أردوغان غير قادر على وضع فاصلة للأحداث، وهو بالتأكيد لا يستطيع وضع نقطة لها
أردوغان غير قادر على وضع فاصلة للأحداث، وهو بالتأكيد لا يستطيع وضع نقطة لها

الخبر: عقد اجتماع أردوغان-ترامب، الذي كان مرتقباً لعدة أيام، في البيت الأبيض. (وكالات الأخبار)  

0:00 0:00
Speed:
May 24, 2017

أردوغان غير قادر على وضع فاصلة للأحداث، وهو بالتأكيد لا يستطيع وضع نقطة لها

 أردوغان غير قادر على وضع فاصلة للأحداث،

وهو بالتأكيد لا يستطيع وضع نقطة لها

(مترجم)

الخبر:

عقد اجتماع أردوغان-ترامب، الذي كان مرتقباً لعدة أيام، في البيت الأبيض. (وكالات الأخبار)

التعليق:

قبل الدخول في تفاصيل هذا الاجتماع، من المهم التأكيد على النقاط التالية: قام الرئيس التركي أردوغان بزيارة لروسيا والصين قبل زيارته لأمريكا. وقد سلطت الأضواء على موضوع سوريا خلال زيارته لروسيا، بينما ألقيت الأضواء على عدة صفقات اقتصادية خلال زيارته للصين. يبدو أن أردوغان قد نسي مدى عداء هذه الدول للإسلام والمسلمين! فبينما تقوم روسيا بقتل المسلمين في آسيا الوسطى، فإن الصين تضطهد المسلمين في تركستان الشرقية ولا تعطيهم حتى الحق في العيش. هذه هي الأنواع من الدول الإرهابية ومن الزعماء القتلة التي ينضم إليها أردوغان ويجتمع معها. يا للعار!

وفيما يتعلق بزيارة الرئيس أردوغان لأمريكا، فإن التعبير عن ذلك باختصار هو أنه انتهى بالإحباط. فإنه لم يحقق أياً من مطالبه. سواء أكانت في إنهاء دعم حزب الاتحاد الديمقراطي، أم في اعتقال غولن. ومع ذلك، فإنه وقبل زيارته لأمريكا، ثار أردوغان على مثل هذه القضايا فقط ليوجه رسالة إلى الشعب في تركيا. وكما هي العادة، فلقد فشل في وضع الإجراءات حول الموضوع.

وقد أدلى ببيانات مثل: "نحن ذاهبون إلى أمريكا من أجل وضع نقطة وليس لوضع فاصلة. يمكننا القدوم بشكل غير متوقع ليلاً (في إشارة إلى وحدات حماية الشعب). يمكننا الوقوف على أقدامنا"، حول تسليم أمريكا للأسلحة الثقيلة إلى حزب الاتحاد الديمقراطي ووحدات حماية الشعب. وبالطبع فلقد تمت ملاحظة مدى جدية تصريحاته خلال زيارته. وقد استغرق الاجتماع الذي عقد في المكتب البيضاوي عشرين دقيقة فقط، واستغرق نصف هذا الزمن على الأقل في الترجمة. باختصار! هذه هي قيمة أردوغان عند أمريكا! ومع ذلك كله، لا زال أردوغان يسعى لتحقيق الكرامة والشرف مع أمريكا.

إن أبرز البيانات الصحفية من أردوغان وترامب هي كالتالي:

لم يقل ترامب شيئاً بالنسبة لمطالب تركيا. وتحدث عن ماضي العلاقات التركية-الأمريكية. وقال أشياء جيدةً عن تركيا. ومن ناحية أخرى فهو لم يقل أية كلمة بخصوص المطالب التي أعربت عنها تركيا.

حتى بدون استخدام اسم وحدات حماية الشعب، ذكر ترامب ببساطة: "نحن نؤيد تركيا في الحرب ضد (الإرهاب) والجماعات (الإرهابية) مثل داعش وحزب العمال الكردستاني". مع هذا البيان، أكد ترامب أنهم - أمريكا - يتجاهلون مطالب تركيا بشأن حزب الاتحاد الديمقراطي ووحدات حماية الشعب، وسوف يستمرون في دعم حزب الاتحاد الديمقراطي في سوريا. ونتيجة لذلك، أصبح من الواضح أنه لا قيمة لكلمات أردوغان بأن "وحدات حماية الشعب ليست ملائمة لأن تذكر أو تعالج". فلقد ردت أمريكا بغطرسة على أردوغان برسالة مفادها "لا يمكنك أن تسأل عن قراراتي. أنت فقط هنا لتنفيذ قراراتي".

استخدم ترامب عبارة "العلاقة التي بيننا - تركيا وأمريكا - لا يمكن أن تهزم". ترامب مخطئ للغاية في هذا الصدد. فبإذن الله، فإن الخلافة على منهاج النبوة، هي القوة الوحيدة القادرة على هزيمتك أنت وأمثالك. وسترى ذلك قريباً إن شاء الله.

قال أردوغان: "إننا نطالب بالتعاون الوثيق مع المنظمات الرئيسية مثل الولايات المتحدة والأمم المتحدة وحلف الناتو ومجموعة الـ 20". ألا يعلم أردوغان أن هذه المؤسسات ما هي إلا مجرد أداة أمريكية لتحقيق مصالحها العالمية؟ هل نسي أيضاً حقيقة أن هذه المنظمات الفاسدة هي بيادق أمريكا في سفك دماء المسلمين واستغلالها؟

قال أردوغان أيضاً: "أولئك الذين يرغبون في التحول إلى الفوضى في سوريا والعراق واليمن وليبيا سيخسرون في نهاية المطاف، إن التضامن والتعاون الوثيق بين حليفين يكفي للقضاء على الشبكات القاتلة". يجب أن يسأل أردوغان: "ألا يعرف أن أمريكا في الواقع هي من تخلق الفوضى، وتثيرها في المناطق؟ فمن هو الذي يرهب البلدان والمجتمعات برأيه؟".

وقال أردوغان: "إن فوز الرئيس ترامب في الانتخابات الأخيرة أدى إلى إيقاظ مجموعة جديدة من الطموحات والتوقعات والآمال في منطقتنا. ونحن نعلم أنه بمساعدة الإدارة الأمريكية الجديدة، لن تضيع هذه الآمال سدىً...". كيف له أن يشيد بالدولة الاستعمارية التي تحطم المسلمين وتستغلهم وتدمر أراضيهم وتخلق عدم الاستقرار؟ كيف يعلق آماله على هذه الدولة؟

وبالتالي فإن أردوغان وأمثاله، لن يضعوا النقطة أبداً. فإنه ليس لديهم أية قيمة في نظر الكفار المستعمرين. ولا تستخدم أمريكا ونظيراتها من الدول إلا هذا النوع من الأشخاص كأدوات لتنفيذ مصالحهم. ومع ذلك، وعلى الرغم من كل هذا، فإن الوحيد القادر على وضع النقطة الأخيرة للعلاقات مع الكفار المستعمرين هو خليفة المسلمين الراشد في دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة القادمة قريباً بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست