انتحار الشباب في ازدياد، فأين المشكلة؟ (مترجم)
انتحار الشباب في ازدياد، فأين المشكلة؟ (مترجم)

الخبر: "بينما يزداد الوعي حول الأمراض العقلية في جميع أنحاء العالم، تظهر الأبحاث التأثير القاتل لهذا القاتل الصامت في صفوف الجيل الضعيف من الشباب. فمع تقدم التكنولوجيا واستمرار تجزئة الفضاء الطبيعي البشري لتحل محله الآلات، ارتفعت نسبة الأمراض العقلية في أن يكون السبب الأول للموت في سن المراهقة في جميع أنحاء العالم. وقد زادت وفيات المراهقين زيادة هائلة في العقد الماضي، واحتوت النسبة على أكثر من 38 في المائة من المراهقات في كندا. ووفقاً لتقرير منظمة الصحة العالمية لعام 2014، في الولايات المتحدة فإن معدل وفيات الأمهات بسبب الانتحار، كان السبب الرئيسي للوفاة بين الفتيات في الفئة العمرية 15-19 سنة في العالم. في حين إن أسباب مجرد التفكير في الانتحار لا تزال موضع شك، إلا أنه ليس هناك شك في أن التقدم التكنولوجي، والتطور الصناعي في بيئاتنا التي كانت طبيعية في وقت ما والضغط الذي ينتج من استخدام الإنترنت هي أسباب جذرية لزيادة مثل هذا النوع من الوفيات". (جوجل هولندا)

0:00 0:00
Speed:
March 29, 2017

انتحار الشباب في ازدياد، فأين المشكلة؟ (مترجم)

انتحار الشباب في ازدياد، فأين المشكلة؟

(مترجم)

الخبر:

"بينما يزداد الوعي حول الأمراض العقلية في جميع أنحاء العالم، تظهر الأبحاث التأثير القاتل لهذا القاتل الصامت في صفوف الجيل الضعيف من الشباب. فمع تقدم التكنولوجيا واستمرار تجزئة الفضاء الطبيعي البشري لتحل محله الآلات، ارتفعت نسبة الأمراض العقلية في أن يكون السبب الأول للموت في سن المراهقة في جميع أنحاء العالم.

وقد زادت وفيات المراهقين زيادة هائلة في العقد الماضي، واحتوت النسبة على أكثر من 38 في المائة من المراهقات في كندا. ووفقاً لتقرير منظمة الصحة العالمية لعام 2014، في الولايات المتحدة فإن معدل وفيات الأمهات بسبب الانتحار، كان السبب الرئيسي للوفاة بين الفتيات في الفئة العمرية 15-19 سنة في العالم. في حين إن أسباب مجرد التفكير في الانتحار لا تزال موضع شك، إلا أنه ليس هناك شك في أن التقدم التكنولوجي، والتطور الصناعي في بيئاتنا التي كانت طبيعية في وقت ما والضغط الذي ينتج من استخدام الإنترنت هي أسباب جذرية لزيادة مثل هذا النوع من الوفيات". (جوجل هولندا)

التعليق:

تزداد في المجتمعات الغربية نسبة الشباب الذين يعانون من مشاكل نفسية ويتم تشخيص إصابتهم بمرض نفسي أو اضطراب في الشخصية. ويعاني العديد من هؤلاء الشباب أيضاً من تكرار التفكير بالانتحار. وعند النظر إلى الإحصاء أعلاه يبدو أن هؤلاء الشباب يضعون هذه الأفكار قيد العمل على نحو متزايد، وهذا أمر مقلق للغاية.

لكل مبدأ تعريفه الخاص للسعادة وكيفية تحقيقها. وسيسعى المجتمع إلى تشكيل الأفراد من هذه الفكرة وسيساعدهم على تحقيق هذه السعادة.

وتبنى المجتمعات الغربية على المبدأ الرأسمالي الذي هو مبدأ مادي يعتبر تحقيق السعادة المادية الهدف الأساسي للحياة. ويرى أن تحقيق الثروة والكماليات هو مصدر أساسي للسعادة والارتياح في الحياة. وما يسمى بالحريات الليبرالية أيضاً تعلم الشباب من سن مبكرة أن الهدف النهائي من هذه الحياة هو تحقيق قدر كاف من المتعة، وأن سعادتهم هي ما ينبغي أن تشكل سلوكهم.

فلماذا إذن يعاني الكثير من الشباب من مشاعر اليأس والقلق والشعور العام بأنه ميؤوس منه، شديدة جدا تجعلهم يلجأون إلى الانتحار؟ وهل المجتمع قادر على تزويد هؤلاء الشباب بإجابات عندما لا يشعرون بالسعادة التي كان من المفترض أن يشعروا بها كما علمهم المجتمع؟

وإننا نرى أن أول خطوة لمساعدة الشباب في المجتمعات الغربية هي تقديم العلاج النفسي. ويقومون في هذه العلاجات بإرشاد الشباب إلى تركيز اهتمامهم على الجوانب الإيجابية من حياتهم من خلال محاولة تغيير طريقة نظرتهم إلى محيطهم. ويهدفون إلى خلق أهداف جديدة يمكن للشباب التركيز عليها، والتي قد تساعدهم على اتخاذ خطوات إيجابية إلى الأمام. ولكن ماذا لو كان إيجاد بارقة الأمل تلك شبه مستحيلة لأنه حقيقة ليس هناك أمل كما يبدو الحال مع العديد من هؤلاء الشباب؟ ما الذي يحدث لجميع الشباب الذين لا يشعرون بهذه السعادة لأنهم غير قادرين على تحقيق هذا الهدف النهائي؟ وماذا يقال للشباب الذين يحققون الهدف النهائي ويملكون كل ما يرغبون به من حيث المادية ولكن لا يزالون يفتقرون للسعادة؟ وماذا يحدث لهؤلاء الشباب الذين يشعرون بخيبة أمل في ما تقدمه لهم الحياة، من مشاكل متعددة واجهتهم، والذين يعتقدون أيضا أن الحياة تنتهي عند هذه الحياة الدنيا؟ ما الأكذوبات التي سوف ينقلها لهم المجتمع حينئذ؟ وأي بارقة أمل سوف يعطيها لهم المجتمع بعد ذلك؟

وكما ذكر أعلاه فإن لكل مبدأ تعريفه الخاص للسعادة. وعند النظر إلى وجهة نظر الإسلام في السعادة، نرى أن هدف الإسلام في الحياة هو السعي إلى مرضاة الله تعالى. ومن خلال السعي إلى إرضاء الله تعالى، يصل المسلم إلى السعادة.

وسيهدف المجتمع الإسلامي أيضاً إلى إنتاج عقليات بين أفراده يسعون للحصول على مرضاة الله جماعياً. وبالرغم من أن الصعوبات سوف تطال الجميع، إلا أنهم سيدركون أن التعامل مع هذه الصعوبات لن تجدي إلا بالطريقة التي ترضي ربهم. وبتعاملهم مع مشاكلهم بهذه الطريقة، سيدركون أنها حققت لهم هدفاً ألا وهو التقدم خطوة نحو السعادة وأيضاً نحو السعادة الأبدية، لأن لقاءهم بربهم سيصبح أقرب. وسوف يكونون مستعدين لهذه الصعوبات من خلال آيات قرآنية مثل ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ ٱلأَمَوَالِ وَٱلأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ ٱلصَّابِرِينَ﴾.

وعند قراءة مثل هذا الحديث، سوف يصبحون قادرين على وضع الأمور في نصابها: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال، قال رسول الله عليه الصلاة والسلام: «مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلاَ وَصَبٍ وَلاَ هَمٍّ وَلاَ حَزَن وَلاَ أَذًى وَلاَ غمٍّ، حتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُها إِلاَّ كفَّر اللَّه بهَا مِنْ خطَايَاه».

يوفر الإسلام لشبابنا آلية شاملة ليكونوا قادرين على التعامل مع كل صعوبة يواجهونها. فمن ناحية، الاعتراف بالصعوبات، ومن ناحية أخرى تقديم الخلاص الحقيقي لهم. وعلينا أن نجعل شبابنا يدركون أن الإسلام هو الحل الحقيقي الوحيد لمشاكلهم، وعلينا أن نأخذ على عاتقنا عرض الإسلام أمام المجتمعات الأخرى.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ياسمين مالك

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست