انتشار المخدّرات أحد إفرازات الاحتلال والنظام القائم
انتشار المخدّرات أحد إفرازات الاحتلال والنظام القائم

الخبر:   أعلن رئيس المركز الاستراتيجي لحقوق الإنسان في العراق، فاضل الغراوي، عن إلقاء القبض على 38 ألف تاجر مخدرات وحائز لها في العراق خلال ثلاث سنوات، مبينا أن عام 2022 شهد القبض على 17 ألف تاجر وحائز مخدرات منهم 123 أجنبي، وبلغت كمية المواد المضبوطة نصف طن من المخدرات بكافة أنواعها، 18 مليون حبة مخدرة. ...

0:00 0:00
Speed:
July 02, 2024

انتشار المخدّرات أحد إفرازات الاحتلال والنظام القائم

انتشار المخدّرات أحد إفرازات الاحتلال والنظام القائم

الخبر:

أعلن رئيس المركز الاستراتيجي لحقوق الإنسان في العراق، فاضل الغراوي، عن إلقاء القبض على 38 ألف تاجر مخدرات وحائز لها في العراق خلال ثلاث سنوات، مبينا أن عام 2022 شهد القبض على 17 ألف تاجر وحائز مخدرات منهم 123 أجنبي، وبلغت كمية المواد المضبوطة نصف طن من المخدرات بكافة أنواعها، 18 مليون حبة مخدرة.

وأضاف أن "عام 2023 شهد القبض على 7 آلاف تاجر وحائز مخدرات وضبط 12 طنا من المخدرات والمؤثرات العقلية" مشيرا إلى أنه "وفي عام 2024 شهد القبض على 7000 تاجر وحائز مخدرات، وضبط 12 طنا من المخدرات والمؤثرات العقلية".

ودعا الغراوي "الحكومة إلى اعتماد يوم 26 حزيران من كل عام اليوم الوطني للوقاية من خطر المخدرات، كما طالب برفع مستوى المديرية العامة لشؤون المخدرات إلى مستوى وكالة وربطها بوزير الداخلية، وإطلاق حملة وطنية للوقاية من خطر المخدرات، وتعزيز التعاون الدولي في مكافحتها وتعديل قانون المخدرات بما يضمن تشديد الأحكام ضد تجار المخدرات وإنشاء مصحات لتأهيل المدمنين عن طريق الاستثمار". (الفرات نيوز، 2024/06/26)

التعليق:

لم يعهد العراق من قبل هذه الإحصائيات الخطيرة والانتشار الواسع للمخدرات وتجارتها، ولم نكن نسمع عن تفشي ظاهرة تعاطي المخدرات بين الشباب في الشوارع والأزقّة بهذا الشكل المُفزِع، إذ بات الجيل الناشئ في خطر داهم نتيجة انتشار المنكرات وسهولة تداولها في البلد.

وليس هذا غريباً على بلد تعرّض لاحتلال غاشم أفرز العديد من المصائب والمُنكرات، وفتح الباب على مصراعيه للفساد والمُفسدين، ولا يُعدُّ انتشار المخدّرات والمُسكرات بشكل واسع إلا صورة من صور إفرازات الاحتلال. ولا يخفى أنّ تجارة المخدرات في العراق اليوم مدعومة من مُتنفّذين وجهات محليّة وأجنبية لها نفوذ واسع في البلاد، بعد أن أطلق الاحتلال أيدي هؤلاء المتنفذين ليعيثوا في الأرض فساداً.

وتكشف لنا الحلول المطروحة والإجراءات المتخذة من المسؤولين الحكوميين مدى سطحيتهم وعدم جدّيتهم في التعامل مع قضايا خطيرةٍ كهذه، فمن ذلك إقامة احتفال باسم مكافحة المخدرات، أو اتخاذ يوم وطني لمكافحة المخدرات! ونسمع عن حملات اعتقال بين الفينة والأخرى لمجموعة من المروّجين أو المتعاطين للمخدرات، بينما هناك أضعاف هذه الأعداد تنتشر في البلاد، فأنّى لهذه الحلول أن ترى نجاحاً؟!

لقد حرّم الله سبحانه وتعالى كل الخبائث، ولا شك أن المخدرات هي من الخبائث والمفسدات، ومن مزيلات العقل التي نهى عنها الله سبحانه ورسوله الكريم ﷺ؛ وقد وضح ذلك علماء المسلمين، قديماً وحديثاً؛ حيث حرم الإسلام المخدرات، بأنواعها المختلفة، من حشيش وأفيون وكوكايين وحبوب، إلى غير ذلك من الأنواع المخدرة، التي تفقد الوعي، وتغيب العقل؛ لأنها تتعارض مع أحكام الإسلام، وتجدر الإشارة إلى أن هذه الأحكام والتشريعات معلومة لدى كثير من الناس ولكنها غائبة عن التطبيق العملي في الحياة لغياب السلطان الذي يجعلها موضع التنفيذ.

ومن هنا تظهر أهمية وجود دولة الإسلام؛ الخلافة، لحماية العقول وشباب الأمة، فبإيجاد الخلافة تشيع في المسلمين أحكام الفضيلة والعفة، ولكن إلى أن تقام يجب أن نسعى للعمل لها، كما يجب علينا نحن معشر المسلمين أن نعمل بالآتي:

أولاً: إشاعة قيمة التقيد بالحكم الشرعي فيما يُشرب أو يؤكل وكل مال يكتسب أو ينفق، وهذا في المجتمع وأفراده.

ثانياً: الأمر بالمعروف وعدم خرس اللسان أمام كل فعل فاضح لا أخلاقي يشيع الفاحشة والرذيلة، والعمل على فضحه وكشفه وتوصيله إلى الرأي العام ومتابعته حتى ينال من يروج له عقابه الرادع، وهو من باب إنكار المنكر.

ثالثاً: الضرب بيد من حديد على كل مسؤول له باع في انتشار المخدرات أو يعمل على التستر على من له علاقة بها وكشفه وفضحه للرأي العام حتى يردع مجتمعيا وملاحقتهم قانونيا.

قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ * إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُون﴾. لقد نصت الآيتان على تحريم الخمر، وهو كل ما يخامر العقل، ويحول بينه وبين معرفته الأشياء على حقيقتها. ولما كانت المخدرات تشترك مع المسكرات، في كونها تخدر الجسم، وتغطي العقل، وتصرفه عن حالته الطبيعية؛ فإنها محرمة أيضاً، بالقياس على علة التحريم.

إن حكم المخدرات قد ورد في السنة المطهرة فقد قال رسول الله ﷺ: «مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ، فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ». فقد عدّ النبي ﷺ، كل مسكر خمراً، سواء سميت بذلك، في لغة العرب، أو لم تسم به. وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي ﷺ أنه قال: «كُلُّ مُخَمِّرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» (رواه أبو داود). والخمر يغطي العقل، وقد جمع الرسول؛ بما أوتي من جوامع الكلم، كل ما غطى العقل، وأسكر، ولم يفرق بين نوع ونوع. ولا عبرة في كونه مأكولاً أو مشروباً.

وعليه فالواجب علينا أن نعمل، بوصفنا مسلمين، لاستئناف الحياة الإسلامية في دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، ولمثل هذا فليعمل العاملون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

بلال زكريا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست