشيء الأكيد في كل ما يحدث هو أنّ الأحداث الأخيرة قد أربكت السلطة ويهود وشككت في إنجازاتهم، بعد أن كشفت عن معدن الأمة وأهل فلسطين، وأنّ السلطة والحكام لا يمثلونها، بل هم في واد والأمة في واد آخر، وبرهنت الأحداث على مدى حاجة فلسطين إلى جيوش المسلمين لتتحرك من ثكناتها فتدك حصون يهود وتحرر الأقصى الأسير والحرائر المستغيثات.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
المهندس باهر صالح
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في فلسطين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست