انتهاك الاتفاقيات هو ديدن أمريكا!
انتهاك الاتفاقيات هو ديدن أمريكا!

الخبر: يوصي تقرير حديث صادر عن مجموعة دراسة أفغانستان (ASG)، بتكليف من الكونجرس الأمريكي، الإدارة الأمريكية الجديدة بتمديد الموعد النهائي لانسحاب القوات الأمريكية من أفغانستان، وأي تخفيض آخر للقوات يجب أن يستند إلى التقدم في محادثات السلام وتقليلها من عنف طالبان. وشدّد التقرير على أن الولايات المتحدة يجب ألا "تمنح النصر لطالبان". طورت التقرير مجموعة غير حزبية برئاسة جوزيف دانفورد، الرئيس السابق لهيئة الأركان المشتركة الأمريكية وكيلي أيوت، السيناتور الجمهوري السابق. كما سلّط التقرير الضوء على أن أي انسحاب كامل للقوات الأمريكية في هذا الوقت يمكن أن يؤدّي إلى حرب أهلية وعدم الاستقرار الإقليمي وعودة تنظيم القاعدة. (بي بي سي الفارسية).

0:00 0:00
Speed:
February 08, 2021

انتهاك الاتفاقيات هو ديدن أمريكا!

انتهاك الاتفاقيات هو ديدن أمريكا!
(مترجم)


الخبر:


يوصي تقرير حديث صادر عن مجموعة دراسة أفغانستان (ASG)، بتكليف من الكونجرس الأمريكي، الإدارة الأمريكية الجديدة بتمديد الموعد النهائي لانسحاب القوات الأمريكية من أفغانستان، وأي تخفيض آخر للقوات يجب أن يستند إلى التقدم في محادثات السلام وتقليلها من عنف طالبان. وشدّد التقرير على أن الولايات المتحدة يجب ألا "تمنح النصر لطالبان". طورت التقرير مجموعة غير حزبية برئاسة جوزيف دانفورد، الرئيس السابق لهيئة الأركان المشتركة الأمريكية وكيلي أيوت، السيناتور الجمهوري السابق. كما سلّط التقرير الضوء على أن أي انسحاب كامل للقوات الأمريكية في هذا الوقت يمكن أن يؤدّي إلى حرب أهلية وعدم الاستقرار الإقليمي وعودة تنظيم القاعدة. (بي بي سي الفارسية).

التعليق:


بموجب اتفاقية الدوحة، الموقّعة بين أمريكا وطالبان، تعهّدت أمريكا بخفض قواتها تدريجياً من أفغانستان مع سحب جميع قواتها بحلول أيار/مايو 2021، لكنها في الأيام الأخيرة عملت بلا كلل على توسيع وجودها في أفغانستان. وتحقيقا لهذه الغاية، اتهمت هي وحلف شمال الأطلسي والاتحاد الأوروبي طالبان بالفشل في الوفاء بالتزاماتها، بما في ذلك الحدّ من العنف وقطع العلاقات مع القاعدة والفشل في دفع المفاوضات بين الأفغان. بالنظر إلى هذه الأسباب، يزعمون أن الانسحاب الكامل قد يؤدي إلى هجوم واسع النطاق في أفغانستان، مع سيطرة طالبان على الحكومة وإشعال "حرب أهلية" في البلاد.


في الوقت نفسه، دعم أنتوني بلينكين، وزير الخارجية الأمريكي، في محادثة هاتفية مع أشرف غاني مستقبلاً ديمقراطياً ومستقراً لأفغانستان، وهو أمر لم تعرب طالبان علناً عن التزامها الكامل به.


لقد قلناها عدة مرات، ونكررها مرة أخرى، إن أمريكا قد انتهكت عشرات الاتفاقيات والتحالفات مع الآخرين عبر تاريخها لأن سياستها تقوم على استراتيجيات براغماتية. بينما، من ناحية أخرى، التزم المسلمون تاريخياً بالعهود، حيث يُعدّ أي انتهاك للمعاهدات على أنه خيانة وحرام. التزمت طالبان، كجماعة إسلامية، بالمعاهدة من خلال الامتثال لمعظم بنود اتفاقية الدوحة حتى الآن. فقد مرّ عام تقريباً منذ أن أصبحت القوات الأمريكية بأمان تام في قواعدها ولم تواجه أي تهديد خطير أثناء انسحابها التدريجي.


من ناحية أخرى، فإن حجة أمريكا بعدم قطع طالبان لعلاقاتها مع القاعدة ومساعدتها على إعادة الحياة في المنطقة هي العذر نفسه الذي اعتاد الذئب تقديمه للخراف. اعتاد الذئب أن يلوم الأغنام بقوله: "لماذا تتسبب في تعكير المياه؟" بينما كان الذئب نفسه يقيم على القمة ويشرب الماء من الجانب العلوي للنهر. لطالما وصفت أمريكا المسلمين بأنهم القاعدة و"الإرهابيين" الذين وقفوا في أي وقت ضد مصالحها ومصالح الغرب والنظام العالمي السائد. لكن يجب على أمريكا وحلفائها أن يدركوا أن الأمة الإسلامية لن توقف المجاهدين والمقاتلين عن محاربة الاحتلال ولن تتمكن أمريكا أو حلفاؤها من وقف الجهاد ضد أعمال الاحتلال الشرسة. لذلك، فإن هذا العذر هو نفس الخدع الماكرة للماضي وكشف تعويذة العدو.


كما أكدنا فإن الولايات المتحدة عانت بشكل واضح من فشل عسكري في أفغانستان ولم تعد قادرة على مواصلة الحرب فيها. لذلك فهي تريد تحويل هزيمتها إلى "نجاح" من خلال ما يسمى بعملية السلام، كما أنها تنوي الخروج من الباب والعودة مرةً أخرى عبر النوافذ على أساس الاتفاق الذي تمّ التوصل إليه مع طالبان. ومع تولي جو بايدن منصبه، تدعو الولايات المتحدة مرةً أخرى إلى مراجعة اتفاقية الدوحة، وتقدّم الأعذار لعدم سحب قواتها من أفغانستان بالقول إنه لا ينبغي لها "تسليم النصر لطالبان".


لذا يتعين على طالبان أن تدرك أن الحزب الديمقراطي يركّز على الدبلوماسية أكثر من الحرب. لقد تلاعبت إدارة ترامب باتفاقية الدوحة لصالح لأمريكا، مستغلةً ذلك لتقليل نفقاتها العسكرية وكذلك لقيادة انسحاب آمن لعدد كبير من قواتها. الآن، وتحت ستار الدبلوماسية، لن ينهي الديمقراطيون أطول حرب في التاريخ الأمريكي فحسب، بل سيسعون أيضاً إلى تعزيز الأسس الهشّة لأمريكا في المنطقة، خاصة في أفغانستان. وبالتالي، فإن سياسة بايدن الحالية وكذلك أعذار البيت الأبيض لعدم امتثال طالبان لاتفاق الدّوحة هي جزء من هذه السيناريوهات.


كما يجب على طالبان أن تدرك أن أمريكا تعلمت طوال العشرين عاماً الماضية أن هزيمة طالبان عسكريا أمر غير ممكن لأن مقاتلي طالبان لديهم عقيدة إسلامية ودوافع قوية للقيام بالجهاد ضد الاحتلال. لكن الولايات المتحدة والغرب، من خلال تجربتهم مع الجماعات المتشددة - خاصة في الأراضي الإسلامية - تآمروا على دخول الساحة السياسية معها بالطريقة نفسها من أجل جر جزء كبير من قيادتكم من الحرب إلى الساحة السياسية أولاً. وفي النهاية يكون لديهم وصول مفتوح من خلال حكّامهم الدمى وأنظمتهم لإزاحتكم تدريجياً عن الساحة السياسية عن طريق دفعكم للغوص في العملية الديمقراطية.


لذا عليكم أن تقبلوا أنكم عالقون في الخيط المخادع لاتفاقية الدوحة حيث تحاول الإدارة الأمريكية الجديدة أن تفرض عليكم ما خططت له من خلال أنواع مختلفة من الضغط. في غضون ذلك، كان أحد الخيارات المحتملة المحسوسة بشكل ملحوظ حتى قبل توقيع اتفاق الدوحة هو استمرار الوجود العسكري والاستخباراتي الأمريكي وغيره في أفغانستان.


لذلك لا ينبغي أن تنخدع طالبان بالالتزام باتفاق تنتهكه الولايات المتحدة متى شاءت أو كلما فشلت في تأمين مصالحها. لأن الولايات المتحدة والغرب دائما ما يخدعان المسلمين المرة تلو الأخرى، وسوف يتعاملون ويمضون قدما بالطريقة نفسها معكم ومع الجماعات الإسلامية كلها. لا تستطيع بكين ولا موسكو ولا طهران مساعدتكم في هذا الطريق إلى الأمام، لكن المخرج الوحيد هو مغادرة طاولة المفاوضات في أسرع وقت ممكن، والتوقف عن السير في أروقة عواصم أنظمتهم الدمى وأعداء الأمة الواضحين. إن الحل يكمن فقط في استمرار الجهاد في سبيل الله سبحانه وتعالى لهزيمة وتدمير القوى الاستعمارية، بما في ذلك أمريكا وحلف شمال الأطلسي وحلفاؤهما، الذين سفكوا دماء آلاف المسلمين من العراق إلى سوريا ومن ليبيا إلى اليمن وأفغانستان في العقدين الماضيين، وتمكين الأمة بسيوفكم وصبركم وإخلاصكم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سيف الله مستنير
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست