عقوبات أمريكا الرمزية
عقوبات أمريكا الرمزية

الخبر:   بعد أن قامت أمريكا باتخاذ قرار بتنفيذ عقوبات على كل من وزير العدالة عبد الحميد غل ووزير الداخلية سليمان صويلو جرت اليوم محادثات حرجة ومتوترة، حيث صرح الوزير جاويش أوغلو بعدها قائلا: "لقد تمنينا حل المسألة بالتفاهم والاتفاق المتبادل. وقلنا إن لغة التهديد والعقوبات لن تؤدي إلى نتيجة" (2018/8/3 مليات)

0:00 0:00
Speed:
August 05, 2018

عقوبات أمريكا الرمزية

عقوبات أمريكا الرمزية

الخبر:

بعد أن قامت أمريكا باتخاذ قرار بتنفيذ عقوبات على كل من وزير العدالة عبد الحميد غل ووزير الداخلية سليمان صويلو جرت اليوم محادثات حرجة ومتوترة، حيث صرح الوزير جاويش أوغلو بعدها قائلا: "لقد تمنينا حل المسألة بالتفاهم والاتفاق المتبادل. وقلنا إن لغة التهديد والعقوبات لن تؤدي إلى نتيجة" (2018/8/3 مليات)

التعليق:

تشهد تركيا حاليا أكثر الأحداث سخونة ألا وهو موضوع القسيس برونسون الذي اعتقل في 9 كانون الأول 2016 بسبب تورطه بمحاولة الانقلاب والتجسس ثم زج به في السجن، والذي أطلق سراحه في 25 تموز 2018 وتم وضعه تحت الإقامة الجبرية شريطة أن يكون تحت السيطرة القضائية، والذي بسببه تعرضت تركيا، وبتعبير أدق تعرض كل من وزير العدل غل ووزير الداخلية صويلو لعقوبات أمريكا. لقد أصبحت العقوبات الرمزية والمصطنعة التي تمارسها أمريكا على دبلوماسيين أتراك رفيعي المستوى حديث الساعة وشغل السياسيين الشاغل فضلا عن الأحزاب والكُتاب. فبالإضافة إلى حزب العدالة والتنمية وحزب الحركة القومية وفي بيان مشترك، فقد أعلن كذلك كل من حزب الشعب الجمهوري وحزب جيد عن مشروعي الرد بالمثل. وفي تصريح أدلت به كذلك وزارة الخارجية التركية أعربت فيه عن الرد بالمثل على أمريكا! وأنها ستجابه بالرد على أي فعل تقوم به.

إن معظم المحررين الأتراك إن لم يكن كلهم يربطون موضوع العقوبات الأمريكية القذر على غل وصويلو بالانتخابات المحلية التي ستجري هناك في شهر تشرين الثاني المقبل أو بالتيارات السياسية في تركيا. إن هذين التعليقين يستندان إلى الفهم الذي فحواه أن تركيا تتصرف بشكل مستقل عن أمريكا وأن موضوع القسيس برونسون يتم استغلاله من قبل الجمهوريين في السياسة الداخلية. وهذه هي عملية السيطرة على العقول وتوجيهها. علما أنه من غير الوارد تحت الظروف الحالية أن تقوم تركيا بتبني سياسة مستقلة عن أمريكا.

كلنا يذكر كيف أطلقت السلطات التركية في ليلة واحدة سراح الصحفي دنيز يوجل الذي أعلنت عنه أنه إرهابي بسبب الضغوط التي مارستها ألمانيا. ولهذا السبب فإنه من غير المستغرب أن يتم أيضا إطلاق سراح القسيس برونسون بسبب الضغوط التي ستمارسها أمريكا عندما تتوفر الظروف المناسبة لذلك.

ترى هل العقوبات الأمريكية مسألة داخلية أم إنها مرتبطة بالتيارات السياسية في تركيا؟ هذا من المستحيل. إذ إن تحليلا كهذا يبعد الأذهان عن الحقائق ويوهم الرأي العام التركي من خلال إفهامه أن تركيا تتبع سياسة مستقلة عن أمريكا.

إن الحقيقة تكمن في أن العقوبات الأمريكية ما هي إلا وسيلة للضغط على الرأي العام لكي يتم إطلاق سراح القسيس برونسون، فقد أجرى ترامب لقاء مع أردوغان في قمة الناتو في بروكسل في 11 تموز الماضي. وبعد هذا اللقاء أي في 15 تموز أطلق سراح إبرو أوزجان من كيان يهود. وبعد ذلك بفترة قصيرة أطلق سراح القسيس برونسون ووضع تحت الإقامة الجبرية، وبموجب المقالة التي نشرت في صحيفة الواشنطن بوست فإن هناك عملية تبادل حصلت بهذا الشأن. حيث تدعي الصحيفة أن ثمة اتفاقاً حصل بين أردوغان وترامب خلال المحادثات التي جرت بينهما أثناء قمة الناتو يقوم كيان يهود بإطلاق سراح إبرو أوزجان مقابل إطلاق سراح برونسون.

وبموجب هذا التبادل قامت أمريكا باتخاذ قرار رمزي للعقوبات الذي لا يقتضي أي تداعيات على أرض الواقع، والغرض منه تشكيل ضغط على الرأي العام التركي يؤدي إلى إطلاق سراح القسيس برونسون. إذ من غير المعقول أن يجهل متخذو هذا القرار بحق الوزيرين عدم جديته في أمريكا وأنه لا يسمن ولا يغني من جوع!

وبعيدا عن عملية التبادل هل يمكن أن تقوم تركيا بِردٍّ مماثل على العقوبات الرمزية الأمريكية؟ بالطبع كلا، إذ إن الخطوات التي ستتبعها السلطات التركية لن تخرج عن الخطوات التي اتبعتها أمريكا في فرض عقوبات رمزية لغرض تضليل الرأي العام ليس إلا. وما استمرار المحادثات بين كل من وزيري الخارجية التركي مولود جاويش أوغلو والأمريكي مايك بومبيو من جهة وكذلك استمرار المحادثات بين الناطق الرسمي لرئيس الجمهورية التركية إبراهيم قالن ومستشار الأمن القومي الأمريكي جون بولتون من جهة أخرى إلا أكبر دليل على ذلك. فلو كانت لتركيا إرادة في اتخاذ قرار بالعقوبات لطالبت بإعادة فتح الله غولن الذي يتهمونه منذ ثلاث سنوات بتواطئه في الانقلاب ولاستنفدت كل الخيارات العسكرية منها والاقتصادية من أجل استرجاع من تتهمه بـ"الإرهاب". ولهذا السبب يمكننا القول بأن تركيا تفتقر إلى الإرادة والدراية اللازمة في مجابهة أمريكا.

وكذلك بالنسبة لأمريكا فإنها لو كانت جادة في قرارها بتنفيذ العقوبات لقامت بتجميد الأموال المنقولة لمن يمتلكها في أمريكا وعلى رأسهم أردوغان الذي يمثل رأس الدولة أو تجميد أموال الشركات التي لديها تعامل تجاري مع أمريكا. وهذا يبين أن المشاحنة بين الطرفين مصطنعة ليس إلا. فهي عبارة عن حيلة لتضليل الرأي العام التركي لغرض إطلاق سراح القسيس برونسون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إرجان تكين باش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست