أردوغان "الإسلامي" خسر في الانتخابات الرئاسية أمام أردوغان الديمقراطي
أردوغان "الإسلامي" خسر في الانتخابات الرئاسية أمام أردوغان الديمقراطي

  الخبر: أظهر أهل تركيا في انتخابات 28 أيار/مايو الإرادة والتصميم لدعم المسار من أجل مزيد من التنمية في البلاد. صرّح بذلك أردوغان، مخاطباً الذين تجمعوا مساء الاثنين في المجمع الرئاسي في أنقرة، حسبما ذكر موقع وكالة أنباء الأناضول. وشكر أردوغان جميع الناخبين على مشاركتهم الفعّالة في عملية التصويت بغضّ النظر عن الخيار السياسي. وقال "لسنا الوحيدين الذين انتصروا، فازت تركيا، وفازت الديمقراطية"!

0:00 0:00
Speed:
June 16, 2023

أردوغان "الإسلامي" خسر في الانتخابات الرئاسية أمام أردوغان الديمقراطي

أردوغان "الإسلامي" خسر في الانتخابات الرئاسية أمام أردوغان الديمقراطي

(مترجم)

الخبر:

أظهر أهل تركيا في انتخابات 28 أيار/مايو الإرادة والتصميم لدعم المسار من أجل مزيد من التنمية في البلاد. صرّح بذلك أردوغان، مخاطباً الذين تجمعوا مساء الاثنين في المجمع الرئاسي في أنقرة، حسبما ذكر موقع وكالة أنباء الأناضول.

وشكر أردوغان جميع الناخبين على مشاركتهم الفعّالة في عملية التصويت بغضّ النظر عن الخيار السياسي. وقال "لسنا الوحيدين الذين انتصروا، فازت تركيا، وفازت الديمقراطية"!

وأشار إلى ذلك منذ عهد رئيس الوزراء السابق عدنان مندريس في الخمسينات. على طريق التنمية في تركيا، ظهرت مشاكل بشكل دوري لإضعاف البلاد.

"اليوم نعلن عن بدء عملية تسمح لنا بتحقيق الأهداف التي أعلنها الرئيس السابق تورغوت أوزال ورئيس الوزراء السابق نجم الدين أربكان".

وأكدّ أنّه في ضوء استكمال العملية الانتخابية في تركيا، تعتزم السلطات تركيز كل وقتها وطاقتها على المساهمة في تنمية البلاد. وقال: "أنا متأكد من أننا سنطبق أيضاً مفهوم الذكرى المئوية لتركيا بدعم الشعب".

كما لفت الانتباه إلى الوضع في سوريا المجاورة. وقال إن ما يصل إلى 600 ألف لاجئ عادوا طواعية من تركيا إلى المناطق الأمنية على الأراضي السورية حتى الآن. ونقلت الوكالة عنه قوله "بفضل المشروع التركي القطري المشترك لبناء منازل على الأراضي السورية، نخطط لإعادة مليون لاجئ آخرين إلى سوريا".

التعليق:

على الرّغم من تقدُم ضئيل على مرشّح المعارضة وجولة ثانية من الانتخابات، فإنّ هزيمة أردوغان كانت غير مرجّحة. كانت المؤامرة الوحيدة هي كيف سيتمكن من الفوز في الانتخابات مرةً أخرى والاحتفاظ بسلطته، وتولي الرئاسة للمرّة الثالثة. بعد كل شيء، وصل إلى المرحلة الأخيرة من الحملة الانتخابية مع انخفاض كبير في تقييمه على خلفية الأزمة الاقتصادية العميقة والعواقب المأساوية لزلزال شباط/فبراير المدمر في تركيا.

فقط صالح أمريكا يساعد أردوغان، الذي أطلقت عليه الصحافة الأوروبية "غير قابل للغرق" و"غير قابل للتدمير"، ليبقى واقفاً على قدميه. منذ منتصف القرن الماضي، عملت أمريكا بجد لتثقيف وتقوية رجالها في تركيا. منذ الانتصار الانتخابي للحزب الديمقراطي عام 1950، حاولت أمريكا عدة مرّات جلب رجالها إلى السلطة في تركيا. ومع ذلك، نتيجة لعدة انقلابات عسكرية، اختلطوا، وأُعدم بعضهم، واضّطرت إلى إعادة بناء كل شيء. هذا ما قصده أردوغان عندما قال ذلك "منذ عهد رئيس الوزراء السابق عدنان مندريس في الخمسينات. تشكلت بشكل دوري مشاكل على مسار التنمية في تركيا".

أدركت أمريكا أن بإمكانها تقوية نفوذها بتأييد رجالها الناخبين من المسلمين، الذين لا يزال حبّ الإسلام حياً في قلوبهم. منذ سبعينات القرن الماضي، قامت أمريكا بتنشيط السياسيين والجماعات التي استخدمت الخطاب والشعارات الإسلامية لأغراض شعبوية. بدأ السياسيون المؤيدون لأمريكا يختبئون وراء الإسلام، على عكس الموالين لبريطانيا، الذين دافعوا علانيةً عن العلمانية وكانوا على عداوة مع الإسلام.

في تركيا، على عكس البلدان الإسلامية الأخرى، التي تمّ إعلان بعضها جمهوريات إسلامية، استخدمت أمريكا ما يسمى الإسلام السياسي - مؤسّسه نجم الدين أربكان، ذكره أردوغان. وبالتطفل على الإسلام واستخدامه كنقطة انطلاق، بحلول نهاية التسعينيات من القرن الماضي، تمكّن رجال أمريكا في النهاية من إحكام قبضتهم على السلطة. ومع وصول حزب العدالة والتنمية برئاسة أردوغان إلى السلطة، انتقلت تركيا أخيراً إلى فلك النفوذ الأمريكي، وأصبحت إحدى الأدوات الرئيسية لتنفيذ وحماية مصالحها، سواء في مناطق الشرق الأوسط أو في أفريقيا، وفي القوقاز وآسيا الوسطى.

يريد أردوغان إنهاء أي مقاومة داخلية، ويدعو إلى الالتفاف حول شعار "الذكرى المئوية لتركيا" الذي اخترعه، دون أن ينسى الإشادة بالديمقراطية. وقال في حديث لمؤيديه في إسطنبول: "أودّ أن أعبر عن امتنان دولتي لمنحنا عطلة ديمقراطية". ونقلت دويتشه فيله قوله "أود أن أشكر جميع ممثلي أمتنا، دون استثناء، الذين عهدوا إلينا مرةً أخرى بمسؤولية إدارة البلاد على مدى السنوات الخمس المقبلة، على الاختيار الذي قاموا به".

إنه يتحدث بهذا النفس طوال الوقت، كما هو الحال بعد فوزه الأول في الانتخابات الرئاسية عام 2014، عندما قال: "أشكر الأمة لتعييني الرئيس الثاني عشر لجمهورية تركيا. لن أكون رئيساً لمن صوتوا لي فحسب، بل سأكون رئيساً لـ77 مليوناً. اليوم انتصرت إرادة الشعب مرة أخرى، واليوم انتصرت الديمقراطية مرةً أخرى. أولئك الذين لم يصوتوا لي حققوا نفس مؤيديّ. أولئك الذين لا يحبونني فازوا بنفس الانتصار مثل الذين يحبونني".

كلمات أردوغان "انتصرت تركيا، وانتصرت الديمقراطية" ليست شيئا جديدا، فقد أكد مراراً التزامه بالديمقراطية. مثلا، أثناء رده لاتهامات السياسيين الأوروبيين والمعارضة الداخلية للاستبداد والديكتاتورية، بعد حملة قمع محاولة الانقلاب العسكري الفاشلة عام 2016، وصف نفسه بأنه "ديمقراطي محافظ".

وللحفاظ على السلطة بين يديه، يضطر أردوغان لإثبات أنه ليس أقل قومية من خصومه. والآن نرى كيف دعا المرشّح من تحالف الأجداد القومي المتطرف، سنان أوغان، الذي حصل على 5٪ من الأصوات في الجولة الأولى، أنصاره للتصويت لأردوغان، والذي نال لقب "صانع الملوك" في وسائل الإعلام. منذ ذلك الحين، وبفضل أصوات ناخبيه، كان أردوغان بالكاد قادراً على انتزاع النصر من أيدي منافسه كمال كليجدار أوغلو، الذي وعد بطرد اللاجئين السوريين إذا فاز، والتسامح عن القروض وبث مباريات الدوري الوطني لكرة القدم مجاناً.

وفقاً لديفيد هيرست، رئيس تحرير موقع ميدل إيست آي الإخباري الإنجليزي: "حملة كليجدار تخشى ليس مجرد كلام. يبدو أن إلقاء اللوم على الضحايا في الكارثة التي ولّدتهم هو سمة من سمات المنطق القومي". لكن أردوغان لم يخجل حتى خصمه، بل، كما يقولون، لعب في ميدانه، مستغلاً حملة الخوف ذاتها التي أشعلها الكماليون. بعبارات أكثر اعتدالاً، يعد أيضاً بحل مشكلة لاجئي سوريا، على الرّغم من حقيقة أنه، في تحقيقه لأمر أمريكا بقمع الثورة ضدّ عميلها بشار الأسد، هو أحد الجناة الرئيسيين في معاناة المسلمين في سوريا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مصطفى أمين

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوكرانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست