انتخابات أخرى، هجوم إرهابي آخر! (مترجم)
انتخابات أخرى، هجوم إرهابي آخر! (مترجم)

الخبر:   وقع هجوم إرهابي في موسكو مساء الجمعة. ففي 22 آذار/مارس، ذكرت وكالة ريا نوفوستي: "في يوم الجمعة، وقع هجوم إرهابي في مجمع كروكوس للحفلات الموسيقية في شمال غرب موسكو، ووفقاً للمعلومات الأولية، فإنّ ثلاثة أشخاص على الأقل فتحوا النار وهم يرتدون ملابس مموهة، ووقعت لاحقاً انفجارات، أدّى الحريق على إثرها إلى تدمير الطوابق العليا من المبنى بشكل شبه كامل، ومقتل أربعين شخصاً وإصابة أكثر من مائة آخرين".

0:00 0:00
Speed:
April 01, 2024

انتخابات أخرى، هجوم إرهابي آخر! (مترجم)

انتخابات أخرى، هجوم إرهابي آخر!

(مترجم)

الخبر:

وقع هجوم إرهابي في موسكو مساء الجمعة. ففي 22 آذار/مارس، ذكرت وكالة ريا نوفوستي: "في يوم الجمعة، وقع هجوم إرهابي في مجمع كروكوس للحفلات الموسيقية في شمال غرب موسكو، ووفقاً للمعلومات الأولية، فإنّ ثلاثة أشخاص على الأقل فتحوا النار وهم يرتدون ملابس مموهة، ووقعت لاحقاً انفجارات، أدّى الحريق على إثرها إلى تدمير الطوابق العليا من المبنى بشكل شبه كامل، ومقتل أربعين شخصاً وإصابة أكثر من مائة آخرين".

التعليق:

لقد أصبح تقليداً في روسيا أنه عندما تأتي الأوقات السياسية والاقتصادية الصعبة، تحدث هجمات إرهابية في البلاد. وصل بوتين إلى السلطة إثر موجة من الهجمات الإرهابية عندما وقعت سلسلة من الانفجارات في مدن بويناكسك وموسكو وفولجودونسك الروسية في عام 1999.

وفي ذلك الوقت، اختلف العديد من الخبراء والصحفيين مع نتائج التحقيق الرسمي وأيّدوا رواية أنّ التفجيرات تمّ تنظيمها من قبل جهاز الأمن الفيدرالي من أجل وصول بوتين إلى السلطة. وهناك العديد من هذه الأمثلة.

كقاعدة عامة، هناك عدّة مكونات في الهجمات الإرهابية الروسية. أمّا بالنسبة للعامل الإسلامي، فإنّ المشاركين هم مواطنون من القوقاز أو آسيا الوسطى، وهم إما قُتلوا على الفور أو قُبض عليهم في أقصر وقت ممكن. ولم يكن الهجوم الإرهابي في قاعة مدينة كروكوس استثناءً. وفي اليوم التالي أُعلن عن اعتقال 11 شخصاً و4 مشاركين مباشرين في الهجوم. وأعلن تنظيم الدولة مسؤوليته عن الهجوم من خلال خلية خراسان. والمعتقلون هم من الطاجيك، ومواطنون في طاجيكستان.

إذا تحدثنا عن الهجوم الإرهابي نفسه:

أولاً: من المستحيل تخيل موسكو دون وقوف ضباط الشرطة في كل زاوية، ناهيك عن إقامة حفلات موسيقية كبيرة دون مشاركة الشرطة والتعزيزات، ناهيك عن الوضع العسكري والتحذيرات من احتمال حدوث هجمات إرهابية. وهكذا، في 8 آذار/مارس، حثت سفارة الولايات المتحدة في روسيا الأمريكيين في البلاد على تجنّب التجمعات الكبيرة من الناس بسبب التهديد بهجمات إرهابية. وقال بوتين في اجتماع لمجلس إدارة جهاز الأمن الفيدرالي في 19 آذار/مارس: "أودّ أيضاً أن أذكركم بالتصريحات الاستفزازية الأخيرة، بصراحة، الصادرة عن عدد من المؤسسات الغربية الرسمية حول احتمال وقوع هجمات إرهابية في روسيا. كل هذا يشبه الابتزاز الصريح ونية تخويف مجتمعنا وزعزعة استقراره". ومع ذلك، يطلق المجرمون النار على الناس، ويشعلون النار في المبنى ويبتعدون دون أن يواجهوا أي مقاومة في طريقهم.

ثانيا: يعرف أي شخص عاش في موسكو ما هي الاختناقات المرورية، وفي مساء يوم الجمعة، تكون ساعة الذروة، عندما يميل الناس إلى مغادرة الضواحي، ولا يستطيع المجرمون القدوم والخروج بسهولة من مسرح الجريمة، مسلّحين ببنادق آلية ووسيلة لإشعال الحرائق على نطاق واسع. ومما سبق يمكننا أن نستنتج أن سلطات البلاد، وعلى وجه الخصوص جهاز الأمن الفيدرالي، متورطة في هذه الجريمة.

أما عن الغرض من هذا الهجوم الإرهابي، فقد أصدرت الولايات المتحدة مباشرةً بعد الهجوم بياناً قالت فيه إن أوكرانيا لم تكن متورطة وأنّ الهجوم نفّذه تنظيم الدولة الإسلامية. وصرّح رئيس الخدمة الصحفية لمجلس الأمن القومي بالبيت الأبيض، إدريان واتسون بأنه "لا علاقة لأوكرانيا بالهجوم الإرهابي الذي وقع في قاعة مدينة كروكوس في منطقة موسكو، المسؤولية الكاملة عن الهجوم تقع على عاتق تنظيم الدولة الإسلامية".

من الواضح أنه في الوقت الحالي، على خلفية الانتخابات الأمريكية، يدور صراع على السلطة في الداخل، وأمريكا لا تريد أي تغييرات غير منضبطة في الحرب بين أوكرانيا وروسيا. ولذلك تحاول الولايات المتحدة فرض فكرة تورّط تنظيم الدولة في الهجوم الإرهابي على العالم أجمع، وعلى روسيا بشكل خاص.

وتؤيد القوى الأجنبية المعارضة للكرملين فكرة تورط تنظيم الدولة الإسلامية في الهجوم الإرهابي وتحاول إظهار أنّ بوتين ضعيف ولا يسيطر على الوضع في البلاد، وأنّ الأجهزة الخاصة لا تستطيع منع الهجوم الإرهابي حتى في موسكو، وهو الأمر الذي يقولون إنه تم التحذير منه مسبقا.

وبدوره، ألقى الكرملين باللوم على أوكرانيا والقوى الموالية للغرب في الهجوم الإرهابي. وبحسب بوتين، كان الإرهابيون المعتقلون يتجهون نحو أوكرانيا، حيث زُعم أنّ الجانب الأوكراني أعدّ "نافذة" معينة لعبور الحدود. وقال جهاز الأمن الفيدرالي (FSB) إن الإرهابيين خططوا لعبور الحدود بين روسيا وأوكرانيا وكانت لديهم "اتصالات مناسبة على الجانب الأوكراني".

تسمى الحرب في أوكرانيا، التي تخضع لرقابة الكرملين، بعملية عسكرية خاصة. لكن في صباح يوم 22 مارس/آذار، وقبل الهجوم الإرهابي مباشرة، سمح السكرتير الصحفي لبوتين، في مقابلة مع مجلة Argumenty i Fakty، لنفسه أن يقول هذا: "نحن في حالة حرب. نعم، لقد بدأت العملية كقوة عسكرية خاصة، ولكن بمجرد تشكيل هذه المجموعة هناك، وعندما انخرط الغرب كله في هذا الأمر إلى جانب أوكرانيا، أصبحت حرباً فعلية بالنسبة لنا، أنا مقتنع بذلك"، وهو ما يوحي بأن الكرملين لن يذهب إلى محادثات السلام، لكنه ينوي إنهاء ما بدأه.

وفي 17 آذار/مارس، انتهت الانتخابات، حيث لم يشكّ أحد في بقاء بوتين في السلطة. وكما يحدث عادة، مباشرةً بعد الانتخابات، يبدأ بوتين بتدمير شعب روسيا بحماسة أكبر.

في الوقت الحالي، هناك استياء متزايد في روسيا بشأن مدة الحرب في أوكرانيا، وعدم الرغبة في الموت. وتحتاج السلطات إلى سبب مقنع للتعبئة مرةً أخرى ومواصلة الحرب بشراسة أكبر. وهذا الهجوم الإرهابي هو على وجه التحديد ما يحتاج إليه الكرملين لإقناع الشعب الساخط بخوض الحرب في أوكرانيا. ولذلك نسمع مسؤولي الكرملين يصرّون على تورّط أوكرانيا في الهجوم.

يبقى شيء واحد صحيح، وهو أنّ الكفار يستخدمون قاعدة الغاية تبرر الوسيلة! إنّ الكفار يضحّون بشعبهم من أجل تحقيق أهدافهم. إنهم غير مهتمين ولا يهتمون برغبات الناس ولا بمشاكلهم. إنهم مستعدون لتفجير وقتل رعاياهم من أجل الوصول إلى السلطة والثروة والنجاح.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست