أنتم مخدوعون وتَخدعون
أنتم مخدوعون وتَخدعون

في حين تم تسريع المحادثات حول "منطقة آمنة"، مصممة على التنسيق في شمال سوريا، بين الولايات المتحدة وتركيا، صرح وزير الخارجية مولود جاويش أوغلو بأن "هناك العديد من القضايا التي لم يتم وضعها بعد".

0:00 0:00
Speed:
August 23, 2019

أنتم مخدوعون وتَخدعون

أنتم مخدوعون وتَخدعون

(مترجم)

الخبر:

في حين تم تسريع المحادثات حول "منطقة آمنة"، مصممة على التنسيق في شمال سوريا، بين الولايات المتحدة وتركيا، صرح وزير الخارجية مولود جاويش أوغلو بأن "هناك العديد من القضايا التي لم يتم وضعها بعد".

وقال جاويش أوغلو "لقد وعد الرئيس الأمريكي ترامب بمسافة 20 ميلاً ويجب إزالة وحدات حماية الشعب. هناك الكثير من السوريين وخاصة الأكراد الذين يريدون العودة إلى تلك المنطقة. ما نقوله هو أن تكتيك أمريكا المماطل لن يطبق. استخدموا مثل هذا التكتيك المماطل في منبج وللأسف لم يفوا بوعودهم". (بي بي سي نيوز، 2019/08/15م)

التعليق:

الصداقة مع أمريكا لا تجعلك تخسر الآخرة فحسب، بل تسمم حياتك الدنيا أيضاً. قد يبدو عدد من الفتات ذا أهمية كبيرة لك على المدى القصير. ولكن مع مرور الوقت، فإن التكاليف التي يتعين عليك دفعها تبلغ ضعف هذا الفتات، مما يؤدي إلى ضلال بوصلتك. إذا كنت قد ابتعدت في سياستك عن المحور الذي حدده الكفار، واتبعت أوامر ربك، ستجعل أولئك الذين اتبعتهم خدماً لك. وهكذا، ستصل إلى رضا الله كونك حاميا للمسلمين، وشديدا على غير المؤمنين الذين يذلونهم. للأسف، فإن الحقيقة هي أن الحكام بعيدون عن إدراك ذلك، فهم يقودون المسلمين ويتسببون في استمرار هيمنة الكفار علينا.

يشار بوضوح إلى مستوى الإذلال من خلال حقيقة أن حكام تركيا، الذين لا يستطيعون الخروج بوصة واحدة عن السياسات الأمريكية في السياسة الخارجية، لا يزالون يسعون جاهدين لحل القضايا حتى داخل حدودهم الخاصة وفقاً لخريطة الطريق التي حددتها أمريكا. هؤلاء الحكام يدعون أنهم صانعو ألعاب في كل فرصة، على الرغم من أنهم كانوا البيادق في كل لعبة. وإن الحفاظ على سياسة التعاون مع أمريكا، على الرغم من الاعترافات، مثل "الولايات المتحدة ماطلت في منبج، وعدنا ترامب، أو خاننا"، هي سياسة تفتقر إلى أي تفسير وأساس منطقي.

لا توجد وسيلة لا تستفيد أمريكا بها لمصلحتها الخاصة. وعلى النهج نفسه، لا يوجد بلد لن يضحي من أجل مصلحته. منذ الأيام الأولى للحرب السورية، بنت أمريكا سياساتها تجاه الحفاظ على النظام، ودمجت جميع القوى تجاه هذه السياسة. تماماً كما ساهمت في سقوط حلب من خلال عملياتها الإرهابية المزعومة في أعقاب وعود أمريكا، يجب أن تدرك تركيا أنها ستكون وسيطاً في القيام باضطهاد وتدمير ومذابح جديدة في هذه اللعبة؛ المنطقة الآمنة المزعومة. في الواقع، فإن أجندة المنطقة الآمنة على طول الحدود من اللاذقية إلى قيصري تشير إلى بدء عملية إدلب، وهو ما يتضح بوضوح من حقيقة أن النظام وإيران والقوات الروسية تطوق إدلب خطوة بخطوة من خلال اختراق مناطق وقف إطلاق النار المعروفة. خدع مسؤولو الحكومة التركية الجمهور التركي من خلال كلمات ملحمية، مثل تنظيف شرق الفرات من الإرهاب، وبيانات حول الأعماق والأطوال والدوريات المشتركة، من أجل إخفاء نيتهم ​​الحقيقية، وهي تسليم إدلب لسيطرة النظام. ستكون موجة الهجرة الضخمة حتمية مع بدء العملية في إدلب، التي يسكنها حوالي 4 ملايين مسلم. قلق تركيا الوحيد حالياً هو الفيضان الجديد الوشيك للمهاجرين. الجدار المبني على طول الحدود، فضلاً عن نقاط المراقبة التي أقيمت حول إدلب، ليس لها أي وظيفة سوى توفير المعلومات الاستخباراتية للنظام. كان الهدف من اجتماعات أستانة هو إحاطة المعارضين تدريجيا في إدلب وضواحيها. والآن، الجزء الأخير من الخطة هو إنهاء مشكلة إدلب باستخدام المنطقة الآمنة. الحقيقة أن جميع الكفار يتفقون على خطة المنطقة الآمنة، ويذكرنا هذا بقوله تعالى: ﴿اَلَّذ۪ينَ اٰمَنُوا يُقَاتِلُونَ ف۪ي سَب۪يلِ اللّٰهِ وَالَّذ۪ينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ ف۪ي سَب۪يلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُٓوا اَوْلِيَٓاءَ الشَّيْطَانِ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَع۪يفاً﴾. [النساء: 76]

تريد أمريكا ضمان سلامة الجزء الشرقي من الفرات نيابة عن وحدات حماية الشعب من خلال عملية المنطقة الآمنة. في الوقت نفسه، فإنها تريد تمهيد الطريق لعملية ضدهم من خلال توزيع سكان إدلب عبر مناطق مختلفة في أعماق وأطوال مختلفة. علاوة على ذلك؛ تصريح وزير الخارجية جاويش أوغلو خلال عملية إنشاء المنطقة الآمنة، بأن "هناك سوريين يريدون العودة" إلى هذه المناطق، يكشف عن نية أخرى، وهي احتمال إرسال جزء من المهاجرين إلى هذه المناطق الآمنة المزعومة، نتيجة لفشل الحكومة في الانتخابات الأخيرة، وتدهور الاقتصاد، وخلق الرأي العام السلبي تجاه السوريين. في الواقع؛ سياسة الترحيل الأخيرة للحكومة تجاه اللاجئين السوريين تثبت أن هذه العملية جزء من هذه السياسة.

أولئك الذين يستخدمون عقولهم والقادرون على التفكير، عليهم أن يعرفوا أنهم لا يستطيعون تكوين صداقات مع الكافرين، لأنهم أصدقاء لبعضهم: ﴿وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَٓاءَهُمْ بَعْدَ الَّذ۪ي جَٓاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَص۪يرٍ﴾. [البقرة: 120]

يرى كل شخص عاقل أن الكفار يدمرون المناطق التي يدخلونها ويذبحون وينهبون ويستغلون تلك المنطقة ويجعلونها غير آمنة. على الرغم من هذه الحقيقة، فإن حكامنا، الذين هم أصدقاء لهؤلاء الكافرين، غير قادرين على تذكر الماضي. في حين إن مذابح هؤلاء الكفار مستمرة في العراق وأفغانستان وليبيا والشيشان، فإن الحديث عن المنطقة الآمنة ليس سوى مرض عقلي.

أصبح كل من الخداع والانخداع عادةً لحكامنا. ألا تعتقدون ذلك؟

بالتأكيد، سيحقق هذا الشعب نظاماً له حاكم يستخدم عقله وفقاً لأحكام الإسلام. وفي ذلك اليوم سيعاني الكفار من الخوف والهزيمة، بينما يفرح المسلمون والمظلومون بالسلامة والنصر.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست