انتخابات 2019 المحلية والتقييم العام بشأن الانتخابات  (مترجم)
انتخابات 2019 المحلية والتقييم العام بشأن الانتخابات  (مترجم)

من خلال اقتراح الميزانية المقدم إلى الجمعية الوطنية الكبرى لتركيا أصبحت المساعدات التي ستحصل عليها الأحزاب السياسية واضحة. وستدعم الخزانة خمسة أحزاب بمجموع 772.3 مليون ليرة تركية. (سبوتنيك، 10 تشرين الأول/أكتوبر 2018)

0:00 0:00
Speed:
March 27, 2019

انتخابات 2019 المحلية والتقييم العام بشأن الانتخابات (مترجم)

انتخابات 2019 المحلية والتقييم العام بشأن الانتخابات

(مترجم)

الخبر:

من خلال اقتراح الميزانية المقدم إلى الجمعية الوطنية الكبرى لتركيا أصبحت المساعدات التي ستحصل عليها الأحزاب السياسية واضحة. وستدعم الخزانة خمسة أحزاب بمجموع 772.3 مليون ليرة تركية. (سبوتنيك، 10 تشرين الأول/أكتوبر 2018)

التعليق:

عندما يتم ذكر الديمقراطية، يفكر الناس في الانتخابات على الفور، لأنها واحدة من أهم الوسائل التي يصادفها الناس بشكل متكرر. ولهذا السبب يتم خداع المسلمين من خلال كذبة أن الديمقراطية تتكون من الانتخابات. لا يوجد استقرار في المجتمعات التي يوجد فيها مسلمون بشكل واضح، وتلك الأماكن هي التي تنشأ فيها نزاعات بين الإمبرياليين أنفسهم، وتجرى الانتخابات على فترات قصيرة في تلك البلدان مثل تركيا. على سبيل المثال بين عامي 1946 و2002 كان هناك 15 عملية انتخابات عامة وعلى الأقل أجريت هذه الانتخابات المحلية والاستفتاءات في تركيا. تؤخذ الانتخابات المحلية في الاعتبار، ففي المتوسط ​ تُجرى الانتخابات كل سنتين.

وفقاً لأحكام القانون الحالي في تركيا، يتم منح 2/5000 من الميزانية العامة لكل حزب سياسي كل عام يتجاوز الحد الأدنى البالغ 10٪. وفي حالة إجراء الانتخابات أو عدم إجرائها خلال العام، يتم منح هذه الأموال للأحزاب السياسية والمبلغ أعلى مرتين أو ثلاث مرات خلال الفترة الانتخابية. وفقاً لقانون الموازنة العامة الذي أقره البرلمان في عام 2018 يتم دفع 772.3 مليون ليرة تركية في المجموع للأحزاب السياسية.

يشبه هذا المبلغ المساعدات الرسمية التي تقدمها الدولة من أجل الانتخابات. ومع ذلك يتم أيضاً إنفاق المصروفات الشخصية من المرشحين في الفترة الانتخابية. ووفقاً للبحث يتم إنفاق أكثر من 10 دولارات على الانتخابات لكل ناخب في تركيا. في تقرير المجلس الأعلى للانتخابات يوجد 57.093.985 ناخباً فيما يتعلق بالانتخابات المحلية لعام 2019. لذا سيتم إنفاق حوالي 600 مليون دولار للانتخابات في الفترة الانتخابية 2019.

لا ينبغي الاستهانة بالمصاريف الشخصية التي ينفقها المرشحون في الانتخابات البرلمانية أو الانتخابات المحلية على الإطلاق. عندما يعتقد المرء أن الأشخاص الذين يمتنعون عن مساعدة الفقراء، ينفقون ملايين الليرات من جيوبهم من أجل الانتخابات، فإن هناك قضية معروفة للجميع أنهم سيستردون هذه الأموال وأكثر من ذلك بكثير، إذا فازوا في الانتخابات. على سبيل المثال من المعروف أن المرشحين في إسطنبول أنفقوا ما لا يقل عن 10 ملايين ليرة تركية في الانتخابات العامة 2018. عندما يعتقد المرء أن هذه الأموال يأخذونها بطريقة غير شرعية، ولا شك أن هذه الأموال تنفق من جيب الأمة.

باختصار لن يتم التقليل من شأن النفقات المباشرة في أنظمة الديمقراطية الرأسمالية بسبب الانتخابات والنفقات التي سيتم إنفاقها لاحقاً من الأشخاص الذين فازوا في هذه الانتخابات على الإطلاق. وبالنسبة إلى المساعدات التي تقدمها الدولة نتيجة الانتخابات، يتم تغطية هذه النفقات بواسطة العائدات الضريبية دون التمييز بين الأغنياء والفقراء. يتم تحقيق استرداد النفقات التي ينفقها المرشحون خلال الانتخابات، وأكثر من ذلك بكثير بطرق مختلفة والتي تزيد عشرات المرات، من خلال عائدات الضرائب أيضاً. أصبح عبء الضرائب على الناس لا يطاق.

هذا هو واقع الانتخابات في النظم الديمقراطية ونفقات هذه الانتخابات باختصار، وهذه النفقات هي قهر وظلم وسرقة أموال الأمة بالكامل.

أما بالنسبة للانتخابات في نظام الخلافة والنفقات في هذه الانتخابات:

أولاً، هناك مسألتان مهمتان في نطاق الانتخابات في نظام الخلافة. أولهما اختيار الأمة للخليفة. إلى جانب أنه من القانوني استخدام طرق مختلفة في انتخاب الخليفة، حيث إن هذا هو الحال خلال العصر الذهبي، فالانتخابات ليست هي الطريقة نفسها التي تجري بها اليوم. لأنه إذا مات خليفة أو كانت هناك حالة شرعية توجب عزله، فيجب اختيار خليفة جديد خلال ثلاثة أيام، وليس من الضروري إطلاقاً إنفاق مبالغ ضخمة من المال، على عكس كيفية القيام به اليوم. علاوة على ذلك، ستعمل دولة الخلافة الراشدة على إجراء الانتخابات بأقل تكلفة، وتجري الانتخابات وفقاً لذلك. بحيث لا الدولة ولا المرشحون للخلافة يضطرون إلى إنفاق مليارات الدولارات.

ثانياً: انتخابات مجلس الأمة. يضطلع مجلس الأمة في ولايات الخلافة الراشدة بمهمة تتعلق بضمان الاتصال بين الأمة والخليفة ومحاسبة الحكام وضمان استشارة الخليفة لهم فيما يتعلق بقضايا للأمة دور مهم فيها مثل المشكلات في المناطق التي تمثلها، واحتياجات الأمة وسوء تصرفات الحكام في مناطقهم، حيث تنقل إلى مركز الخلافة، وتحل مشكلات الأمة بسرعة وبشكل صحيح.

بالنسبة للعملية الانتخابية في انتخابات عضوية مجلس الأمة، يتم ذلك وفقاً للشروط الواردة في دستور دولة الخلافة. وتجرى هذه الانتخابات في مراحل محددة، بحيث يكون هناك سهولة وقدرة تمثيل للأمة تم استيفاء الأمر كذلك. ليس من الضروري إنفاق مبالغ ضخمة في هذه الأمور. إلى جانب ذلك فإن أعضاء مجلس الأمة ليس لهم علاقة بالقضايا النقدية، على عكس رؤساء البلديات اليوم. كما أنهم ليس لديهم سلطات ومهام مثل جمع الأموال من الناس لمواصلة الأعمال، وإنفاقها في إطار خططهم الخاصة، على عكس رؤساء البلديات اليوم.

ثالثاً: الخليفة الذي يحكم دولة الخلافة الراشدة سيظل في الخدمة حتى وفاته، طالما أنه يمتلك المؤهلات المتعلقة بالخلافة. ولهذا السبب، فإن إجراء انتخابات خليفة مرة واحدة كل أربع أو خمس سنوات، أمر غير وارد. انتخابات خليفة لفترات قصيرة غير ممكنة، ليس من الضروري إنفاق الأموال من ميزانية الدولة. فقط انتخابات مجلس الأمة تُجرى مرة واحدة كل خمس سنوات.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست