انتشار وباء الكوليرا في اليمن  هو نتيجة لحصار الأمم المتحدة والتحالف الأمريكي ــ العربي العسكري عليها  (مترجم)
انتشار وباء الكوليرا في اليمن  هو نتيجة لحصار الأمم المتحدة والتحالف الأمريكي ــ العربي العسكري عليها  (مترجم)

الخبر: من المحتمل إصابة ما يقارب 300.000 شخص في اليمن بوباء الكوليرا خلال الستة أشهر القادمة ومن المتوقع سقوط عدد "مرتفع جدا" من القتلى، حسب ما أعلنته منظمة الصحة العالمية يوم الجمعة. "علينا أن نتوقع أن يُصاب ما يزيد عن 200.000 ــ 250.000 حالة خلال الستة أشهر القادمة، هذا بالإضافة إلى 50.000 حالة وقعت بالفعل"، حسب قول نيفيو زاغاريا. حيث أخبر جينيفا، المتحدث الرسمي لمنظمة الصحة الإعلامية في اليمن الصحفيين خلال مقابلة هاتفية، أن الثمن في الأرواح سيكون "باهظا جدا جدا". ولقد بدأ انتشار الوباء في تشرين الأول/أكتوبر 2016 واستمر بالزيادة حتى كانون الأول/ديسمبر. بعد ذلك تناقصت أعداد الإصابات إلا أنها لم تكن تحت السيطرة أبدا، حسب قول زاغاريا، بعد ذلك بدأت إصابة حالات جديدة مع الموسم الماطر، وقد أدى انهيار الاقتصاد والنظام الصحي إلى زيادة المشكلة سوءا.

0:00 0:00
Speed:
May 24, 2017

انتشار وباء الكوليرا في اليمن هو نتيجة لحصار الأمم المتحدة والتحالف الأمريكي ــ العربي العسكري عليها (مترجم)

 انتشار وباء الكوليرا في اليمن

هو نتيجة لحصار الأمم المتحدة والتحالف الأمريكي ــ العربي العسكري عليها

(مترجم)

الخبر:

من المحتمل إصابة ما يقارب 300.000 شخص في اليمن بوباء الكوليرا خلال الستة أشهر القادمة ومن المتوقع سقوط عدد "مرتفع جدا" من القتلى، حسب ما أعلنته منظمة الصحة العالمية يوم الجمعة.

"علينا أن نتوقع أن يُصاب ما يزيد عن 200.000 ــ 250.000 حالة خلال الستة أشهر القادمة، هذا بالإضافة إلى 50.000 حالة وقعت بالفعل"، حسب قول نيفيو زاغاريا.

حيث أخبر جينيفا، المتحدث الرسمي لمنظمة الصحة الإعلامية في اليمن الصحفيين خلال مقابلة هاتفية، أن الثمن في الأرواح سيكون "باهظا جدا جدا". ولقد بدأ انتشار الوباء في تشرين الأول/أكتوبر 2016 واستمر بالزيادة حتى كانون الأول/ديسمبر. بعد ذلك تناقصت أعداد الإصابات إلا أنها لم تكن تحت السيطرة أبدا، حسب قول زاغاريا، بعد ذلك بدأت إصابة حالات جديدة مع الموسم الماطر، وقد أدى انهيار الاقتصاد والنظام الصحي إلى زيادة المشكلة سوءا. كما قال أيضا إن الوباء أدى إلى إصابة 23،425 حالة في 18 محافظة من أصل 23 منذ 27 نيسان/أبريل، ووفاة 242 شخصا. ولقد تم إساءة تقدير سوء الوضع حيث توقع وفاة 1% من المصابين، بينما الواقع أسوأ من هذا، حيث إن معدل الوفاة بين المصابين يتراوح بين 4 - 5%، حيث بيّن أن هذه الإحصاءات الأخيرة أصابت خبراء الصحة بالذهول. "إن معدل انتشار وباء الكوليرا لا مثيل له أبدا (لليمن)". (المصدر: رويترز)

التعليق:

إن المسلمين في اليمن خلال السنتين الأخيرتين واجهوا المزيد من المآسي والصعوبات منذ بدء العملية العسكرية للتحالف العربي ــ الأمريكي تحت قيادة السعودية. إن هذه الحملة تدعي أنها تهدف لحماية اليمن وشعبه من الاضطهاد الحوثي المستمر الذي يهدد أمن المنطقة والسلام والأمن العالمي ولمساعدة اليمن في مواجهة "المنظمات الإرهابية"! وفي الوقت الذي يخاطب فيه ترامب الأنظمة المنقادة لأمريكا في قمة الرياض، وكلهم جالسون جاهزون لتلقي آخر الأوامر، فإن نساء وأطفال المسلمين في اليمن يعانون من اتفاقياتهم الشريرة الخبيثة.

إن وباء الكوليرا حاليا أصاب حوالي ربع مليون رجل وامرأة وطفل، وفي الظروف العادية فإنه مرض يمكن تفاديه بكل سهولة. وقد قامت المصانع الملامة بصنع هذا الوباء كما أعلن مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة وقراره رقم 2216 والذي تبناه في نيسان/أبريل 2015. فبينما أعلن هذا القرار الصادر عن الأمم المتحدة بفرض حصار جوي وبحري عسكري لمنع "المساعدات المباشرة أو غير المباشرة، أو البيع أو النقل، لصالح علي عبد الله صالح أو عبد الله يحيى الحكيم أو عبد الخالق الحوثي"، فإنه لم يسبب الأذى سوى لمسلمي اليمن. فهذا الحصار المجرم وحظر توريد الأسلحة الذي فرضته الأمم المتحدة يفرض معاينة كل الحمولات التي تدخل إلى اليمن برًا أو بحرًا أو جوًا والذي تنفذه السعودية. إن هذا الحصار المفروض من الأمم المتحدة والسعودية هو ما يساهم مباشرة في زيادة انتشار الوباء بسبب القيود المفروضة التي شوشت على استيراد وتصدير الغذاء والوقود والإمدادات الطبية. فاليمن تعتمد 80 ــ 90% على الغذاء والأدوية والوقود المستورد لتتمكن من النجاة. وتستغل السعودية وبكل إجرام اعتماد اليمن على الاستيراد كاستراتيجية حربية، تهدف إلى إحداث المزيد من المعاناة وبالتالي إخضاع اليمن لها. إنه هذا النوع من العقاب الجماعي الذي يفرض على المسلمين بما فيهم الأطفال الأقل من عمر 5 سنوات والذين يموت واحد منهم كل 10 دقائق أو 144 طفلاً كل يوم بسبب أمراض يمكن الوقاية منها كالكوليرا. فهل يثير الدهشة أن 10 مليون طفل، أو 80% من مجموع أطفال اليمن، بحاجة ماسة إلى مساعدات إنسانية، حيث يعاني 460.000 طفل من سوء التغذية الحاد منذ بدء الحصار، مما أدى إلى نقص حاد يصل إلى خمسين بالمئة في استيراد الغذاء والدواء والوقود في عام 2015 وحده؟! إن قرار الأمم المتحدة المفروض قد مكّن الاتحاد السعودي من وقف السفن تحت ذريعة تفتيش الحمولة بأكملها، مما أدى إلى تأخير دخولها لعدة أيام، أو أسابيع، أو حتى أشهر بحجة البحث عن أسلحة والتي سببت تأخيرات متعمدة ومطولة أدت في بعض الحالات إلى منع دخوله بعض الحاويات إلى الموانئ اليمنية.

كما أنه يجب لوم العمليات العسكرية العربية المستمرة حيث تعرضت العديد من المراكز الطبية إلى ضربات جوية مما أدى إلى تدمير المستشفيات بما فيها من مخزون للأدوية أو معدات وأجهزة طبية. وأيضا فإن القصف المستمر والمتبادل بين جهتي الصراع سبب نقص الموارد الطبية والأدوية، إضافة إلى انقطاع الكهرباء والوقود اللازم للمولدات، ما أدى إلى عجز في قطاع الخدمات الصحية في الدولة. والأنظمة الصحية في اليمن نتيجة لذلك بالكاد تعمل، والمستشفيات مكتظة بمصابين إلى درجة أن بعض المراكز تجد فيها المرضى يجلسون في الممرات وإبر الوريد في أيديهم، وبعضهم يأخذونها في سياراتهم.

إن المعاناة التي يعانيها المسلمون اليوم هي نتيجة لغياب الإسلام ودولته، دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، والتي تضمن لنا توفر مصادر الصحة الإنسانية، والبنية التحتية الصحية السليمة، وإمكانية الوصول الملائمة. كل هذا لأن الصحة العامة هي واحدة من الحاجات الأساسية للمجتمع. ولقول رسول الله e: «الإمام راع، ومسؤول عن رعيته» (البخاري)

ولهذا، فإن حل مشاكل المسلمين في اليمن هو بالتطبيق الكامل لنظام الإسلام، والذي يضمن تأمين الحماية الكاملة لنساء ورجال وأطفال اليمن.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثريا أمل يسنى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست