انتخابات ديمقراطية في ظل أنظمة الكفر أم البيعة لخليفة في ظل دولة الخلافة؟
انتخابات ديمقراطية في ظل أنظمة الكفر أم البيعة لخليفة في ظل دولة الخلافة؟

الخبر:   ستجرى انتخابات رئاسية مبكرة يوم 12 آذار/مارس، بقرار من رئيس تركمانستان قربانغولي بيردي محمدوف في المجلس الوطني لمجلس الشعب. وفي هذا السياق انطلقت دعاية سيردار بيردي محمدوف، نجل الرئيس قربانغولي بيردي محمدوف، المرشح لرئاسة الجمهورية، في مكاتب تركمانستان في إقليمي البلقان وليباب. (راديو أزاتليك – تركمانستان – 2022/02/18م)

0:00 0:00
Speed:
February 26, 2022

انتخابات ديمقراطية في ظل أنظمة الكفر أم البيعة لخليفة في ظل دولة الخلافة؟

انتخابات ديمقراطية في ظل أنظمة الكفر أم البيعة لخليفة في ظل دولة الخلافة؟

الخبر:

ستجرى انتخابات رئاسية مبكرة يوم 12 آذار/مارس، بقرار من رئيس تركمانستان قربانغولي بيردي محمدوف في المجلس الوطني لمجلس الشعب. وفي هذا السياق انطلقت دعاية سيردار بيردي محمدوف، نجل الرئيس قربانغولي بيردي محمدوف، المرشح لرئاسة الجمهورية، في مكاتب تركمانستان في إقليمي البلقان وليباب. (راديو أزاتليك – تركمانستان – 2022/02/18م)

التعليق:

بيردي محمدوف، الذي أصبح رئيساً بالنيابة بعد وفاة نيازوف في 21 كانون الأول/ديسمبر 2006، انتخب رئيساً في شباط/فبراير 2007. وفقاً للمراقبين الدوليين، يدير بيردي محمدوف أحد أكثر الأنظمة قمعاً وانغلاقاً في العالم اليوم. في واقع الأمر فإنه يمنع الوصول إلى الإنترنت على أعلى مستوى من أجل عزل الناس عن الأخبار العالمية، ومنع تواصلهم مع بعضهم بعضاً ومنع انتقاد النظام. في الواقع وصلت هذه الممارسة إلى الحد الذي تقوم به الحكومة بجمع أطباق الأقمار الصناعية! ومن أكبر ضغوط هذا النظام أنه لا يسمح باستخدام تعبيرات دينية وسياسية بديلة، ويعاقب بشدة كل من ينتقد النظام. لهذا السبب تعد تركمانستان واحدة من الدول التي يوجد بها أكبر عدد من السجناء السياسيين بين الجمهوريات التركية. بيردي محمدوف الذي أراد ضمان استمرار كل هذه الضغوط ومنع أي انتفاضة أو رد فعل ضد النظام وضع أقاربه وزملاءه في أهم مؤسسات النظام. لهذا السبب يستخدم عنوان "الجبل الخلفي" والذي يعني الحامي.

لكل هذه الأسباب أصبح الشعب المسلم في تركمانستان متردداً في النطق بكلمة واحدة ضد النظام ناهيك عن انتقاده. لكن شعب تركمانستان، خاصة بعد ثورات الربيع العربي كسر قيود الخوف وبدأ يرفع أصواته ضد نظام الدكتاتور بيردي محمدوف ويعبر عن عدم رغبته في أنظمة ديكتاتورية بعد الآن. حتى أثناء انتفاضة كازاخستان، بدأ شعب تركمانستان في دعوة حساباتهم على وسائل التواصل لإظهار دعمهم لإخوانهم المسلمين هناك. علاوة على ذلك بدأوا دعاية مكثفة على وسائل التواصل مفادها أن شعب تركمانستان يجب أن ينهض أيضاً من أجل الإطاحة بهذا النظام الديكتاتوري. ومع ذلك عندما أدرك النظام الدكتاتوري ذلك، تدخل في جميع حسابات وسائل التواصل وحاول منعها. حتى أثناء انتفاضة كازاخستان كان النظام الديكتاتوري الذي كان يخشى خروج الناس إلى الشوارع والتظاهر ضده يريد بث الخوف في قلوب الناس من خلال اعتقال بعض النشطاء المعارضين للنظام سواء في روسيا أو تركيا. في الواقع قام بيردي محمدوف الذي شعر بغضب شعب تركمانستان، خاصة بعد الانتفاضات في كازاخستان بإبلاغ مجلس الشعب للمجلس الوطني بشكل مفاجئ بقرار الانتخابات المبكرة من أجل استغلال هذه المشاعر لدى الشعب ومنعهم من التحول إلى تغيير حقيقي صحيح. وأشار إلى "السماح للشباب في إدارة الدولة" كسبب لإجراء انتخابات مبكرة. بالطبع على الرغم من أن النظام الدكتاتوري استخدم تعبيراً عاماً "الشباب" إلا أنه كان يقصد ابنه سيردار، لأنه أظهره كمرشح رئاسي في الانتخابات. وهكذا بحجة الانتخابات يريد أن يسلم السلطة إلى ابنه لقمع غضب الشعب على النظام ولاستمرار ديكتاتوريته. ومع ذلك لم يعد الشعب المسلم في تركمانستان في موقف يخشى النظام ويفقد الوعي ويخضع لكل أوامره كما ظن بيردي محمدوف. لأنه من بين الناس بدأ الأشخاص اليقظون الذين فهموا تزوير انتخاب بيردي محمدوف في نشر حساباتهم على مواقع التواصل مفادها "لا نريد أن يغادر بيردي محمدوف، ولكن جميع أقاربه، بمن فيهم ابنه، وأن تتخلص البلاد منهم".

يا أهل تركمانستان: بالطبع من الرائع أنكم تعارضون النظام الديكتاتوري وتريدونه أن يتغير. ولكن الطريقة للقيام بذلك ليست بانتخابات ديمقراطية واستبدال الدكتاتور بيردي محمدوف وعائلته وجلب أسرة أخرى. وإنما السبيل للقيام بذلك هو إعادة دولة الخلافة بشكل عاجل والتي مرت 101 عام هجري على هدمها. فالخلافة وحدها هي التي ستقضي على القوى الاستعمارية مصاصي الدماء الذين يطاردون العالم وامتداداتهم الحكام العملاء في البلدان الإسلامية، وهي التي تحل مشاكل الأمة الإسلامية حسب كتاب الله وسنة رسوله ﷺ. لذا لا تنخدعوا بهراء الانتخابات الديمقراطية التي تستخدمها الأنظمة الكافرة كستار للتغطية على خيانتها وقمعها وظلمها، بل أظهروا كل سعيكم وجهودكم لبيعة الخليفة الذي يعاملكم بما يرضي ربكم. إذن هل هي انتخابات ديمقراطية في ظل أنظمة الكفر أم البيعة لخليفة في ظل دولة الخلافة؟ قال الله تعالى: ﴿وَاذْكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاء مِن بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا فَاذْكُرُواْ آلاء اللّهِ وَلاَ تَعْثَوْا فِي الأَرْضِ مُفْسِدِينَ﴾ [الأعراف: 74].

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رمضان أبو فرقان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست